وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کے لئے 5661 ارب روپے حجم کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا

دفاعی بجٹ میں 200 ارب روپے سے زائد کا اضافہ، ٹیکسوں میں رعایت، عوامی سہولیات، زراعت، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس، ہائوس رینٹ سیلنگ اور ہائوس رینٹ الائونس میں 50 فیصد اضافہ، پنشن کی کم سے کم حد 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے‘ 75 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی کم سے کم پنشن 15 ہزار روپے ماہانہ کئے جانے کی تجویز اور کمزور طبقات کے سماجی تحفظ کیلئے متعدد اقدامات کا اعلان، زرعی، لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کے لئے ٹیکس مراعات کا اعلان، آئندہ مالی سال کے لئے ایف بی آر کے محصولات کی وصولی کا ہدف 4435 ارب روپے مقرر، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح 50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد اور 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی چھوٹ دینے کی تجویز ، ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے کمپوزٹ آڈٹ کا طریقہ متعارف کرایا جائے گا، نان فائلرز 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد نہیں خرید سکیں گے،کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 2023ء تک 25 فیصد تک لایا جائے گا, مقامی طور پر لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے 21 اقسام کے پرزوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس مکمل ختم، سٹیشنری کے لئے سیلز ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی موجودہ شرح کو بڑھانے کی تجویز ہے، فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے 100 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی ترقیاتی پروگرام مکمل کیا جائے گا وفاقی وزیر برائے خزانہ، مالیات اور اقتصادی امور ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کی قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر

جمعہ اپریل 23:47

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2018-19ء کے لئے ٹیکسوں میں رعایت، عوامی سہولیات، زراعت، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ اور کمزور طبقات کے سماجی تحفظ کیلئے متعدد اقدامات پر مبنی 5661 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس، ہائوس رینٹ سیلنگ اور ہائوس رینٹ الائونس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ زرعی، لائیو سٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں کے لئے ٹیکس مراعات کا اعلان اور دفاعی بجٹ میں 200 ارب روپے سے زائد کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 1030 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

12لاکھ روپے سالانہ یا ایک لاکھ روپے ماہانہ آمدنی پر وزیر اعظم کے خصوصی اعلان کردہ پیکیج کے تحت انکم ٹیکس استثنیٰ دیا گیا ہے، تنخواہ دار طبقہ کے لئے ٹیکسز کی شرح میں نمایاں کمی کی گئی ہے جس کے مطابق 4 لاکھ سے 8 لاکھ تک آمدن پر ایک ہزار روپے جبکہ 8 لاکھ سے 12 لاکھ روپے پر 2 ہزار روپے کا برائے نام انکم ٹیکس لیا جائے گا۔ صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے ملک بھر میں کھیلوں کے 100 سٹیڈیم بنائے جائیں گے۔

پنشن کی کم سے کم حد 6 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کرنے‘ 75 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی کم سے کم پنشن 15 ہزار روپے ماہانہ کئے جانے کی تجویز ہے۔ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے 100 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی ترقیاتی پروگرام مکمل کیا جائے گا۔ آئندہ مالی سال کے لئے ایف بی آر کے محصولات کی وصولی کا ہدف 4435 ارب روپے ہوگا۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی درآمد پر عائد کسٹم ڈیوٹی کی شرح 50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد اور 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔

ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے کمپوزٹ آڈٹ کا طریقہ متعارف کرایا جائے گا۔ نان فائلرز 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد نہیں خرید سکیں گے۔ بنکاری اور نان بنکاری کمپنیوں کے لئے سپر ٹیکس کی شرح سالانہ ایک فیصد کی شرح سے کم کردی جائے گی۔ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو 2023ء تک 25 فیصد تک لایا جائے گا۔ مقامی طور پر لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے 21 اقسام کے پرزوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس مکمل ختم کردیا جائے گا۔

سٹیشنری کے لئے سیلز ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔ سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی موجودہ شرح کو بڑھانے کی تجویز ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2018-19ء کا وفاقی بجٹ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا چھٹا بجٹ پیش کر رہا ہوں۔ پاکستانی قوم اور پارلیمنٹ کے لیے یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔

مشکلات کے باوجود ہماری حکومت نے 13 سال کی بلند ترین شرحِ نمو، کم ترین افراطِ زر اور معاشی استحکام حاصل کیا۔ پوری قوم اور پارلیمنٹ مبارک باد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کا پاس ہونا حکومتی مشینری کے تسلسل اور اقتصادی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، آئندہ منتخب حکومت کے پاس اختیار ہو گا کہ وہ بجٹ ترجیحات میں تبدیلی کر سکے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.4 فیصد رہی جو کہ پچھلے دس برسوں کی بلند ترین شرح ہے۔ اس کے مقابلے میں پچھلی حکومت کے دوران 2008-13 میں یہ شرح سالانہ 2.8 فیصد تھی۔ موجودہ مالی سال میںیہ شرح 5.8 فیصد ہے جو کہ پچھلے 13 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ اس شرح نمو کے ساتھ پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔

پچھلے پانچ سالوں میں معاشی ترقی کی بلند شرح کی بدولت معیشت کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ معیشت کا حجم مالی سال 2013ء کے 22,385 ارب روپے کے مقابلے میں مالی سال 2018 میں 34,396 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے جبکہ اِسی عرصہ میں فی کس آمدنی 129,005 روپے سے بڑھ کر 180,204 روپے ہو چکی ہے۔ آج ہم دُنیا کی 24 ویں بڑی معیشت ہیں۔ وفاقی وزیر نے قومی معیشت کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح 3.8 فیصد رہی جو کہ گزشتہ 18 سالوں کی بلند ترین شرح ہے۔

تمام بڑی فصلوں بشمول کپاس، چاول اور گنا کی پیداوار میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ بہتری حکومت کے گزشتہ پانچ بجٹ میں درست اور مناسب فیصلوں کی بدولت آئی۔ اس کے علاوہ سال 2015-16 میں میاں نواز شریف نے خصوصی کسان پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج کے تحت کھادوں اور زرعی ادویات کی قیمتیں کم کی گئی تھی اور زرعی قرضوں کی لاگت میں کمی اور چاول اور کپاس کے کاشتکاروں کی مالی مدد کی گئی تھی۔

اسی طرح صنعتی پیداوار میں رواں مالی سال کے دوران 5.8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ترقی میں اضافے کی یہ شرح پچھلے دس سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبہ میں ترقی کی شرح 6.4 فیصد رہی ہے۔ یہ بھی اس دہائی کی بہترین کارکردگی ہے۔ ہم نے گذشتہ پانچ برس میں اوسط افراطِ زر 5 فیصد سے کم رکھی ہے جو کہ 2008-13 میں 12 فیصد تھی۔ موجودہ مالی سال میں مارچ 2018 تک افراطِ زر کی شرح 3.8 فیصد رہی اور اشیائے خورد و نوش کیلئے یہ شرح صرف 2 فیصد تھی۔

