وفاقی بجٹ میں ایف پی سی سی آئی کی کئی اہم تجاویز کو شامل کیا گیا ہے، زرعی سیکٹر کیلئے مراعات اچھا اقدام ہے،صدر ایف پی سی سی آئی غضنفر بلور

وفاقی بجٹ میں کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا کرنے کا پلانٹ لگانے کا اعلان خوش آئند ہے،صدر کے سی سی آئی مفسرعطاملک وفاقی بجٹ میں ایف بی آر افسران کے اضافی اختیارات کم کرنا خوش آئند ہے،چیئرمین بزنس مین گروپ سراج قاسم تیلی

جمعہ اپریل 23:50

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 اپریل2018ء) بزنس کمیونٹی نے وفاقی بجٹ 2018-19ء پر اپنے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ فیٖڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر غضنفر بلورنے کہا ہے کہ بجٹ میں ایف پی سی سی آئی کی کئی اہم تجاویز کو شامل کیا گیا ہے، زرعی سیکٹر کیلئے مراعات خوش آئند ہیں،انہوں نے کہا کہ سیاسی حکومت کا آخری بجٹ عوامی ہے مگر برآمد کنندگان کو اس بجٹ میں ریلیف فراہم کرنا چاہئے تھا، بجٹ میں بہت سارے ایسے اقدامات تجویز کئے گئے جن کو آنے والی حکومت کو جاری رکھنا چاہئے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئرنائب صدر مظہر اے ناصرنے کہا کہ بجٹ میں زیادہ تر سوشل ویلیفیئرکی باتیں کی گئی ہیں تاہم سمندر کے پانی کو میٹھا کرنے اور کراچی میں پانی کے مسئلے کے حل کئے ڈی سیلٹیشن پلانٹ کی تنصیب کا منصوبہ انتہائی اہم اعلان ہے کیونکہ اس طرح واٹر مافیاکا اثر کم ہوگا اور شہر میں پانی کا مسئلہ حل ہو گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بیلنس بجٹ پیش کیا گیا ہے، صنعتی شعبے کیلئے بھی بہتر بجٹ ہے، ہم نے حکومت کو جو پوائنٹس دیئے تھے اسے بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے،سید مظہر علی ناصر نے کہا کہ زرعی شعبے کے لئے ٹیکس استثنی اور سبسڈی سمیت کئی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے جس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔

بزنس مین گروپ کے چئیرمین اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹڑی کے سابق صدرسراج قاسم تیلی نے کہا کہ ایف بی آر افسران کے اضافی اختیارات کم کرنا خوش آئند ہے،آئندہ سال کے بجٹ میں جو تبدیلی کی گئیں خوش آئند ہیں،(ن) لیگ حکومت کا بجٹ بہتر رہا ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر زبیرطفیل نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن کا سال ہے اس لئے حکومت نے بجٹ میں کئی جگہ سہولتیں دینے کی کوشش کی ہے اور کسٹم ڈیوٹیوں کو بھی کم کیا گیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کی بہت سی تجاویز مانی گئی ہیں، 10میں سے تقریباً 7 تجاویز مانی ہیں، حکومت نے اپنے وسائل سے زیادہ مراعات دی ہیں۔ صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹڑی (کے سی سی آئی) مفسرعطاملک نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں کراچی والوں کے لیے خوشخبری بھی دی گئی ہے،،کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا کرنے کا پلانٹ لگانے کا اعلان خوش آئند ہے۔

سابق صدر انجم نثار نے کہا کہ سالانہ اِنکم ٹیکس کی حد بڑھانا اچھا اقدام ہے، زبیر موتی والا نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے،،پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ الیکٹریکل کار پر ڈیوٹی کی شرح50 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنا خوش آئند اقدام ہے، الیکٹریکل فیول پمپ پر16فیصد سیلز ٹیکس کے خاتمے سے مثت اثر پڑے گا، ایک بہترین بجٹ پیش کرنے پر حکومت اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

کراچی چیمبر کے نائب صدر ریحان حنیف اور سابق ممبر مینجنگ کمیٹی وسابق صدر ماسپیڈا فیصل خلیل نے کہا کہ بہتر بجٹ پیش کیا گیا ہے، حکومت نے آئندہ الیکشن کو سامنے رکھ کر اس بجٹ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان لیدر گارمنٹس مینوفیکشچررز اور ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ فواد اعجاز خان نے کہا کہ کاسمیٹکس اندسٹری کو بہتر مراعات دی گئی ہیں،ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور زاہد سعید ،طارق حلیم اور دیگر رہنماوں نے بھی بجٹ پر ملا جلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں سوشل سیکٹر اور عوام کے لئے صحت وتعلیم کے شعبوں میں بہت اچھے اقدامات تجویز کئے گئے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ آنے والی حکومت ان اقدامات کو کالعدم قرار دے دے گی۔