بلوچستان اسمبلی اجلاس

کیا یہ درست ہے کہ کوئٹہ گریٹر واٹر سپلائی سکیم کے تحت مانگی ڈیم سے کوئٹہ پانی لانے کا منصوبہ ہے،رحیم زیارت وال ڈیم کی تعمیر کے لئے نوے ایکڑ اراضی حاصل کرکے مالکان کو مطلوبہ رقم ادا کردی گئی ہے،میر امان اللہ نوتیزئی

جمعہ اپریل 23:30

ص۶ کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) بلوچستان اسمبلی کا اجلاس قریباً 55منٹ کی تاخیر سے سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ وقفہ سوالات میں اپوزیشن اراکین کے پوچھے گئے تمام سوالات نمٹادیئے گئے جبکہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے توجہ دلائو نوٹس دیتے ہوئے وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے استفسار کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ کوئٹہ گریٹر واٹر سپلائی سکیم کے تحت مانگی ڈیم سے کوئٹہ پانی لانے کا منصوبہ ہے مانگی ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں فردی اور زیر کاشت زمینیں حکومت کے حوالے کی گئی ہیں اور جو گھر پانی کے نیچے آرہے تھے انہیں خالی کردیاگیا ہے ۔

علاقہ مکینوں کے ساتھ آب نوشی اور آبپاشی کے ساتھ ساتھ غیر ہموار زمینوں کو ہموار کرنے اورکاشت کے قابل بنانے کا وعدہ کیا تھا اسی طرح ہسپتال اور سکولز قائم کرنے کا بھی وعدہ ہوا تھا نیز کیا یہ بھی درست ہیں کہ مانگی ڈیم کمانڈ ایریا میں ایئر ویژن کم کرنے کے لئے ایکو فارسٹری چیک ڈیم اور دیگر تمام ضروری اقدامات کا وعدہ ہوا تھا اگر ان باتوں کا جواب اثبات میں ہے تو مذکورہ بالا علاقے کے لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں پر اب تک کتنا عملدرآمد ہوا ہے اس کی تفصیل دی جائے ۔

(جاری ہے)

وزیر پی ایچ ای نے میر امان اللہ نوتیزئی توجہ دلائو نوٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مانگی ڈیم سے کوئٹہ80ملین گیلن پانی فراہم کرنا ہے ڈیم کی تعمیر کے لئے نوے ایکڑ اراضی حاصل کرکے مالکان کو مطلوبہ رقم ادا کردی گئی ہے ضرورت کے بعد سپل وے میں آنے والا پانی علاقے کے عوام کو زمینداری کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔بعدازاں سپیکر نے اپنی رولنگ میں کہا کہ چونکہ محرک کی تسلی نہیں ہوئی ہے ان کے تحفظات اب بھی باقی ہیں اس لئی30تاریخ کے اجلاس میں دوبارہ تفصیلی جوابات لے کر آئیں انہوںنے اپوزیشن لیڈر کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ وزیر کے ساتھ چیمبر میں بیٹھ کر اس مسئلے پر بات کریں ۔

مشترکہ مذمتی و تعزیتی قرار داد پیش کرتے ہوئے حسن بانو رخشانی نے کہا کہ یہ ایوان مورخہ24اپریل کومیاں غنڈی اور ایئر پورٹ روڈ کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز پر یکے بعد دیگر ے کئے جانے والے تین دھماکے جس کے نتیجے میں فورسز کے کئی اہلکار شہید اور زخمی ہوئے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور ساتھ ہی شہداء کی مغفرت ولواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہے نیز یہ ایوان صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت اور ان کے بچوں کی تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے ۔

قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے حسن بانو رخشانی نے کہا کہ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں شہید و زخمی ہونے والے اہلکاروں کے ورثاء کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ضروری ہے کہ ان متاثرہ خاندانو ں کو بروقت معاوضوں کی ادائیگی اور ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔ اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ ٹھیک ہے کہ ہم جنگ زدہ زون میں رہتے ہیں واقعات ہوں گے مگر جو واقعات ہوتے ہیں ان کے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ امداد کا طریقہ کار تیز کیا جائے لواحقین کی امدادمیں تاخیر کا ازالہ کیا جائے اور ان کی بروقت امداد کو یقینی بنایا جائے ۔

جے یوآئی کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز پیش آنے والے واقعات اندوہناک ہیں جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں مختلف واقعات میں شہید و زخمی ہونے والوں کو معاوضہ بہت مشکل سے ملتا ہے سابقہ حکومتو ں میں اس جانب توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے آج متاثرہ خاندانوں کو مشکلات کا سامنا ہے اس لئے اس جانب توجہ دینی ہوگی ۔

