موجودہ پارلیمنٹ آئینی طور پر پورے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کی مجاز ہیں ، قانونی ماہرین

جمعہ اپریل 23:36

لاہور۔27 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) مختلف قانونی ماہرین نے نئے مالی سال کے بجٹ پر اپنے ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ کو آئینی طور پر پورے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کی مجاز ہیں ، آئین و قانون کی رو سے چار یا چھ ماہ کا بجٹ پیش نہیں ہو سکتا پورے مالی سال کا بجٹ ہی پیش کیا جانا ہی لازم ہوتا ہے ۔

سینئر قانون دان ،،اے این پی کے مرکزی رہنما احسان وائیں نے کہا کہ بجٹ میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی موجودہ دستیاب وسائل میں بہتر بجٹ پیش کرنے کی ایک کاوش کی گئی ہے جس میں عام غریب لوگوں اور ملازمین کو ریلیف دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ سالانہ بارہ لاکھ آمدن کمانے والے شہریوں کو ٹیکس چھوٹ دی گئی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا یہ نکتہ نظر قانونی طور پر درست نہیں کہ اسمبلی چار ماہ کا بجٹ پیش کرے، ٹیکس افیئر کے ماہر قانون دان عامر شاہین ملک نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ کو بادی النظر میں الیکشن بجٹ کہا جا سکتا ہے،جس میں بظاہر عام عوام کو مختلف سیکٹرز میں ریلیف دیا گیا ہے، ٹیکسسز کی مد میں چھوٹ دی گئی ہے تاہم جو ریلیف دیا گیا ہے ،وہ ایک ہاتھ سے دیا گیا ہے اسے اگلی حکومت دوسرے ہاتھ سے واپس نہ لے لے۔

(جاری ہے)

ایسا نہ ہو کہ پھر سپلیمنٹری بجٹ میں پھر نئے ٹیکسسز عائد نہ کر دیئے جائیں، آپ ،،سپریم کورٹ بار کے نائب صدر قمر زامان قریشی نے کہاکہ موجودہ دستیاب کم وسائل میں عوام کو مختلف مدوں میں ریلیف درحقیقت الیکشن بجٹ ہے دستیاب وسائل میں اس قدر ریلیف کس طرح ممکن ہوگا اسکے لیئے مزید وسائل درکار ہونگے۔