مالیاتی خسارے کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ سال 2013 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 8.2 فیصد تھا۔ اس سال مالیاتی خسارہ 5.5 فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔ مالی سال 2012-13 میں ایف بی آر نے 1,946 ارب روپے ٹیکس وصولیاں کی تھیں جبکہ اس سال ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 3,935 ارب روپے ہے جوکہ پانچ سال پہلے کے مقابلے میں دگنا اضافہ ہے۔ جی ڈی پی میں ٹیکس کا تناسب مالی سال 2012-13 میں 10.1 فیصد تھا۔

رواں مالی سال میں یہ تناسب بڑھ کر 13.2 فیصد ہو جائے گا۔ اسٹیٹ بنک کا پالیسی ریٹ جون 2013 میں 9.5 فیصد تھا جو کم ہو کر 2017 میں 5.75 فیصد ہو گیا جو پچھلی کئی دہائیوں کی کم ترین شرح ہے۔ ایکسپورٹ ری فنانس کا ریٹ جون 2013 میں 9.5 فیصد تھا جو کہ جون 2016 میں کم ہو کر 3 فیصد ہو گیا۔ طویل المدتی فنانسنگ سہولت پر شرحِ سود 11.4 فیصد سے کم کر کے 5 سے 6 فیصد کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ سال پہلے زرعی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 336 ارب روپے تھی جو کہ فروری 2018 میں 570 ارب ہو چکی ہے جبکہ جون 2018 کے آخر تک قرضوں کی فراہمی 800 ارب تک متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبے کے قرضوں میں 383 فیصد اضافہ ہوا جو 2013 میں 93 ارب روپے سے بڑھ کر 2018 تک 441 ارب روپے تک بڑھ چکے ہیں۔ حکومت کی مسلسل کوششوں اور 180 ارب روپے کے پیکج کی بدولت رواں مالی سال کے پہلی9 ماہ میں برآمدات میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے اور صرف مارچ کے مہینے میں برآمدات میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح رواں مالی سال میں جولائی تا مارچ کے دوران درآمدت میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ درآمدات میں یہ غیر معمولی اضافہ مشینری کی درآمد،، صنعتی خام مال اور پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے باعث ہوا ہے۔ اس سال سی پیک کے کئی منصوبوں کی تکمیل کی بدولت جون 2018 کے بعد درآمدات میں واضح کمی متوقع ہے۔ حسابات جاریہ کے خسارہ کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں درآمدات میں اضافے کی بدولت جاری کھاتوں کا خسارہ 12 ارب ڈالر تک بڑھ گیا ہے۔

حکومت نے اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کئے ہیں جن کی بدولت 30 جون 2018 تک غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر موجودہ سطح سے بلند ہوں گے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری 2013 کے 1.3ارب ڈالر سے بڑھ کر 2017 میں 2.7ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ حالیہ سال کے پہلے 9 ماہ میں بیرونی سرمایہ کاری پچھلے سال کے اسی عرصے کے 1.9 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.1 ارب ڈالر رہی۔

اسی طرح 2013 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی گئی ترسیلات زر 13.9 ارب ڈالر تھیں جو رواں مالی سال کے اختتام تک 20 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 2013ء میں 6.3 ارب ڈالر تھے جو اکتوبر 2016 تک 19.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اس وقت سٹیٹ بینک کے پاس 11 ارب ڈالرکے قریب ذخائر موجود ہیں۔ سٹاک ایکسچینج کی کارکردگی کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی 2013 میں انڈیکس 19000 کی سطح پر تھا جبکہ موجودہ حکومت کی بہتر معاشی اصلاحات کی بدولت انڈکس مئی 2017 میں تاریخ کی بلند ترین سطح 53,124 پر پہنچ گیا۔

تاہم سیاسی ہلچل کی وجہ سے دسمبر 2017 تک انڈکس 37,919 تک گر گیا جو بہتر ہو کر اب تقریباً 46,000 پوائنٹس تک آ گیا ہے۔ ملک میں کاروباری سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں مارچ 2018 تک 8,349 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں جبکہ پچھلے سال یہ تعداد 5,883 تھی جبکہ گزشتہ پانچ سالوں میں 33,285 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں۔ اس کے مقابلے میں 2008-13 تک صرف 17,079 کمپنیاں رجسٹرہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ بہتر طرزِ حکومت، کاروبار دوست پالیسیوں اور سیکیورٹی حالات میں بہتری کی وجہ سے سرمایہ کار پاکستان کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ سی پیک کے تحت اہم شعبوں بشمول توانائی، انفراسٹرکچر، مواصلات، ٹیلی مواصلات، ٹیکسٹائل اور تعمیراتی شعبوں میں وسیع سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ اس سرمایہ کاری کی بدولت توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بہتری کی وجہ سے معیشت کی برق رفتار ترقی ممکن ہوئی ہے۔

اندرونی اور بیرونی ذرائع سے پچھلے پانچ سال کے عرصہ میں معیشت میں 223 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ہے جبکہ 2008 سے 2013 کے دوران صرف 140 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ سال قبل ہمارے شہروں اور دیہات میں بجلی 16 سے 18 گھنٹے غائب رہتی تھی۔ ہم نے الیکشن 2013 میں سب سے بڑا وعدہ یہی کیا تھا کہ ہم بجلی کا بحران ختم کر دیں گے۔

آج یہ وعدہ پورا ہو چکا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے پہلے 66 سالوں میں 20,000 میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت حاصل کی گئی جبکہ پچھلے 5 سال کے مختصر دور میں 12,230 میگا واٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی اصلاحات پیکیج کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کی رفتار مزید تیز کرنے کے لیے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حال ہی میں 5 نکاتی معاشی اصلاحات کے پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے ذریعے پاکستان کی تاریخ میں ٹیکس کی سب سے بڑی کمی کی گئی ہے۔

جس کے تحت انفرادی ٹیکس کی شرح کو کم کیا گیا ہے۔ 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن یا ایک لاکھ ماہانہ آمدن والے افراد کے لیے ٹیکس سے مکمل استثنیٰ کا اعلان کیا گیاہے جو کہ پچھلی حد سے تین گنا ہے۔ ایک لاکھ سے دو لاکھ ماہانہ آمدن والے افراد پر صرف 5 فیصد ٹیکس لاگو ہو گا۔ دو لاکھ سے چار لاکھ ماہانہ آمدن والے افراد پر ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہو گی۔ چار لاکھ ماہانہ سے زیادہ آمدن والے افراد پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد ہو گی۔

