دفتر خار جہ میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی ،ْ بھارتی فورسزکی جانب سے ایل او سی پر پدھر سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج

بیگناہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ایک گھنائونا، انسانی وقار اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے منافی اقدام ہے ،ْ ترجمان دفتر خارجہ

جمعہ اپریل 23:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو جمعہ کو دفتر خارجہ طلب کر کے بھارتی فورسزکی جانب سے ایل او سی پر پدھر سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج کیاہے ۔ ہفتہ کو دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق 26 اپریل کوکنٹرول لائن پر پدھر سیکٹر میں بھارتی قابض فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں براملہ گائوں کے دو بیگناہ شہری نذیر اور رفیق شہید ،ْ دیگر دو افراد زخمی ہوئے۔

ڈائریکٹر جنرل (جنوبی ایشیاء و سارک) ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کرکے بھارتی فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ پر احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق ضبط و تحمل کے مطالبہ کے باوجود بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔

(جاری ہے)

دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی قابض فورسز ایل او سی اور ورکنگ بائونڈری پر مسلسل بھاری ہتھیاروں سے سویلین آبادیوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

بھارت نے رواں سال کے دوران اب تک کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر1000 سے زائد جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس کے نتیجہ میں اب تک 23 بیگناہ افراد شہید اور107 زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بیگناہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا ایک گھنائونا، انسانی وقار اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے منافی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہے۔ بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے اور اپنی فورسز کو سیز فائر معاہدے کی پاسداری کا پابند بنائے۔