سینٹ اجلاس : اپوزیشن اراکین نے بجٹ یکسر مسترد کردیا ،احتجاجاً

واک آئوٹ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور اپوزیشن لیڈر شیری رحمن نے حکومت کی جانب سے چھٹے بجٹ کو عوام کے حقوق پر شب و خون مارنے کے مترادف قرار دیدیا

جمعہ اپریل 23:48

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) سینیٹ میں اپوزیشن اراکین نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے احتجاجاً ایوان سے واک آئوٹ کیا اس موقع پر سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور اپوزیشن لیڈر شیری رحمن نے حکومت کی جانب سے چھٹے بجٹ کو عوام کے حقوق پر شب و خون مارنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

جمعہکے روز سینیٹ اجلاس میں بجٹ پیش کئے جانے کے موقع پر سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ نیشنل اکنامک کونسل میں چاروں صوبوں کے آٹھ ممبران اور وفاق کے چار ممبران ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ کے اندر تین صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے احتجاجاً واک آئوٹ کیا تھا کیونکہ صوبوں کے ساتھ ترقیاتی فنڈز پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ موجود نہیں تھے اور کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے میٹنگ ختم ہوگئی انہوں نے کہا کہ جو بجٹ لایا جارہا ہے اس کو فنانشل دہشت گردی قرار دیا جائے گا انہوں نے کاہ کہ قومی اسمبلی سے یہ کہا جاتا ہے کہ سینیٹ کو بجٹ میں اختیار نہیں دیا جاتا ہے کہ سینیٹ کے ممبران منتخب ہوکر نہیں آئے ہیں آج میرا یہ سوال ہے کہ ملک کا بجٹ غیر منتخب شخص نے پیس کیا ہے جس کو چند گھنٹے قبل سامنے لایا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کے ذمہ دار صدر مملکت بھی ہین اور انہیں غیر آئینی اقدام کرنے سے انکار کرنا چاہیے تھا۔

(جاری ہے)

اپوزیشن لیڈر شیری رحمن نے کہا کہ یہ کوئی قانون نہیں ہے کہ جو حکومت اپنا 20 دن کا ٹائم پورا کررہی ہے اور عوام کو 22 ارب کا قرضہ دے کر جارہے ہیں اس کا کوئی آئینی ‘ سیاسی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت سے پوچھا جائے کہ آئین کے مطابق حکومت ‘ آٹھواں این ایف سی ایوارڈ پیش کیوں نہیں کیا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت خطرناک راستے پر چل پڑی ہے حکومت 20 دنوں کیلئے راتوں رات وزیر بنا رہی ہے انہوں نے کہ اکہ حکومت ہماری نسلوں کو مقروض کررہی ہے یہ ووٹ کا تقدس پامال کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے حکومت کے نمائندے کشکول لے کر پوری دنیا میں پھر رہی ہے حکومت عوام کے ہقوق پر شب خون ماررہی ہے انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے نمائندے ہیں اور بجٹ کو یکسر مسترد کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے چار ماہ کا بجٹ پیش کرنے کی اجازت ہے ہم یہ بجٹ پیش کرنے کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیں گے اور اپوزیشن اس بجٹ کو مسترد کرتی ہے اس موقع پر سینیٹ اجلاس سے اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً واک آئوٹ کیا۔