ٹیکس ریٹ میں کمی سے سب سے زیادہ فائدہ متوسّط اور تنخواہ دار طبقہ کو ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جن کی آمدنی قابلِ ٹیکس ہے اور وہ اپنے حصے کا ٹیکس ادا نہیں کر رہے، حکومت ان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کے لیے ڈیٹا مائننگ کے ذریعے نئے اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت اب ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں کے مالی ریکارڈ کی نگرانی کرے گی اور ٹیکس چوری کی شہادت ملنے کی صورت میں اُن کو نوٹس جاری کرے گی۔

مزید برآں ٹیکس ریٹ اتنے کم کر دئیے گئے ہیں اور ڈیٹا مائننگ کے ذریعے اثاثہ جات کی تلاش شروع کر دی گئی ہے، ہم لوگوں کو اندرون ملک غیر اعلانیہ اثاثے ڈکلیئرکرنے کا آخری موقع دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 30جون 2017 سے پہلے کمائی گئی غیر اعلانیہ آمدنی اور اندرون ملک اثاثے (سونا، بانڈ، جائیداد وغیرہ) 5 فیصد ادائیگی کے بعد ریگولرائیزکئے جا سکتے ہیں جبکہ غیر اعلانیہ رقم سے ڈالر خریدنے والے ڈالر اکائونٹ ہولڈرز بھی 2 فیصد ادائیگی سے انہیں ریگولرائیز کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزاد معیشت اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے 1992 میں اقیصادی اصلاحات کے قانون کو تحفظ بنایا گیا تھا اور اس سہولت کے تحت زرِ مبادلہ کی اندرون اور بیرون مُلک نقل و حرکت پر کوئی پوچھ گچھ نہیں تھی۔ تاہم کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے اس سہولت سے کچھ عناصر نے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ ہم نے قانون میں اس گنجائش کو تبدیل کیا ہے اور اب صرف گوشوارے جمع کرانے والے ہی فارن کرنسی اکائونٹس میں رقوم جمع کروا سکیں گے۔

تاہم ایک شخص کیلئے ایک لاکھ ڈالر سالانہ تک زرِ مبادلہ ملک میں لانے پر آمدنی کے ذرائع پر کوئی سوال نہیں کیا جائے گا اور ٹیکس سے استثنیٰ ہو گا۔ تاہم ایک لاکھ ڈالر سے بڑی رقوم پر لوگ ایف بی آر کو جواب دہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کو یہ سہولت دے رہے ہیں کہ وہ اپنے غیر ظاہر شدہ غیر ملکی اثاثہ جات 3 فیصد کی ادائیگی پر ڈکلیئر کر دیں اور اپنے لیکوئڈ اثاثہ جات کو5 فیصد پر ڈکلیئر کر دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ زمین اور جائیداد کی قیمتوں کو کم ظاہر کرنے کے عمل کو روکنے کیلئے ریاست کو اختیار ہوگا کہ وہ رجسٹری کے 6 ماہ کے اندر کوئی بھی زمین/ جائیداد کی اعلان کردہ قیمت سے دگنی قیمت پر اس جائیداد کو خرید سکے۔ اس کے علاوہ گوشوارے جمع نہ کرانے والے افراد 40 لاکھ روپے سے زائد قیمت کی جائیداد نہیں خرید سکیں گے۔ یکم جولائی 2018 سے ایف بی آر کے پراپرٹی ریٹ ختم کئے جا رہے ہیں۔

صوبوں کو ڈی سی ریٹس ختم کرنے کی بھی تجویز کر دی گئی ہے۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لئے جائیداد کی خرید پر ٹیکس صرف ایک فیصد ہو گا جس سے معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی۔ آئندہ مالی سال 2018-19ء کی بجٹ حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح میں 6.2 فیصد اضافہ، افراط زر کو 6 فیصد سے کم، جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس کی شرح 13.8 فیصد، بجٹ خسارہ کی شرح 4.9 فیصد، جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی خسارے کی شرح 63.2 فیصد تک رکھنا اور زرِمبادلہ کے ذخائر کو 15 ارب ڈالر سے بڑھانے کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے اقدامات کو بھی جاری رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وسط مدت کے لئے میکرو اکنامک پالیسی کا مقصد بہتر اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کے عدم توازن کو درست کرنا ہے۔ اگلے تین سال کے دوران مالیاتی خسارہ کم کیا جائے گا، مالیاتی پالیسی پر مناسب کنٹرول رکھا جائے گا اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، برآمدات کے فروغ، مالی استحکام، سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس ایز) اور توانائی کے شعبوں میں مزید اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

پی ایس ایز کا خسارہ کم کرنا اور ٹیکس کے دائرہ کار کو وسعت دینا ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے بجٹ کی حکمتِ عملی کے تحت ایف بی آر کی ٹیکس محصولات کا ہدف 4,435 ارب روپے مقرر کیاگیا ہے۔ اسی طرح حکومت سماجی تحفظ اور خاص طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں سرمایہ کاری کا عمل جاری رکھے گی اور اس کے تحت سماج کے پسماندہ طبقے کیلئے اقدامات جاری رہیں گے، بی آئی ایس پی کیلئے 125 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ مختلف مراعات کی مد میں 179 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لئے وزیر اعظم کی یوتھ سکیم جاری ہے اس مقصد کیلئی10 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لئے بجٹ میں 800 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جبکہ 230 ارب روپے کی اضافی رقم خود مختار اداروں، پبلک پرائیویٹ پارنٹر شپ اور دیگر ذرائع سے مہیا کی جائے گی۔ پانی،، سڑکوں، بنیادی ڈھانچے، بجلی کے شعبے اور سی پیک میں مزید سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 2018-19ء کے خصوصی اقدامات کے تحت ملک کی زرعی پیداوار میں اضافے، زرعی ٹیکنالوجی،، تحقیق و ترقی اور کھیتی باڑی میں بدلتے رجحانات میں بہتری کیلئے دوبارہ سیکنڈ گرین ریولیویشن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مراعات کی روایات کو ختم کرکے منڈیوں کی ضروریات پر مبنی پالیسی سازی نہ کی گئی اس وقت تک زرعی شعبے میں مثبت تبدیلی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے لئے دی جانے والی مراعات کو جاری رکھا جائے گا جس طرح گزشتہ بجٹ میں جن مراعات کا اعلان کیاگیا تھا ان میں شرحِ سود میں کمی، زرعی قرضہ جات کی حد میں اضافہ، کمبائن ہارویسٹر پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ، سورج مکھی اور کنولا کے بیج کی درآمد پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے خاتمے جیسے اقدامات شامل تھے۔ مالی سال 2018-19 کے دوران بھی یہ سب مراعات جاری رکھی جائیں گی اور حکومت نے کھاد پر سیلز ٹیکس میں کمی کی جو کہ ڈی اے پی پر 17 فیصد کی بلند شرح سے کم کرکے 4 فیصد کی گئی جبکہ یوریا پر 5 فیصد اور دیگر کھادوں پر 9 سے 11 فیصد تک کمی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یکم جولائی 2018ء سے تمام کھادوں پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کو یکساں کرتے ہوئے 2 فیصد تک کم کر دیا جائے گا۔ زرعی مشینری کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ زرعی مشینری پر جی ایس ٹی کی شرح کو موجودہ 7 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔ ڈیری اور لائیو سٹاک کیلئے بھی ٹیکس اور ڈیوٹی میں چھوٹ کی تجویز ہے۔ پاکستان کپاس کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے لیکن کپاس کی مصنوعات کی برآمد کے لحاظ سے پاکستان بہت پیچھے ہے۔