وزیر داخلہ و قبائلی امور میر سرفراز بگٹی نے حکومت کی جانب سے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ صوبائی حکومت کی جتنی بھی فورسز ہیں ان کے اہلکاروں کو معاوضے کے حوالے سے ایک پالیسی موجود ہے وفاقی فورسز کا اپنا طریقہ کار ہے اس اسمبلی نے اس حوالے سے ایکٹ پاس کیا ہے ہماری بھرپور کوشش ہے کہ شہداء کے ورثاء کا ہر ممکن خیال رکھتے ہوئے نہ صرف انہیں بروقت معاوضوںکی ادائیگی یقینی بنائیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کی مدد بھی کی جائے معاوض.ں کی ادائیگی کی پالیسی موجود ہے ایک کمیٹی جس میں ڈپٹی کمشنر ، ڈی پی او ، ڈی ایچ او اور دیگر اراکین ہوتے ہیں وہ تمام کیسز کا جائزہ لے کر بھیج دیتے ہیں مگر بعض کیسز میں جانشینی سرٹیفکیٹ کے معاملے پر مختلف مسائل سامنے آتے ہیں جس کی وجہ سے کیسز میں تاخیر ہوجاتی ہے ۔

اب اس حوالے سے ایک نیا میکانزم بھی بنارہے ہیں ۔ سپیکر راحیلہ حمید خان درانی نے اپنی رولنگ میں وزیر داخلہ و قبائلی امور کے جواب کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کے حوالے سے پالیسی موجود ہے محکمہ کام کررہا ہے مگر محکمے کو چاہئے کہ مزید اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے تجویز دی کہ محکمے کے اندر ایک خصوصی سیل اس مقصد کے لئے ہو جو صرف اس معاملے کو دیکھے انہوں نے کہا کہ سسٹم میں کوئی کمی ہے تو دور کرنے کی ضرورت ہے لواحقین کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اگر اس سلسلے میں کوئی پیچیدگی ہے تو وہ بھی دور کرنی چاہئے تاکہ شہداء کے لواحقین کی بروقت امداد ممکن ہوسکے اس حوالے سے ایک ٹائم فریم رکھنے کی ضرورت ہے۔

بعدازاں انہوں نے قرار داد کو منظوری کے لئے ایوان کے سامنے رکھا جس کی ایوان نے متفقہ طو رپر منظوری دے دی ۔اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن نصراللہ زیرئے نے مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے مختلف سرکاری محکمہ جات میں تعینات انجینئرز جو باقاعدہ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے سول سروس کا حصہ بن جاتے ہیں اس کے لئے اگلے گریڈ میں ترقی کے لئے تاحال کوئی سروس سٹرکچر مرتب نہیں کیا گیا ہے خاص کر بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں تعینات ایس ڈی اوز پاکستان انجینئر نگ کونسل اور سول سروس رولز کے مطابق باقاعدہ گریڈ 18اور19میں ترقی نہیں پاسکتے اس طرح ایک جانب تمام محکموں میں جمود ہے جبکہ دوسری جانب فریش فارغ التحصیل بیچلرز کے لئے ملازمت کا حصول تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے اور نہ ہی مختلف محکموں میں خدمات سرانجام دینے والے انجینئرز باقاعدہ ترقی پاسکتے ہیں اب جبکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد جو محکمہ جات صوبے کو ڈیوالو(Devolve)ہوئے ہیں کے لئے پاکستان انجینئرنگ کونسل اور صوبائی انجینئرنگ کونسل کے طرز پر صوبائی انجینئرنگ کونسل ایکٹ بنانا ضروری ہوگیا ہے اس لئے صوبائی حکومت پاکستان انجینئرنگ کونسل کی طرز پر فوری طور پرصوبائی انجینئرنگ کونسل ایکٹ وضع کرنے کو یقینی بنائے تاکہ صوبہ کے انجینئرز کے لئے ترقی کی راہ ہموار ہوسکے اور ان میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کاخاتمہ ممکن ہوسکے ۔

قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ مختلف صوبائی محکمے جن میں انجینئرنگ کا شعبہ ہے وہاں انجینئرز کی ترقی کے حوالے سے باقاعدہ کوئی سروس سٹرکچر ہی نہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ایکٹ میں ان انجینئرز کی پروموشن کے حوالے سے باقاعدہ ڈھانچہ موجود ہے مگر اس پر عملدآمد نہیں ہوتا اس لئے سب انجینئرز کا علیحدہ سے سروس سٹرکچر بنایا جائے حکومت اس اہم مسئلے پر توجہ دے صوبائی حکومت یا تو اپنا صوبائی ایکٹ بنائے یا پھر پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ایکٹ میں جو پالیسی موجود ہے اس پر عملدآمد کو یقینی بنائے تاکہ اس اہم مسئلے کو حل کیا جاسکے ۔

وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر باقاعدہ یقین دہانی کی بات ہے توہم اس بناء پر اس وقت یہ نہیں دے سکتے کیونکہ یہ ایک ٹیکنیکل معاملہ ہے ہمیں باقی صوبوں کا جائزہ لینا ہوگا کہ انہوںنے اس حوالے سے کس قدر قانون سازی کی ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئرزمرک خان اچکزئی نے کہا کہ یہ ایک اہم قرار داد ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں کیونکہ ایسے بھی انجینئرز ہیں جن کی پچیس سال میں بھی پروموشن نہیں ہوئی اس لئے قرار داد کی تو ہم حمایت کرتے ہیں مگر جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ صوبائی سطح پر ہم اپنا کونسل بنائیں تو یہ ممکن نہیں ہے وفاقی سطح پر پاکستان انجینئرنگ کونسل قائم ہے جو تمام صوبوں میں فعال ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جتنے بھی محکمے ہیں وہاں انجینئرز کی پروموشن کا معاملہ یکساں نہیں بعض محکموں میں جلدی انجینئر کو ترقی مل جاتی ہے بعض محکموں میں مسائل ایک نوعیت کے ہیں بعض محکموں میں دوسری نوعیت کے اس لئے اس حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جائے جو انجینئرز کے سروس سٹرکچر اور دیگر تمام تمام امور کا جائزہ لے ۔

