بجٹ آئین کے مطابق پیش کیا گیا‘ مرتضیٰ سولنگی

جمعہ اپریل 23:47

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) سینیئر تجزیہ کار مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 91 کا نائن اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی بھی شخص کو وزیر بنا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے لازمی ہو گا کہ 6 مہینے کے اندر پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان چاہے قومی اسمبلی ہو یا پھر سینیٹ وہاں سے انہیں منتخب کرا لیں لیکن اگر وہ 6 ماہ کے اندر اندر منتخب نہیں کراتے تو ان کی وزارت خود بخود ختم ہو جائے گی۔

آئین کے اندر اس بات کی اجازت موجود ہے‘ یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ ہمارا آئین اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل بطور مشیر وزیراعظم بھی بجٹ پیش کر سکتے تھے کیونکہ ہمارے آئین میں ایک مشیر کی حیثیت بھی ایک وفاقی وزیر کے برابر ہے اس لیے وہ دونوں صورتوں میں بجٹ پیش کر سکتے تھے لیکن چونکہ ملک میں عام انتخابات قریب ہیں اس لیے اس معاملے پر سیاست زیادہ چمکائی جا رہی ہے ورنہ کوئی ایسی بات نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ کئی دنوں سے آئین کو دیکھ رہا ہوں لیکن مجھے یہ کہیں نظر نہیں آیا کہ آپ چھٹا بجٹ نہیں دے سکتے یا پھر صرف 4 ماہ کا دیں گے لیکن اس میں سیاست زیادہ ہو رہی ہے حالانکہ بہتر تو یہ ہے کہ بجٹ پر بحث کی جائے کیونکہ بجٹ بالکل آئین کے مطابق ہی پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے جو بجٹ دیتے ہیں اس کا بڑا حصہ وفاق سے آتا ہے اور اگر وفاق ہی نہیں دے گا تو پھر خیبرپختونخواہ والے اور دیگر صوبے جو اگلے ماہ اپنے صوبائی بجٹ کی تیاری کر کے بیٹھے ہیں وہ کیسے بجٹ پیش کریں گے۔