ہمیں برآمدات کی مالیت میں بہتری کیلئے معیار اور مقدار دونوں میں بے حد اضافے کی ضرورت ہے۔ اس امر کے پیشِ نظر کپاس کے شعبے کو وزارت ٹیکسٹائل سے لے کر وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے حوالے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت زرعی ٹیوب ویلوں کو کم قیمت پر بجلی فراہم کر رہی ہے۔ مالی سال 2018-19 کے دوران بھی یہ اسکیم ان علاقوں میں جاری رکھی جائے گی جہاں صوبائی حکومتیں اس سبسڈی کا نصف بوجھ برداشت کرنے پر متفق ہوں گی۔

زرعی تحقیق کے لئے امدادی فنڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت 5 ارب روپے سے ایگری کلچر سپورٹ فنڈ قائم کر رہی ہے۔ یہ فنڈ زرعی پیداوار میں اضافے کیلئے پودوں اور بیج کی جدید اقسام پر کی جانے والی تحقیق و ترقی کیلئے مالی معاونت فراہم کرے گا۔ اسی طرح حکومت نے ملک میں زرعی ٹیکنالوجی کی ترویج کیلئے 5 ارب روپے سے ایک علیحدہ فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور زرعی تحقیقی اداروں کو فعال کرنے اور ان کو عالمی معیار کے برابر لانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ 5 سالوں کے دوران ہم نے ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں کی برآمدات میں بہتری کیلئے کئی اقدامات کیے۔ یہ اقدامات برآمدات میں کمی کی فوری روک تھام کیلئے کئے گئے تھے۔ ہمیں اب وقتی اور عارضی حل ڈھونڈنے کی بجائے منڈیوں کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے سرے سے پالیسی سازی کرنی ہوگی۔ آئندہ لائحہ عمل کے طور پر معقول سبسڈیز کے ساتھ ساتھ پیداواری لاگت میں بھی کمی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

اس کا آغاز ہم اسی بجٹ سے کر رہے ہیں۔ پانچ بڑے برآمدی شعبوں ٹیکسٹائل، چمڑے اور کھیلوں کی مصنوعات، آلاتِ جراحی اور قالین بافی میں زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس کی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔ حکومت نے آلو کی برآمد پر فریٹ سپورٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ برآمدی صنعتوں میں بطور خام مال استعمال ہونے والی متعدد اشیاء پر ٹیکس کی شرح میں کمی تجویز کی گئی ہے۔

برآمدی شعبہ جات کے ری فنڈز کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کیلئے برآمدی شعبے کے لئے کی جانے والی درآمدات پر زیرو ریٹنگ کی طرف جا رہے ہیں تاکہ نئے ری فنڈز کلیمز میں واضح کمی آ سکے۔ یکم جولائی 2018 سے زیر التوا ری فنڈ کلیمز کو اگلے 12 ماہ کے دوران مختلف مراحل میں ادا کیا جائے گا۔ یکم جولائی 2018 کے بعد تمام نئے ری فنڈز کلیمز پر قانون کے مطابق ماہانہ ادائیگی کی جائے گی اور کوئی تاخیر نہیں ہو گی۔

حکومت پاکستان برآمدات کے فروغ کیلئے ایک نئے ایکسپورٹ پیکیج پر کام کر رہی ہے۔ جس سے ملکی برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔ مالیات کے شعبہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی طرف سے آنے والی ترسیلاتِ زر ملکی زرِ مبادلہ کا بڑا ذریعہ ہیں۔ قانونی ذرائع سے ترسیلات زر کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے آئندہ مالی سال کے لئے سمندر پار پاکستانیوں کیلئے انعامی اسکیم کے تحت ملک میں آنے والی وہ تمام ترسیلاتِ زر جو کہ کمرشل بنکوں، ایکسچینج کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے آئیں گی انہیں قرعہ اندازی کے ذریعے انعامات کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبہ کے لئے قرضوں کے ہدف کو 2013 کے 315 ارب روپے سے بڑھا کر 2018 میں 1001 ارب روپے کر دیا۔ آئندہ مالی سال کے لیے اس ہدف کو 1100 ارب روپے تک بڑھایا جا رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی فلم انڈسٹری کی ترقی کے لئے ایک جامع پیکج متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت ڈرامہ، فلم سازی اور سینما کے آلات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح کم کرکے 3 فیصد اور سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کیا جا رہا ہے۔

فلم اور ڈرامہ کے فروغ کیلئے فنڈ قائم کیا جا رہا ہے جس سے فلم انڈسٹری اور مستحق فنکاروں کو مالی امداد دی جائے گی۔ اس کے علاوہ فلم کے مختلف منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنے والے افراد اور کمپنیوں کیلئے 5 سال تک انکم ٹیکس پر 50 فیصد چھوٹ دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں بننے والی غیر ملکی فلموں پر عائد انکم ٹیکس پر 50 فیصد چھوٹ دی جا رہی ہے۔ ملک کے بڑے تجارتی مرکز کراچی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور ملکی آمدن میں اس کا بڑا حصہ ہے۔

2013 میں اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ(ن) حکومت نے بڑی کامیابی سے کراچی میں امن و امان کو بحال کرتے ہوئے کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ کیا اور معاشی سرگرمی کو فروغ دیا۔ جہاں لاہور اور ملتان کی میٹرو بس منصوبوں کو صوبائی حکومتوں نے فنڈ کیا وہیں کراچی میںگرین لائن ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کو وفاقی بجٹ سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ موجودہ مالی سال تک اس منصوبے پر 16 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