جے یوآئی کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ انجینئرز ہی نہیں پولیس اور جیل خانہ جات میں بھی سروس سٹرکچر کے ایشوز چل رہے ہیں اس لئے میری تجویز ہے کہ وہ بھی اس میں شامل کیا جائے ۔۔ڈاکٹر حامدخان اچکزئی نے کہا کہ انجینئرز کا سروس سٹرکچر نہیں اس کا جائزہ لے کر اقدامات اٹھانے چاہئیں صوبائی کونسل کیسے بناسکتے ہیں اگر انجینئرنگ کونسل بنائیں تو پھر ہم اپنا پی ایم ڈی سی بھی بنالیتے ہیں ۔

قرار داد کے محرک عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے لئے پروموشن اہمیت کا حامل معاملہ ہوتا ہے انجینئرز کے حوالے سے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ایکٹ میں ڈھانچہ موجود ہے اس پر عملدرآمد نہیں ہوا ۔ بعدازاں سپیکر نے اپنی رولنگ میں کہا کہ اس معاملے پر مزیدبات کرنے کی ضرورت ہے قانون نے اجازت دی تو ایکٹ بنالیا جائے گا بصورت دیگر کمیٹی اس حوالے سے تمام امور کا جائزہ لے کر اس معاملے کو دیکھے انہوںنے قرار داد کو ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی رولنگ دی ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن اسمبلی سردار اختر مینگل نے مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں کثیر الجہتی غربت کی شرح80فیصد سے زائد ہے لیکن گوادر لسبیلہ ، کیچ اور پنجگورمیں غربت کی شرح اس سے کہیں زیادہ ہے جس کی بناء پر ان کا شمار شدید غربت سے متاثرہ اضلاع میں ہوتا ہے جبکہ گزشتہ دس سالوں سے گوادر میں اربوں مالیت کے جائیداد کی خریدو فروخت ، گوادر ڈیپ سی پورٹ اور دیگر تعمیراتی و ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن اس سے ملحقہ اضلاع کو براہ راست کوئی مالی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے ۔

قرار داد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ ضلع گوادر میں سمندری وسائل ، پورٹ جائیداد کی خریدوفروخت ، رسل و رسائل تیل و گیس اور دیگر وفاقی و صوبائی نجی کاروباروں پر 15فیصد مکران ڈویلپمنٹ ٹیکس عائد کرنے کے سلسلے میں فوری طور پر قانون سازی کرنے کو یقینی بنائے تاکہ مذکورہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی مذکورہ اضلاع میں غربت کے خاتمے ، تعلیم ، روزگاراور آمدورفت کے ذرائع بہتر بنانے پر خرچ کئے جانے کو یقینی بنایا جاسکے ۔

قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ قدرت کی طرف سے بلوچستان امیر ترین خطہ ہے یہاں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے جو یہاں آباد قوم کی غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں مگر بدقسمتی سے حقوق میں ہم سب سے آخر غربت بدحالی اورتعلیمی پسماندگی میں سب سے آگے ہیں 1952ء میں سوئی سے دریافت ہونے والی گیس پورے ملک میں کارخانے لگائے گئے ہماری گیس کی آمدنی سے حکومت نے وسائل کمائے مگر بدقسمتی سے آج بھی صوبہ گیس کی سہولت سے محروم ہے گیس ڈویلپمنٹ سرچارج میں بھی ہم سے زیادتی کی گئی سیندک منصوبہ ہمارے سامنے ہے سونا چاندی اور کاپر کے ذخیرے سے صوبے کو صرف دو فیصد حصہ ملتا ہے ایسے میں ہم کسی سے کسی بہتری کی امید نہیں رکھتے ۔

اب سی پیک جو ایک عالمی منصوبہ بن گیا ہے کے بڑے چرچے ہیں مگر آج تک ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس معاہدے میں کیا ہے کسی کو اربوں ڈالر کے منصوبے کے بارے میں کچھ علم نہیں ایک سڑک کے سوا بلوچستان کو اب تک کچھ نہیں ملا گوادر میں پینے کے پانی کی قلت ہے ٹینکر مالکان نے چیک بائونس ہونے پر ہڑتال کر رکھی ہے انہوں نے زور دیا کہ قرار داد منظور کرکے مذکورہ علاقوں کی ترقی کے لئے پندرہ فیصد مختص کیا جائے۔

