کوئٹہ،نااہل حکومت نے نااہلی پر مبنی بجٹ پیش کرکے لٹیرے ، سرمایہ داروں اور مراعات یافتہ طبقے کو مزید مراعات سے نوازا ہے،پاکستان ورکرز کنفیڈریشن

غریب و محنت کش طبقے کیلئے کوئی ریلیف نہیں دیاگیا ہے، ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر میںتقریباً 20 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میںبھی ہوشرباء اضافہ ہونے کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میںصرف 10فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے، محمد رمضان اچکزئی، خان زمان، بشیر احمد رند ، محمد رفیق لہڑی ودیگر کا بیان

جمعہ اپریل 23:49

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان ورکرز کنفیڈریشن بلوچستان((رجسٹرڈ) کے رہنمائوں محمد رمضان اچکزئی، خان زمان، بشیر احمد رند ، محمد رفیق لہڑی، عبدالمعروف آزاد، حاجی عزیزاللہ، محمد قاسم، جانان خان، محمد یوسف،عزیز احمد شاہوانی اورعابد بٹ نے ایک مشترکہ اخباری بیان کے ذریعے کہا کہ نااہل حکومت نے نااہلی پر مبنی بجٹ پیش کرکے لٹیرے ، ڈاکوئوں ، سرمایہ داروں اور مراعات یافتہ طبقے کو مزید مراعات سے نوازا ہے اور غریب و محنت کش طبقے کیلئے کوئی ریلیف نہیں دیاگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر میںتقریباً 20 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میںبھی ہوشرباء اضافہ ہونے کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میںصرف 10فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے ممبران نے اپنی تنخواہوں میں150 فیصد اضافہ کیا ، عدلیہ کے ججز کی تنخواہیں 10 سی15 لاکھ ، کارپوریشن کے سربراہوں اور بعض خصوصی سرکاری افسران کی تنخواہیں 20 لاکھ روپے سے ایک کروڑ روپے تک مقرر ہیں ایسے میںمحنت کشوں کی طرف سے تنخواہوں میں50 فیصداضافے کا مطالبہ حق بجانب ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک غیر منتخب وزیر خزانہ سے بجٹ پیش کرواکرنااہل حکمرانوں نے ووٹ کی خود بے عزتی کی ہے بلکہ اسمبلی میں نااہل حکمرانوں کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑ کر پوری حکمران پارٹی "ن" سے نااہل پارٹی بن چکی ہے اور وزیر اعظم اوردیگر وزراء اپنے آپ کو نااہلوں اور عدالتوں سے مفرور لوگوں کے ساتھ جوڑ کر جرائم کی سہولت کاری کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مزدوروں کو چاہیے کہ وہ مستقبل کے الیکشن میں ان نااہل حکمرانوں کا ووٹ کے ذریعے محاسبہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ایمنسٹی اسکیم کا متعارف کیا جانا لٹیروں اور ڈاکوئوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں تمام لگژری بنگلوں، پلازوں، بڑی بڑی گاڑیوں، سامان تعیش، بیرون ممالک دوروں، بیرون ملک جائیدادوں اور مخصوص آمدنی سے اوپر تمام آمدنی ریاست کی آمدنی قرار دے کر ملکی معشیت کو سہارا دیا جائے، بیرون ملک جائیدادوں، اثاثوں اور ڈالرز کو واپس لانے اور اندرون ملک ارب پتیوں سے پورا ٹیکس لے کر ریاست کے ذمے بیرونی قرضہ90ارب ڈالر اور اندرونی قرضے ادا کرکے خود انحصاری کے ساتھ ملک میں اونچ نیچ کو ختم کرکے تمام شہریوں کو آئین کے آرٹیکل9 کے تحت زندہ رہنے کا حق دیا جائے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا فنڈ اسمبلی کے ممبران کے ذریعے بانٹنے کا مقصد اس فنڈ کے ذریعے ووٹ خریدناہے جبکہ غریب ، لاچاراور یتیم شہری اس فنڈ سے مستفید نہیں ہورہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت چائنہ کی طرف سے ملک میں جو سرمایہ کاری آرہی ہے اس میں بڑے پیمانے پر کک بیکس اور چائنہ کے ہنرمندوں اور ورکرز کو روزگار فراہم کیا جارہا ہے جبکہ اپنے ملک کے نوجوان مردوخواتین روزگار سے محروم ہوکر زندہ درگور ہورہے ہیں۔کنفیڈریشن کے رہنمائوں نے کہا کہ وزارت خزانہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کے 165 ارب روپے پرائیویٹ مالکان سے وصول کرچکے ہیں لیکن اس رقم کا کہیں ذکر نہیں ہے جبکہ یہ رقم ورکرز کی وفلاح وبہبود کیلئے جمع کی گئی ہے اور اس فنڈ کو ورکرز ویلفیئر فنڈ کے اکائونٹ میں کسی منافع بخش اسکیم میں رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں ورکرز کو ڈیتھ گرانٹ، میرج گرانٹ اوراسکالر شپ وغیرہ نہیں مل رہیں اور ورکرز کے فنڈ کو سیاسی گدھ لوٹ رہے ہیں۔انہوں نے بجٹ کو مجموعی طور پر مراعات یافتہ طبقے کا بجٹ قرار دے کر مسترد کیا اور کہا کہ پورے ملک کے مزدور اس نااہل حکمران طبقے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کریں اور یوم مئی پر پورے ملک کے محنت کش موجود ہ مراعات یافتہ لٹیرے حکمرانوں سے اظہار نفرت کریں گے۔