اس حوالے سے سڑکوں اور پلوں کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے جبکہ صوبائی حکومت ابھی تک بسوں کی خریداری کے لئے کنٹریکٹ جاری نہیں کر سکی۔ انہوں نے پیش کش کی کہ اگر سندھ حکومت کراچی کیلئے بسیں نہیں خرید سکتی تو وفاقی حکومت ایسا کرنے کو تیار ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلی حکومت کے دور میں یہ طے ہو ا تھا کہ وفاقی حکومت کے فور واٹر پراجیکٹ کی لاگت کا ایک تہائی حصہ ادا کرے گی۔

تاہم اس حوالے سے کوئی ادائیگی نہیں کی گئی اور یہ منصوبہ شروع نہیں ہو سکا تھا۔ یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی جس نے کے فور منصوبے کیلئے فنڈز کا اجراء کیا اور حکومت نے کل لاگت کا 45 فیصد ادا کرنے کی بھی رضا مندی ظاہر کی۔ یہ منصوبی تاخیر کا شکار ہے جس کی وجہ سے منصوبے کی لاگت میں 400 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ کراچی کو پانی کے شدید بحران کاسامنا ہے عرصہ دراز سے پیش اس مسئلے کے حل کے لئے آج وفاقی حکومت سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹ کی نئی اسکیم کا اعلان کر رہی ہے۔

یہ پلانٹ نجی شعبے کے ذریعے تعمیر کیا جائے گا اور یومیہ 50 ملین گیلن پانی فراہم کرے گا جس سے کراچی میں پینے کے پانی کے مسائل کافی حد تک کم ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نے کراچی کے لیے 25 ارب روپے کے خصوصی پیکجز کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس پیکیج میں بنیادی ڈھانچے اور سماجی شعبے کی سہولتوں کے علاوہ سڑکوں، پلوں اور آگ بجھانے کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے اور اس مقصد کے لیے موجودہ سال کے بجٹ میں 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کے لیے اس مد میں 5 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود کے لئے حکومت ایک نئے پروگرام کا آغاز کر رہی ہے جس کا نام 100، 100، 100 ہے۔ یہ وفاقی حکومت کا عہد ہے کہ 100 فیصد بچوں کے سکول میں داخلے، 100 فیصد بچوں کی سکول میں حاضری اور 100 فیصد بچوں کے کامیابی سے فارغ التحصیل ہونے کو یقینی بنائے گی۔ بچوں کو فراہم کی جانے والی غذائیت کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کے 39 فیصد بچے خوراک اور غذائیت کی کمی کا شکار ہیں جس کے تدارک کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور وزیر اعظم کی ہدایت پر اس مقصد کے لئے 10 ارب روپے کی رقم سے جامع پروگرام شروع کیا جائے گا جس سے بچوں میں نشونما کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔

سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ہماری حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2008 سے 2013 کے دوران پی ایس ڈی پی کی مد میں خرچ کئے جانے والے 1300 ارب روپے کے مقابلے میں 3,000 ارب روپے خرچ کئے جو کہ 230 فیصد کا اضافہ ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ معیشت کے مختلف شعبوں میں ترقیاتی پروگرام کے ذریعے سرمایہ کاری جاری ہے، سی پیک کے تحت زیادہ تر سرمایہ کاری توانائی، سڑکوں، مواصلات کے بنیادی ڈھانچے اور گوادر پر ہے۔

سی پیک کے تحت ہماری حکومت نے شمالی پاکستان کو گوادر سے ملانے کے لیے سڑکوں کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ ٹرانس پاکستان کوریڈور کے تحت موٹرویز اور خصوصی اقتصادی زونز بنائے جا رہے ہیں جن سے روزگار کے مواقع، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، حوشحالی اور ترقی متوقع ہے۔ کراچی سے لاہور موٹروے،، تھاکوٹ، حویلیاں موٹر وے، ایسٹ بے ایکسپریس وے گوادر اور بہت ساری دیگر سڑکوں کے ذریعے پاکستان میں گلگت بلتستان، کے پی کے، پنجاب،، بلوچستان اور سندھ کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جار ہا ہے، جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔

سی پیک کے تحت کراچی سے پشاور تک ٹرینوں کی رفتار کو 3 گنا تک بڑھانے کا منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے جس سے ٹرینوں کی موجودہ اوسط رفتار جو 55 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اسے سال 2021 تک 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت کراچی تا پشاور اور ٹیکسلا تا حویلیاں ریلوے ٹریک کو ڈبل کیا جائے گا۔ اس پر 900 ارب روپے سے زیادہ کی لاگت آئے گی۔ توانائی کے بارے میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔

اب تک 12,230 میگاواٹ اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کی ہے۔ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 969 میگاواٹ کا منصوبہ مکمل کیا ہے جس کا 90 فیصد حصہ زیرِ زمین ہے۔ تربیلا پاور اسٹیشن میں چوتھے یونٹ کا اضافہ کیاگیا ہے جس سے بجلی کی پیداوار میں 1410 میگاواٹ کا اضافہ ہوا۔ حویلی بہادر شاہ، بھکی اور بلوکی میں 3600 میگاواٹ کے آر ایل این جی سے چلنے والے پلانٹس لگائے گئے ہیں۔

ساہیوال اور پورٹ قاسم میں واقع پاکستان کے پہلے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس فعال ہوچکے ہیں۔ 680 میگاواٹ کے چشمہ نیوکلیئر پلانٹس C-III اور C-IV بھی فعال ہو چکے ہیں۔ 1000 میگاواٹ سے زیادہ متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے بھی لگائے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال 2018-19 کے دوران بجلی کے شعبے میں 138 ارب روپے کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔

آبی وسائل کے شعبہ کے شعبہ کی ترقی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے عوام کو دیامر بھاشا ڈیم کی حالیہ منظوری کے تاریخی موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، جس پر کُل لاگت 474 ارب روپے آئے گی۔ ڈیم میں 64 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی۔ اس ڈیم سے ہماری پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 38 دن سے بڑھ کر 45 دن ہو جائے گی۔ اس منصوبے کے لیے مالی سال 2018-19 کے دوران 23.7 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

پانی کے شعبے میں مجموعی سرمایہ کاری 2017-18 کے 36.7 ارب سے بڑھ کر 2018-19 میں 79 ارب روپے ہو جائے گی۔ انہوں نے قومی شاہرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ملک میں شاہراہوں کا ایک موثر نظام معاشی ترقی کا ضامن ہے۔ حکومت نے شاہراہوں پر سرمایہ کاری کو 2012-13 کے 50 ارب روپے کے مقابلے میں سال 2017-18 میں 320 ارب روپے تک بڑھا دیا۔ گذشتہ 5 سالوں کے دوران اس سلسلے میں پی ایس ڈی پی سے 842 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے بجٹ کے علاوہ 500 ارب روپے کی فنانسنگ کا بندوبست بھی کیا گیا۔

اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں 3655 کلومیٹر نئی شاہراہیں تعمیر کی گئیں جس میں 1785کلومیٹر کی موٹر ویز شامل ہیں۔ بجٹ 2018-19 میں ہم نے شاہرات کے لیے 310ارب روپے تجویز کیے ہیں۔ گذشتہ پانچ سال میں پاکستان ریلوے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ سال 2018-19 کے بجٹ کیلئے 35 ارب روپے کی بجٹ گرانٹ کے علاوہ ترقیاتی سرمایہ کاری کیلئے 39 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گوادرکی بندرگاہ کو عالمی تجارت کیلئے مکمل فعال کرنے کا خواب اب بتدریج حقیقت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ سال2018-19 کے بجٹ میں ہمارا بنیادی مقصد جاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے ضروری وسائل مختص کرنا ہے۔ ان منصوبوں میں گوادر ایئر پورٹ اور اس سے ملحقہ سڑکوں کی تعمیر، پورٹ کی سہولیات بشمول، صاف پانی کا پلانٹ، 50 بیڈز کے ہسپتال کو 300 بیڈز تک اًپ گریڈ کرنا، گوادر ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کیلئے انفراسٹرکچر کی تعمیر، سی پیک انسٹی ٹیوٹ کا قیام اور ڈیموں کی تعمیر شامل ہے۔

2018 کے پی ایس ڈی پی میں گوادر کی ترقی کے 31 منصوبوں پر 137 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اعلیٰ تعلیم،، بنیادی صحت کی سہولیات اور نوجوانوں کیلئے پروگرامز کے حوالے سے مالی مدد جاری رکھے گی۔ اس مقصد کیلئے ہم پی ایس ڈی پی میں ایچ ای سی کیلئے 57ارب روپے ، بنیادی صحت کیلئے 37 ارب روپے جبکہ یوتھ پروگرام کیلئے 10 ارب روپے مختص کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت 50 لاکھ سے زائد خاندانوں کو مالی امداد فراہم کر رہی ہے جبکہ پاکستان بیت المال اور غربت کے خاتمے کے فنڈ کیلئے بھی رقوم مختص کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت ملک بھر میں صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے کھیلوں کے 100 نئے اسٹیڈیم تعمیر کرے گی۔ صحت کے شعبہ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صحت کے شعبہ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ہیں۔

عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب عوام کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کا اجراء کیا گیا جس کے تحت 30 لاکھ خاندانوں کو 41 اضلاع میں سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں سے صحت کی معیاری سہولیات بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔اس پروگرام کا دائرہ ملک کے تمام اضلاع تک پھیلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر صوبوں کے ساتھ مل کر نیشنل ہیپاٹائٹس سٹریٹجک فریم ورک تیار کیا گیا۔ ہیپاٹائٹس کی دوا کو کم ترین سطح پر لایا گیا اور ملک میں اس کی ادویات کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ بچوں اور خواتین کے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کے تحت ویکسین کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا گیا اور اس کو ذخیرہ کرنے اور ترسیل کے نظام کو عالمی معیار کے مطابق آئی ایس او سے تصدیق شدہ بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بچوں میں بیماریوں کی تشخیص اور روک تھام کے لئے ٹیکنالوجی کی بدولت کئی اہم مسائل کا سادہ، آسان اور سستا حل موجود ہے۔ اگر اساتذہ کو مناسب موبائل اپیلی کیشنز مہیا کی جائیں تو وہ طالب علموں کی آنکھوں میں دیکھ کر امراض کی تشخیص کر سکتے ہیں۔ اس کے تحت امراض کی تشخیص ابتدائی مرحلے پر ہو سکتی ہے اور آسان اور سستا علاج ممکن ہے۔

جلد ہی یہ پروگرام ابتدائی طور پر پاکستان کے پسماندہ اضلاع میں شروع کئے جائیں گے اور پھر تمام سرکاری سکولوں تک یہ سہولت دی جائے گی۔ مناسب وقت آنے پر ہم پرائیویٹ سکولوں کو بھی یہ سہولت مہیا کرنے پر زور دیں گے۔ خصوصی علاقہ جات کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے 44.7 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی سہولت کیلئے آج ہم لیپا ٹنل کی تعمیر کے خصوصی منصوبے کا اعلان کرتے ہیں۔ فاٹا کیلئے 24.5 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی لیے 100 ارب روپے کی لاگت سے خصوصی ترقیاتی پروگرام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سال 2018-19 میں 10 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ امن عامہ کی صورتحال کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ آج پاکستان گزشتہ15سالوں کی نسبت زیادہ پرامن ہے۔

ہمارے فوجی اور نیم فوجی اداروں نے ملک کیلئے دلیری سے لڑتے ہوئے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ میں ان جوانوں، افسروں اور شہریوں کو سلام پیش کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہمارے آج اور ہمارے بچوں کے کل کیلئے اپنی جانوں کی قربانی دی۔ فوجی آپریشن والے علاقوں میں سے لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

ہم ان کی قربانیوں کو یاد رکھیں گے۔ حکومت اس بات کی یقین دہانی کروانا چاہتی ہے کہ ضرورت کی اس گھڑی میں ان کی بحالی اور تعمیرنو کیلئے حکومت ہرممکن کوشش کرے گی۔ بجٹ 2018-19 میں اس مقصد کیلئے 90 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سال 2018-19ء کے بجٹ کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال 2018-19ء میں وفاقی حکومت کی کل آمدن کا تخمینہ 5661 ارب روپے ہے جو پچھلے سال نظرثانی شدہ تخمینوں کے 4992 ارب روپے سے 13.4 فیصد زائد ہے۔

2018-19ء میں ایف بی آر کے محصولات 4435 ارب روپے ہوں گے جبکہ رواں مالی سال میں اس کا تخمینہ 3935 ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل آمدن میں سے صوبائی حکومتوں کا حصہ سال 2017-18ء کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے 2316 ارب روپے کے مقابلے میں 2590 ارب روپے ہے جو تقریباً 11.8 فیصد کا اضافہ ہے۔ صوبائی حکومتیں ان وسائل کو انسانی ترقی اور عوام کے تحفظ پر خرچ کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو آمدن میں سے حصہ دینے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس موجودہ سال کے 2676 ارب روپے کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے مقابلے میں 2018-19ء میں 3070 ارب روپے دستیاب ہوں گے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سال 2017-18ء کے 4857 ارب روپے کے نظرثانی تخمینہ جات کے مقابلے میں سال 2018-19ء کے کل اخراجات کا تخمینہ 5246 ارب روپے لگایا گیا ہے جو پچھلے سال کی نسبت8 فیصد زیادہ ہے۔