بی این پی کے میر حمل کلمتی نے کہا کہ کراچی میں پورٹ بننے کے بعد کے پی ٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے توسط سے کراچی میں ترقیاتی کام ہوئے گوادر پورٹ اتھارٹی بنانے کی یقین دہانی تو کرائی گئی مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا اس وقت پینے کا پانی سب سے اہم مسئلہ ہے حکومت اس مد میں اربوں روپے خرچ کرتی ہے مگر مسئلے کا مستقل حل نہیں نکالا جاتانیشنل پارٹی کی ڈاکٹر شمع اسحاق نے کہا کہ گوادر میں پینے کا پانی ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے لوگ پندرہ ہزار روپے میں ایک ٹینکر پانی خریدتے ہیں ملحقہ اضلاع میں بھی یہی صورتحال ہے انہوں نے بھی پندرہ فیصد مذکورہ علاقوں کی ترقی کے لئے مختص کرنے کی حمایت کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ گڈانی شپ یارڈ سے وفاقی حکومت سالانہ اربوں روپے کماتی ہے جبکہ صوبائی حکومت کو بمشکل بیس پچیس کروڑ روپے کی آمدن ہوتی ہے ہم نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ شپنگ یارڈ میں بلوچستان کا حصہ پچاس روپے فی ٹن سے بڑھا کر 8سو کیا جائے اور مزدوروں کے لئے رہائشی کالونی بنائی جائے مگر ان مطالبات پر عمل نہیں ہوا ۔

میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے گوادر کے حوالے سے بڑی باتیں کیں مگر عملی طور پر فوٹو سیشن اور گوادر کی ترقی کو صرف کاغذات تک محدود رکھا دبئی کے طرز پر گوادر میں بھی کھارے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لئے کم از کم دو پلانٹ لگائے جائیں جمعیت العلماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہم قرار دادوں کے حوالے سے وفاق کے رویے سے دلبرداشتہ ہیں اسمبلی میں قرار دادوں پر عملدآمد کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی گئی تھی مگر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی یہ قرار داد بھی منظور ہوجائے گی مگر اس پر عملدرآمد کیسے کرائیں گے حکومت اور اپوزیشن جماعتیں اس قرار داد کی منظوری کے بعد اسلام آباد جا کر اس پر عملدرآمد کرائیں ۔

یہ موجودہ حکومت کا آخری مہینہ ہے مگر اب تک سی پیک سے ہمیں کچھ نہیں ملا ہمارے وزرائے اعلیٰ سی پیک معاہدوں سے متعلق پروگراموں میں جاتے رہے ہیں مگر بلوچستان کے لئے کچھ حاصل نہیں کرسکے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ گوادر کی ترقی اور نہ ہی گوادر کے حوالے سے وہاں کے نمائندوں کوا عتماد میں لیاگیا ۔۔سی پیک میں بھی بلوچستان کے لئے کچھ نہیں رکھا گیا جبکہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام ہورہے ہیں وفاقی حکومت بھی بلوچستان کو نظر انداز کررہی ہے جس کے خلاف اقتصادی کونسل کے حالیہ اجلاس سے تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے واک آئوٹ کیا وعدوں کے باوجود گوادر اور بلوچستان کے لئے کچھ نہیں ہوا ۔

اس قرار داد پر کمیٹی بنا کر وفاق سے بات کی جائے جمعیت کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ ہمارے وزرائے اعلیٰ سی پیک کے حوالے سے چین کے دورے کرتے رہے مگر ہمارے لئے اس میں کچھ نہیں سی پیک کی شاہراہیں ہمارے لئے نہیں بلکہ چینی کمپنیوں کے لئے ہیں پشتونخوا میپ کے نواب ایاز خان جوگیزئی نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ گوادر کی ترقی صوبے کے عوام کے لئے نہیں بلکہ چین کے مفاد میں ہے جو اسے مختلف مقاصد کے لئے استعمال کرے گا چین جس طرح آگے بڑھ رہا ہے اس سے امریکہ اور یورپ کو پریشانی ہے انہوںنے کہا کہ گوادر میں کئی کئی ماہ تک حکومت واٹر ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرتی ہے جس پر ماہانہ تیس کروڑ روپے سے زائد کے اخراجات آتے ہیں اب تک گوادر میں پانی کا انتظام نہیںہوسکا گوادر میں مقامی لوگوں کے لئے کچھ نہیں دوسری جانب ہم غیر ہنر مند ہیں ایسے میں چینیوں کی آمد کے بعد ہمارے لئے روزگار کے مواقع نہیں ہوں گے ۔

صوبائی وزیر صوبائی وزیر میر عاصم کرد گیلو نے قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہمیت کی حامل قرار داد ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں کیونکہ بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری انتہائی زیادہ ہے اور غربت و بے روزگاری بلوچستان میں وباکی طرح پھیلی ہوئی ہے مشرق ، مغرب ، شمال جنوب بلوچستان میں ہر طرف پسماندگی ، غربت اور بے روزگاری ہے حب کو چھوڑ کر صوبے کے کسی ضلع میں کارخانے اور صنعتیں نہیں گوادر سے ہماری امیدیں ہیں مگر وہاں 95فیصد زمینیں بیچ دی گئی ہیں صرف پانچ فیصد زمینیں باقی ہیں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستا ن کو توجہ نہیں دے رہی وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے منصوبے مسلسل نظر انداز کئے جاتے رہے ہیں اس سال بھی سات سو ارب روپے کی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے لئے ایک پیسہ بھی نہیں رکھا گیا سی پیک کے تحت بلوچستان میں منصوبے شروع نہیں کئے گئے میں نے موجودہ اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال کی موجودگی میں احسن اقبال سے کہا تھا کہ اگر آپ نے بلوچستان میں سی پیک کے تحت ایک اینٹ بھی رکھی ہے تو ہمیں بتادیںاس وقت صوبے میں شاہراہوں کے جومنصوبے ہیں اکثر پہلے سے چلے آرہے ہیں نئے منصوبے نہیں دیئے جارہے اور پہلے سے پی ایس ڈی پی میں جو اپرووڈ سکیمات ہیں ان کے لئے بھی رقم نہیں رکھی جاتی ۔

اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ صوبے کی ترقی کے حوالے سے ہمارے تحفظات کافی پرانے ہیں ہمیں وفاق کی اکائی کی حیثیت سے جو اختیارات ملنے چاہئیں وہ نہیں ۔ صوبے کے حقوق کے حصول پر کوئی دورائے نہیں ہے ہماری گیس سے دوسرے صوبوں میں کارخانے سبسڈی پر چل رہے ہیں اور حالت یہ ہے کہ ہمار ے اپنے صوبے میں گیس نہیں ہے دوسرے صوبوں کی گیس کی قیمت بھی ہم سے زیادہ ہے نواب ثناء اللہ زہری نے سی پیک میں بلوچستان کے بارہ ارب ڈالر کے منصوبے شامل تو کرائے مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ قرار دادوں کی اہمیت نہیں اس ایوان اور اس کی قرار دادوں کی اہمیت ہے جن پر ہم نے عملدرآمد کرانا ہے ۔

تاہم وفاق جو وعدے کرتا ہے ان پر عمل نہیں کرتا ڈیمز کی تعمیر کے لئے تین سو ارب روپے کا اعلان کرنے کے بعد بجٹ میں ایک سو60ارب روپے کی ایلوکیشن کی گئی مگر بہت کم پیسے دیئے گئے زیارت کے لئے ایک ارب روپے کا اعلان کرکے صرف پندرہ کروڑ روپے دیئے گئے اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت اور جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ کھڑی ہیں ۔

صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے قرار دادکی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گزشتہ پانچ سال کی ورکنگ کی جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ پانچ سال کے دوران وفاقی حکومت نے وفاقی پی ایس ڈی پی میں بلوچستان کے لئے پانچ ہزار پانچ سو اسی ارب روپے کے منصوبوں کا اعلان کیا ۔ جبکہ صرف تین سو80ارب روپے جاری ہوئے جن میں سے ہمیں صرف280ارب روپے ملے سی پیک ہمارا معاشی مستقبل ہے میرے خیال میں سی پیک کے بارے میں نواز شریف ، شہباز شریف اور احسن اقبال کے سوا کسی کو کچھ علم نہیںکہ اس میں کیا ہے ۔

دو سال قبل وفاقی حکومت سے گوادر کے لئے قانون سازی کے حوالے سے بات کی تھی تاہم پھر ہم قانون ساز ی نہ کرسکے اب بھی وقت ہے کہ ہم گوادر کے لئے قانون سازی کرے اس کے لئے ہمیں باہر سے آئینی اور قانونی ماہرین کی معاونت حاصل کرنا پڑی تو بھی کریں گے۔انہوںنے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کو اہمیت نہیں دیتی کوئی وزیراعظم ایک دن سے زیادہ یہاں قیام نہیںکرتا ۔

وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گوادر سمیت پورے بلوچستان کے لئے مختلف شعبوںمیں قانون سازی ہونی چاہئے سی پیک پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہئے وفاقی حکومت گوادر اور سی پیک سمیت دیگر حوالوں سے ہمارے تحفظات دور کرے سی پیک کی باتیں تو ہوتی ہیں اور چین سے فنڈز بھی لئے گئے مگر بلوچستان میں سی پیک کے حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں جو سڑکیں تعمیر کی گئیں وہ بھی دس سے بارہ سال پرانے منصوبے ہیں چند ایک شاہراہیں سابق آرمی چیف کی دلچسپی کی وجہ سے مکمل ہوئیں وزیراعلیٰ بنے چار ماہ ہوگئے ہیں اس دوران یہ بات زیادہ محسوس ہوئی کہ وفاق بلوچستان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا پانچ ہزار ارب روپے کا اعلان کرکے صرف 280ارب روپے دیئے گئے اگر نو فیصد کے حساب سے بھی فنڈز دیتے تو ہمیں ایک ہزار ارب روپے ملنے چاہئے تھے ماضی میں بلوچستان میں جاری انسرجنسی اور خراب صورتحال کے باوجود وفاق نے بلوچستان کی ترقی پر توجہ نہیں دی ہر بار ہمارے منصوبوں کو بجٹ میں شامل کرکے ان پر عمل کرنے کی بجائے آئندہ بجٹ میں انہیں نئے منصوبوں کے طور پر شامل کیا گیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قائدین میر حاصل خان بزنجو اور محمودخان اچکزئی جو میاں نواز شریف کے بہت قریب ہیں وہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کردار ادا کریں ۔

انہوںنے کہا کہ وفاق ہماری جانب اس لئے توجہ نہیں دیتا کہ ہماری قومی اسمبلی میں نشستیں نہ ہونے کے برابر ہیں ہمیں رقبے کے حوالے سے نشستیں دی جائیں تاکہ اسلام آباد بھی بلوچستان پر توجہ دے انہوں نے کہا کہ وفاق کے حکمرانوں نے تمام فنڈز پنجاب کو دیئے جس پر ہمارے عوام حکمرانوں کی بجائے پنجاب کو بر ا بھلا کہتے ہیںحالانکہ اس میں پنجاب کے عوام کا کوئی کردار نہیں ہوتا سابق وزیراعظم نے کوئٹہ پیکج کے لئے پانچ ارب روپے کا اعلان کیا مگر کچھ نہیں ملا کوئٹہ کے منصوبوں پر ہم نے اپنے طور پر کام کا آغاز کرلیا ہے وفاق نے فنڈز دیئے تو ٹھیک ورنہ قرض لے کر بھی منصوبے پورے کریں گے گوادر میں پانی کی مد میں تیس کروڑ روپے ماہانہ خرچ کررہے ہیں وفاق سے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لئے تعاون کرے لیکن وفاق کی جانب سے اتفاق کے باوجود صوبے کو کچھ نہیں ملا ۔

اس موقع پر سردار اختر مینگل نے کہا کہ یہاں قرار داد منظور کرکے اس پر پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو مقررہ مدت میں اپنی رپورٹ پیش کرے تاکہ اس پر مزید کام ہوسکے سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے کہا کہ اسمبلی میں قرار دادوں پر عملدرآمد کے لئے پارلیمانی لیڈرز کی کمیٹی بنائی گئی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے رابطے کئے گئے مگر پارلیمانی لیڈروں کی مصروفیات کی وجہ سے کمیٹی اسلام آباد کا دورہ نہیں کرسکی میں بار بار کہہ چکی ہوں اگرچہ بلوچستان کے حقوق کا حصول مشکل نظر آرہا ہے مگر ہم نے بیٹھ کر دیکھنا ہے کہ ہم نے کس طرح ترقی کرنی ہے اور اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے ایوان کی کمیٹی بارہ ستمبر سے بنی ہے اگر پارلیمانی لیڈر وقت نہیں دے سکتے تو اپنی جماعت سے ایک ایک نمائندہ دیں تاکہ وہ کمیٹی اسلام آباد جا کر وفاق سے قرار دادوں پر عملدرآمد کے لئے بات کرے اس کے لئے روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے کے لئے بھی تیار ہیں بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

اس موقع پر سپیکر نے پارلیمانی لیڈرز پر مشتمل پرانی کمیٹی کو فعال کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کمیٹی اس سلسلے میںر وزانہ کی بنیاد پر کام کرے ۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپریل کے مہینے میں بلوچستان کے سرد علاقوں میں برفباری اور بارشوں اور درجہ حرارت منفی پانچ سینٹی گریڈ تک گر جانے سے زیارت ، قلعہ سیف اللہ ، لورالائی، قلعہ عبداللہ ، پشین سمیت مختلف اضلاع میں باغات اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا لہٰذا ایوان کی کارروائی روک کرکے اس اہم مسئلے پر بحث کی جائے تحریک التواء کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اپریل میں برفباری اور درجہ حرارت منفی پانچ تک گرتے کبھی نہیں دیکھا اس سے فصلات اور باغات تباہ ہوگئے ہیں حکومت متاثرہ اضلاع میں زمینداروں کی امداد کے لئے اقدامات کرے ٹیوب ویلوں کے بل زرعی قرضے معاف اور متاثرین کی بحالی کے لئے اقدامات کئے جائیں صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کا ایک طریقہ کار موجود ہے متاثرہ علاقے کے ڈپٹی کمشنرز پی ڈی ایم اے کو نقصانات کی رپورٹ بھیجتے ہیں جس پر صوبائی حکومت مدد کرتی ہے مگر اب تک کسی ڈپٹی کمشنر کی جانب سے ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی اگر ان علاقوں کو قدرتی آفات سے متاثرہ قرار دے دیاجاتا ہے تو پھر قرضے بھی معاف ہوجاتے ہیں اور ریلیف بھی دیا جاتا ہے تاہم اب تک ہمیں ایسی رپورٹ نہیں ملی ہے جس پر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ اگر حکومت کو رپورٹ نہیںملی ہے تو ڈپٹی کمشنر زسے معلومات حاصل کرلیںمیں خود بھی اس مسئلے پر سرفراز بگٹی سے بات کرنے کے لئے تیار ہوں تاہم تحریک التواء پر بحث کرائی جانی چاہئے ۔

سپیکر کی جانب سے رائے شماری کرانے پر ایوان نے تحریک التواء بحث کے لئے منظور کرلی 30اپریل کے اجلاس میں مذکورہ تحریک التواء پر بحث ہوگی ۔اجلاس میںبلوچستان نیشنل پارٹی کے میر حمل کلمتی نے مشترکہ قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں سے لوگوں کی ایک کثیر تعداد گوادر اور لسبیلہ کے اضلاع میں روزگار اور سرکاری ملازمت کے حصول اور سکونت اختیار کرنے کی غرض سے آباد ہورہے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ اضلاع کے مقامی لوگوں کی حق نمائندگی اور حق رائے دہی متاثرہ محروم ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں اس لئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ وہ آئین کے آرٹیکل109کی شق دو میں ضروری اور بنیادی ترامیم کرکے صوبہ کے ساحلی علاقوں /اضلاع میں ملک کے دیگر صوبوں سے منتقل ہو کر رہائش اختیار کرنے والوں کے لئے خصوصی قانون سازی وضع کرکے انہیں حق نمائندگی ، حق رائے دہی اور لوکل/ڈومیسائل کے حصول میں پچاس سالوں کی پابندی عائد کرنے کو یقینی بنائے تاکہ مذکورہ اضلاع/ساحلی علاقوں کے لوگوں میں پائی جانے والی تشویش اور بے چینی میں قدرے کمی لانا ممکن ہوسکے۔

قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ میں ایوان کی توجہ چند تاریخی حقائق کی جانب بھی دلانا چاہتا ہوں 1947ء میں جب پاکستان بنا بلوچستان کا جغرافیہ وہ نہیں تھا جو اب ہے بلوچستان کے کچھ علاقے پنجاب ، کچھ سندھ کو دے دیئے گئے حتیٰ کہ میر جاوا جو بلوچستان کا حصہ تھا اسے اٹھا کر ایوب خان کے دور میں ایران کے حوالے کیا گیا اب جو حالیہ حلقہ بندیاں اور حد بندی ہوئی ہے اس میں خضدار کے علاقے کرخ میں سن چکو داڈرو کا علاقہ سندھ میں شامل کیا گیا ہے انہی زیادتیوں کی وجہ سے پھر لوگوں میں بے چینی پھیلتی ہے سی پیک کے حوالے سے اسی ایوان میں میں نے ایک قرار داد پیش کی تھی جس پر بہت بحث بھی ہوئی اس میں یہ مطالبہ تھا کہ ساحل اور وسائل پر اختیار دیا جائے کیا اس ایوان میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی صرف یہی ذمہ داری ہے کہ وہ نالیاں بنائیں یا پھر قانون سازی کرنی چاہئے انہوں نے کہا کہ اس قرار داد کا یہ مقصد نہیں کہ ہم ترقی کے مخالف ہیں ہم قطعی طو رپر ترقی کے مخالف نہیں ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو اچھی تعلیم ملے ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے ہمارے لوگوں کو بہتر صحت اور تعلیم کی بہتر سہولیات ملیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قومی تشخص ، وجود اور شناخت سے دستبردار نہیں ہوسکتے اگر ترقی کے دعوے حقیقت ہوتے تو آج اس ایوان میں اراکین خدشات کا اظہار نہ کرتے اس وقت بھی سی پیک سے متعلق کسی کو علم نہیں کہ کیا معاہدے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ میں ایک وضاحت یہ بھی کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان سے باہر کے لوگ بلکہ بلوچستان کے اندر بھی گوادر سے باہر کے لوگوں کو خواہ وہ خضدار وڈھ سے ہوں ، تربت سے ہوں یا دیگر علاقوں سے انہیں ووٹ کا حق ملنا چاہئے اور نہ ہی انہیں اس وقت تک زمین خریدنے کا حق دیا جائے تاکہ وقتیکہ وہ مقامی لوگوں کو اپنے ساتھ شامل نہ کرے ۔

انہوںنے کہا کہ اس معاملے پر صرف یہ قرار داد ہی کافی نہیں بلکہ ایک پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی جانی چاہئے ۔ جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جس مسئلے پر یہ قرار داد ہے وہ اہمیت کا حامل ہے ہمیں ان کے خدشات کا بھی اندازہ ہے وہ ٹھیک کہتے ہیں مگر قرار داد میں جو لب و لہجہ اختیار کیا گیاہے اور جو بات کی گئی ہے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ میں گوادر کو اپنا گھر سمجھتا ہوں اگر مجھے ہی میرے گھر سے بے دخل کیا جائے گا تو ہم اس کی حمایت نہیںکرسکتے ہم پاکستان کے اندر پشتون ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی ، پنجابی کسی کے خلاف نہیں بلکہ حکمرانوں کے خلاف ہیں یہ جو قرار داد ہے ہمیں خدشہ ہے کہ اس سے اضلاع میںنفرتیں پھیلیں گی اس لئے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اگر میں کراچی میں پورٹ کا حقدار بن سکتا ہوں ، لاہور ، کراچی ، اسلام آباد ہر جگہ ووٹ ڈال سکتاہوں انتخابات میں حصہ لے سکتا ہوں تو پھر گوادر میں کیوں نہیںہم ترمیم کے ساتھ ضرور اس قرار داد کی حمایت کریں گے ۔

اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل206اور اس کے سب آرٹیکل2میں جو حقوق درج ہیں وہ دیکھنے چاہئیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے کوئی بھی شخص لاہور ، کراچی ، اسلام آباد ہر جگہ کاروبار کرسکتا ہے اس قانون کو تبدیل کرنا وفاق کاکام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سردارصاحب نے جن خدشات کا اظہار کیا ہمیں بھی اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے یہ قرار داد ایک لحاظ سے انسانی حقو ق سے بھی متصادم ہوسکتا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی پشتونوں کو حق نہیںملا ۔

صوبائی وزیر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہمیت کی حامل قرار داد ہے جو ایک اہم مسئلے سے متعلق ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ جو قرار داد ہے وہ آئین سے بھی متصادم ہے اس لئے میری تجویز ہے کہ اس حوالے سے ایک کمیٹی بنائی جائے جو آئینی ماہرین سے بھی مشاورت کرے کوئی شک نہیں کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس طرح آج کراچی میں شہری کراچی اور دیہی کراچی کی بات ہورہی ہے ایک وقت آئے گا کہ ہمارے ہاں بھی شہری بلوچستان اور دیہی بلوچستان کی بات کی جائے گی اس کے لئے ہمیں قانون سازی کرنی چاہئے اس لئے اس حوالے سے کمیٹی بنائی جائے جو تمام امور کو دیکھے۔

قرار داد کے محرک میر حمل کلمتی نے کہا کہ یہ قرار داد میری یا سردار اختر مینگل کی نہیں بلکہ گوادر کے عوام کی جانب سے لائی گئی ہے حالیہ چند دنوں کے اندر 8سو سے زائد لوگوں کے عارضی اور مستقل پتے تبدیل کئے جارہے ہیں گوادر میں صرف آئل ٹرمینل کے لئے ایک لاکھ20ہزار ایکڑ اراضی ایکوائر کی گئی اسی طرح لینڈ ایکوزیشن پر واضح پابندی کے باوجود مختلف محکموں کو اب بھی ہزاروں ایکڑ اراضی دی گئی ہے ہمیں خدشہ ہے کہ ہمارے ہاتھ سے گوادر کی زمین چلی جائے گی اور جب زمین ہی نہیں ہوگی تو پھر ہم کیا دعوے کریں گے ۔

بعدازاں حکومتی یقین دہانی اور محرکین سے مشاورت کے بعد قرار داد کو اگلے اجلاس تک موخر کرتے ہوئے سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی نے اپنی رولنگ میں کہا کہ اراکین اسمبلی کو اپنی حیثیت کا اندازہ ہونا چاہئے ہمیں قانون سازی پر توجہ دینی چاہئے اور میں نے سپیکر کی حیثیت سے دو سا ل کے دوران یہ بات محسوس کی ہے کہ ہمارے ممبران کو اپنی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے ہم قوانین بنا کر اپنے مسائل خود ہی حل کرسکتے ہیں قرار داد کو اگلے اجلاس تک ملتوی کیا جاتا ہے اور اس دوران ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس میں تمام پارٹیوں کے نمائندے موجود ہوں گے یہ کمیٹی قرار داد کا جائزہ لے کر مشاورت کے بعد اپنی سفارشات کے ساتھ اسے دوبارہ پیش کرے گی ۔

انہوں نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ سی پیک کے حوالے سے الگ محکمہ قائم کرے ۔ انہوں نے نادرا سے متعلق شکایات کے ازالے کے لئے ڈی جی نادرا کو چیمبر میں طلب کرنے کی بھی رولنگ دی تاکہ ڈی جی نادرا کو میر حمل کلمتی کے تحفظات سے آگاہ کیا جاسکے ۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے مختلف سیاسی وسماجی شخصیات کی سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے چونکہ بلوچستان کے لوگ ایک جنگ زدہ زون میں زندگی بسر کررہے ہیں جنہیں مذہبی انتہا پسندی انسرجنسی وحشت اور دہشت گردی کا سامنا ہے اس کے علاوہ مختلف قبائل کے درمیان عرصہ دراز سے قبائلی تنازعات بھی چلے آرہے ہیں ۔

اس لئے صوبائی حکومت صوبے کی اہم سیاسی وسماجی شخصیات کی سیکورٹی کی بحالی کو یقینی بنائے ۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کی صورتحال باقی ملک سے مختلف ہے جس کی وجہ سے یہاں پر سکیورٹی بے حد ضروری ہے اور یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے اس کو انتظامی طو ر پر ہی دیکھنا چاہئے صوبائی حکومت اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے بات کرے کہ بلوچستان کے حالات کے پیش نظر منتخب عوامی نمائندوں اور دیگر اہم شخصیات سے سیکورٹی واپس لینا ممکن نہیں جب موجودہ حکومت بنی تھی تو انہیں چار چار گارڈز فراہم کئے گئے تھے جنہیں محکمہ داخلہ سے تنخواہیں مل رہی ہیں بلوچستان کے حوالے سے سیکورٹی کے فیصلے کو واپس لیا جائے ڈاکٹر حامدخان اچکزئی نے کہا کہ سیکورٹی واپس لینے کا فیصلہ واپس لیا جائے کیونکہ ہمارے صوبے میں اس کی ضرورت ہے جن کو سیکورٹی فراہم کی گئی ہے ان کی سکروٹنی کی جائے جن کو ضرورت نہیں ان سے واپس لے لی جائے انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ جن شخصیات کو سیکورٹی خدشات ہیں ان کی سیکورٹی فوری بحال کی جائے کیونکہ ہمارے ہاں مختلف سیاسی رہنمائوں پر خودکش حملے ہوئے ہیں بعض رہنماء شہید ہوچکے ہیں صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا جس میں اس حوالے سے غور کیا گیا کہ کن کن شخصیات کو سیکورٹی کی ضرورت ہے اور کن کو نہیں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر سمیت جن شخصیات کو سیکورٹی خدشات تھے ان کی سیکورٹی بحال کردی گئی ہے گزشتہ کچھ عرصے کے دوران صوبائی حکومت کی جانب سے جن لوگوں کو سیکورٹی فراہم کی گئی تھی ان کی سکروٹنی کررہے ہیںجس کے بعد صرف ایسے لوگوںکو سیکورٹی فراہم کریں گے جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہے بعدازاں قرار داد کو پورے ایوان کی قرار داد کے طو رپر منظ.ر کرلیا گیا۔