قرضوں کی ادائیگی کے لئے سال 2018-19ء کے بجٹ میں 1620 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ 2017-18ء میں اس کے لئے 1526 ارب روپے تھے۔سال 2017-18ء کے 999 ارب روپے کے مقابلے میں دفاعی بجٹ کے لئے 1100 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں سال 2018-19ء کے لئے 1030 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ موجودہ مالی سال میں پی ایس ڈی پی کا نظرثانی شدہ تخمینہ 750 ارب روپے ہے۔

اس سال صوبائی سرپلس 274 ارب روپے رہنے کی توقع ہے جبکہ آئندہ برس 286 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ ان تمام آمدن اور اخراجات کے اندازوں کے مطابق بجٹ خسارہ مالی سال 2017-18ء میں جی ڈی پی کے 5.5 فیصد کے مقابلے میں 2018-19ء کے دوران جی ڈی پی کا 4.9 فیصد ہو گا۔ وزیر خزانہ نے انفرادی ٹیکسوں سے متعلق ریلیف اقدامات کا ذکر کیا جن سے ٹیکس گزاروں کو کاروبار کرنے میں آسانی ہو گی اور ٹیکس کلیکٹرز کے صوابدیدی اختیارات کم ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کو زحمت سے بچانے کے لئے کمپوزٹ آڈٹ کا طریقہ بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ تمام ٹیکس قوانین کے تحت ٹیکس معاملات کا آڈٹ بیک وقت یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ آٹو میٹک سٹے دیئے جانے پر ٹیکس واجبات کا 25 فیصد ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس شرط کو اب نرم کر دیا گیا ہے اور اب ادائیگی کی حد 10 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت اے ڈی آر سی کا فیصلہ نہ تو ایف بی آر اور نہ ہی ٹیکس گزار کے لئے تسلیم کرنا لازمی ہے۔ تجویز ہے کہ اے ڈی آر سی کے فیصلے کو ٹیکس گزار اور ایف بی آر دونوں کے لئے بائنڈنگ کر دیا جائے اور اے ڈی آر سی کے ارکان کی کمپوزیشن تبدیل کر کے کمیٹی میں ایف بی آر کے نمائندگان کے علاوہ ہائی کورٹ کا ریٹائرڈ جج اور ٹیکس ماہرین شامل کئے جائیں۔

ٹیکس ریلیف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ جائیداد کی خرید و فروخت کے سودوں کا اندراج خریدار اور فروخت کنندہ کی جانب سے ظاہر کی جانے والی ویلیو پر کرنے اور ایف بی آر کے نوٹیفائی کردہ نرخ کو ختم کرنے کی تجویز ہے۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ وفاق کی سطح پر فروخت کنندہ اور خریدار پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کے بدلے میں خریدار کی جانب سے ظاہر کی گئی ویلیو پر ایک فیصد ایڈجسٹ ایبل ایڈوانس ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ یہ بھی تجویز ہے کہ نان فائلرز کو 40 لاکھ سے زائد ظاہر شدہ مالیت والی جائیداد خریدنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اسی طرح صوبوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سٹیمپ ڈیوٹی اکٹھا کرنے کے صوبائی ریٹس ختم کر کے خریدار اور فروخت کنندہ کی جانب سے ظاہر کی جانے والی ویلیو پر مجموعی طور پر ایک فیصد صوبائی ٹیکس بطور سٹیمپ ڈیوٹی اور کیپٹل ویلیو ٹیکس اکٹھا کریں۔

انڈر ڈیکلریشن اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی روک تھام کے لئے تجویز ہے کہ ایف بی آر کو کسی بھی جائیداد کی فروخت کے چھ ماہ کے اندر اندر اس جائیداد کی ظاہر کی گئی ویلیو سے ایک خاص حد تک زیادہ رقم ادا کر کے خریدنے کی اجازت دی جائے جو مالی سال 2018-19ء کے لئے 100 فیصد، مالی سال 2019-20ء کے لئے 75 فیصد اور مالی سال 2020-21ء اور بعد کے لئے 50 فیصد کئے جانے کی تجویز ہے۔

تجویز ہے کہ ان اقدامات کے نفاذ کے لئے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں مناسب و معاون شقیں شامل کی جائیںگی اور تفصیلی طریقہ کارکے متعلق نوٹیفکیشن بعد میں جاری کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے سپر ٹیکس کی شرح میں مرحلہ وار کمی کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ سپر ٹیکس کا نفاذ 2015ء میں آئی ڈی پیز کی مدد کے لئے کیا گیا تھا جسے 2016ء اور 2017ء میں جاری رکھا گیا۔

بہت سی تنظیموں نے موثر ٹیکس ریٹ کم کرنے کے لئے اس ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس وقت یہ ٹیکس 4 فیصد کے حساب سے بینکنگ کمپنیز اور 3 فیصد کے حساب سے نان بینکنگ کمپنیز پر لاگو ہے جن کی آمدنی 500 ملین روپے سے زیادہ ہے۔ تجویز ہے کہ سپر ٹیکس مالی سال 2017-18ء کے لئے جاری رکھا جائے تاہم مالی سال 2018-19 ء کے لئے بینکنگ اور نان بینکنگ کمپنیوں دونوں کے لئے شرح ہر سال ایک فیصد کم کر دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لئے ٹیکس کی شرح میں کی گئی کمی کی پالیسی کے مطابق حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں کمی لانے کے لئے 2018ء کی 30 فیصد شرح کو کم کر کے 2023ء تک 25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کارپوریٹ ٹیکس ریٹ 2019ء میں 29 فیصد اور بعد ازاں 2023ء تک ہر سال ایک فیصد کی شرح سے کم کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ غیر تقسیم شدہ منافع جات کے حوالے سے اگر سال کے اختتام کے چھ ماہ کے اندر اندر بعد از ٹیکس منافع کا کم از کم 40 فیصد حصہ تقسیم نہیں کیا جاتا ہے تو اس صورت میں اکائونٹنگ منافع پر 7.5 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔

کئی پیشہ ورانہ تنظیموں نے ان پابندیوں کو نرم کرنے پر اصرار کیا ہے تاکہ کاروباری ادارے سرمایہ کاری کے لئے آمدنی بچا کر رکھ سکیں۔ اس لئے تجویز ہے کہ 7.5 فیصد کے حساب سے لاگو ٹیکس کم کر کے 5 فیصد کر دیا جائے اور بعد از ٹیکس منافع کی لازمی ڈسٹری بیوشن کی شرح کو40 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دیا جائے۔ ریئل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے منافع جات پر عائد ٹیکس کی موجودہ شرح کو 12.5 فیصد سے کم کر کے 7.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

نان فائلرز کی بینک ٹرانزیکشنز پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی، نان فائلرز کی جانب سے نان کیش بینکنگ ٹرانزیکشنز پر 0.6 فیصد کی شرح سے ٹیکس کو کم کر کے 0.4 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ موجودہ قانون کے مطابق 10 ہزار روپے سے زائد مالیت کی خدمات اور 25 ہزار روپے سے زائد مالیت کی اشیاء کی ادائیگی پر ٹیکس کی کٹوتی لازمی ہے۔ گذشتہ سالوں میں افراط زر کے رحجان کے باعث تجویز ہے کہ ٹیکس کٹوتی کے لئے حد بڑھا کر خدمات کے لئے 30 ہزار روپے کی ادائیگی اور اشیاء کے لئے 75 ہزار روپے تک کی ادائیگی کر دی جائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت نئی صنعت لگانے، توسیع کے لئے مشینری خریدنے اور مشینری کی توسیع اور بی ایم آر کے لئے 65D, 65C, 65B اور 65E کی شقوں کے تحت ٹیکس کریڈٹس کی اجازت ہے تاہم سرمایہ کاری میں تیزی لانے کے لئے تجویز ہے کہ ان ٹیکس کریڈٹس کے لئے اہلیت کی آخری تاریخ میں 30 جون 2021ء تک توسیع دے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے کی درآمد پر لاگو ٹیکس کی شرح 6 فیصد کو کم کر کے 4 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ ایس آئی یو ٹی، عزیز طبیٰ فائونڈیشن، سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ اور الشفاء آئی ہاسپٹل کو انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔ محصولات کے حوالے سے اعلان کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ نان فائلرز کے لئے کاروباری لاگت بڑھانے کی غرض سے ان پر بلند شرح سے ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ نان فائلرز کی جانب سے اشیاء کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس ریٹس بڑھانے کی تجویز ہے جس کے تحت کمپنی کی صورت میں اشیاء کی فروخت پر موجودہ 7 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ریٹ بڑھا کر 8 فیصد کرنے اور نان کارپوریٹ کیسز کی صورت میں موجودہ 7.75 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ریٹ بڑھا کر 9 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

ٹیکس نہ ادا کرنے کی حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں قابل ٹیکس آمدنی کی حد میں 1.2 ملین روپے تک اضافہ کرنے کی وجہ سے گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں کافی کمی واقع ہو گی۔ اس لئے تجویز ہے کہ 400,000 سے 800,000 روپے کی آمدنی پر 1000 روپے اور 800,000 سے 1,200,000 روپے آمدنی پر 2000 روپے کا برائے نام انکم ٹیکس عائد کر دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز قوانین متعارف کرائے جانے کی تجویز ہے۔ قرآن پاک کی طباعت میں استعمال ہونے والے کاغذ پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ، ایل این جی کی درآمد پر ویلیو ایڈیشن ٹیکس میں چھوٹ اور ایل این جی کی درآمد اور آر ایل این جی کی سپلائی پر موجودہ 17 فیصد کی شرح سے عائد سیلز ٹیکس کو کم کر کے 12 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں گروتھ کو فروغ دینے کے لئے ہر قسم کی تمام کھادوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 3 فیصد تک کم کرنے کی تجویز ہے۔ مزید برآں کھاد کے کارخانوں کو فیڈ سٹاک کے طور پر گیس کی فراہمی پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھاد فیکچررز کی جانب سے فیڈ سٹاک کے طور پر استعمال کی جانے والی ایل این جی کی درآمد پر عائد پانچ فیصد سیلز ٹیکس کو مکمل ختم کرنے کی تجویز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ذاتی استعمال کے کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور نوٹ بکس پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ہے تاہم کمپیوٹر پارٹس پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ نہیں ہے۔ مقامی طور پر لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز کی اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ کے فروغ کے لئے تجویز ہے کہ ان کی تیاری اور اسمبلنگ میں استعمال ہونے والے 21 اقسام کے پرزہ جات کی درآمد پر سیلز ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیشنری آئٹمز کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے پانچویں شیڈول کے تحت زیرو ریٹڈ کیا گیا تھا جسے بعد ازاں فنانس ایکٹ 2016ء کے ذریعے واپس لے لیا گیا۔ تجویز ہے کہ سٹیشنری کے لئے زیرو ریٹنگ بحال کر دی جائے تاکہ مقامی سٹیشنری سیکٹر کو فروغ ملے اور مقامی اسٹیشنری آئٹمز کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی بنیاد اور معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے حوالے سے اضافی ٹیکس کی موجودہ شرح کو 2 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اس اقدام سے نہ صرف غیر دستاویزی معیشت کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ محاصل میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ سگریٹس پر ایف ای ڈی کی موجودہ شرح کو بڑھا کر Tier-I سگریٹ پر 3964، Tier-II سگریٹ پر 1770 اور Tier-III سگریٹ پر 848 روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ لائیو سٹاک شعبہ کی ترقی کے لئے تجویز ہے کہ افزائش کے لئے بیلوں کی درآمد پر عائد 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی واپس لے لی جائے۔

اس وقت لائیو سٹاک سیکٹر میں استعمال ہونے والی فیڈز کی امپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی کی دستیاب رعایتی شرح کو 10 فیصد سے مزید کم کر کے 5 فیصد کرنے اور ڈیری فارمز میں استعمال ہونے والے پنکھوں کو کارپوریٹ ڈیری ایسوسی ایشن کے ارکان کو تین فیصد تک رعائتی شرح پر فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ پولٹری سیکٹر کے حوالے سے فیڈ کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی رعایتی شرح کو پولٹری فیڈ کے رجسٹرڈ مینوفیکچررز کے لئے 10 فیصد سے مزید کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

صحت کے شعبہ کے لئے ریلیف اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ بچوں میں جسمانی اور ذہنی نشوو نما میں کمی کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے عالمی شراکت کاروں کے تعاون سے فوڈ فورٹی فیکیشن پروگرام کے تحت فلور ملیں عوام کو فروخت کئے جانے والے آٹے میں ضروری غذائی اجزاء ملائیں گی تاہم آٹے میں ان اہم غذائی اجزاء کی مناسب مقدار شامل کرنے کو یقینی بنانے کے لئے تجویز ہے کہ مائیکرو فیڈر ایکوئپمنٹ کی درآمد پر عائد 3 فیصد کسٹم ڈیوٹی واپس لے لی جائے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں کینسر کے مرض کے علاج کی مد میں سہولت دینے کے لئے حکومت نے درآمدی سطح پر ادویات پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ دے دی ہے تاہم ایک واحد دوائی Tasigna تھی جس پر عائد 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی