محمد نواز شریف کے ویژن کے تحت موجودہ حکومت نے چھٹا عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، بجٹ میں ٹیکسز کی مد میں چھوٹ، تعلیم، صحت کے شعبے میں ریلیف اوربے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وزیراعظم ہیلتھ کیئر پروگرام میں توسیع دی گئی ہے، 2018ء کے انتخابات میں بھی پاکستان مسلم لیگ کامیاب ہو کر آئندہ حکومت بنائے گی، مغربی سیاسی اقدار کی مثالیں دینے والے عمران خان آج بھی قومی اسمبلی میں عوامی بجٹ اجلاس میں موجود نہیں تھے، پی ٹی آئی کے پی کے میں بجٹ پیش کرنے کی اہل ہی نہیں ہے، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران ٹیبل پر چڑھ کر تماشا کرکے اپنی دھرنوں اور تماشوں کی سیاسی روایت برقرار رکھی ہے، بجٹ میں فلمی صنعت کو بے مثال مراعات دی گئی ہیں، فلم، ثقافت، قومی ورثے کے ذریعے سکرین ٹوررزم کو فروغ سے دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں مدد ملے گی، اختلاف رائے اور احتجاج پارلیمنٹ کے اندر رہے تو یہ جمہوری طریقہ ہے اگر پارلیمنٹ سے باہر ہو تو غیرجمہوری رویہ ہوتا ہے، 90دن میں کرپشن ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان 5سال بعد اب 100دن کے اعلان پر آگئے ہیں، عمران خان کا ہر اعلان صرف اعلان کی حد تک ہی ہوتا ہے

وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب کی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو

ہفتہ اپریل 00:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات،، نشریات، قومی تاریخ و ادبی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ محمد نواز شریف کے ویژن کے تحت موجودہ حکومت نے چھٹا عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، بجٹ میں ٹیکسز کی مد میں چھوٹ، تعلیم،، صحت کے شعبے میں ریلیف اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، وزیراعظم ہیلتھ کیئر پروگرام میں توسیع دی گئی ہے، 2018ء کے انتخابات میں بھی پاکستان مسلم لیگ کامیاب ہو کر آئندہ حکومت بنائے گی، مغربی سیاسی اقدار کی مثالیں دینے والے عمران خان آج بھی قومی اسمبلی میں عوامی بجٹ اجلاس میں موجود نہیں تھے، پی ٹی آئی کے پی کے میں بجٹ پیش کرنے کی اہل ہی نہیں ہے، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران ٹیبل پر چڑھ کر تماشا کرکے اپنی دھرنوں اور تماشوں کی سیاسی روایت برقرار رکھی ہے، بجٹ میں فلمی صنعت کو بے مثال مراعات دی گئی ہیں، فلم،، ثقافت، قومی ورثے کے ذریعے سیکرین ٹوررزم کو فروغ سے دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں مدد ملے گی، اختلاف رائے اور احتجاج پارلیمنٹ کے اندر رہے تو یہ جمہوری طریقہ ہے اگر پارلیمنٹ سے باہر ہو تو غیرجمہوری رویہ ہوتا ہے، 90دن میں کرپشن ختم کرنے کا دعوی کرنے والے عمران خان 5سال بعد اب 100دن کے اعلان پرآگئے ہیں، عمران خان کا ہر اعلان صرف اعلان کی حد تک ہی ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

وہ جمعہ کو قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہی تھیں۔ وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے موجودہ حکومت، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان کی عوام کو چھٹا عوام دوست بجٹ پیش ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال2018-19ء کا بجٹ عوام دوست اور عوامی ریلیف پر مشتمل ہے ‘اس بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ، وزیراعظم ہیلتھ کیئر پروگرام، طلباء و طالبات کے لئے تعلیمی اداروں میں ٹرانسپورٹ کی سہولیات اور استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز پر ٹیکسز کم کرنے، کم آمدن لوگوں کے لئے ریلیف، اینٹی کینسر ادویات کی برآمد پر ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایوان میں بیان دیا ہے کہ آئین کے مطابق موجودہ حکومت چھٹا بجٹ پیش کررہی ہے، اگر آئندہ آنے والی حکومت اس بجٹ میں کوئی تبدیلی کرنا چاہے تو کرسکتی ہے لیکن یہ عوام دوست بجٹ ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ آئندہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر نئی حکومت بنائے گی اور اسی بجٹ میں ساتھ لیکر چلے گی۔

انہوں نے کہاکہ 2013ء میں پاکستان کے عوام نے جو مینڈیٹ محمد نواز شریف کو دیکر اقتدار میں بھیجا تھا اسی مینڈیٹ پر موجودہ حکومت نے ایک اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے ‘چھٹا بجٹ آئین اور قانون کے عین مطابق ہے بعض لوگ اس ضمن میں گمراہ کن باتیں کر رہے ہیں۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بجٹ دستاویز میں تمام مراعات‘ ٹیکس چھوٹ ‘فلاحی پرگراموں کے تسلسل ‘عوامی خدمت کے منصوبوں کا باریک بینی سے جائزہ لیں ‘بجٹ میں عوام کوہر شعبے میں ریلیف دیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے مشاورت کے بعد وزراء کو وفاقی وزراء کا درجہ دیا ہے اس پر اپوزیشن حسد نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اب تاثر کی جنگ بھی ہم نے ملکر جیتنی ہے ‘تاثر کی جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے فلمی صنعت ‘ڈرامے ‘ثقافت ‘قومی ورثے اور زبان کا فروغ ناگزیر ہے ‘موجودہ حکومت کے اس چھٹے بجٹ میں فلمی صنعت کی بحالی اور فروغ کے لئے بہت سی مراعات دیں گئیں ہیں‘فلم فنانس فنڈ اورآرٹس اسسٹنٹس فنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2013ء سے لیکر اب تک ایک مخصوص پارٹی جس کے سربراہ مغربی سیاسی اقدارکی مثالیں دیتے ہیں وہ پی ٹی آئی اپنے صوبے میں بجٹ پیش کرنے کی اہل نہیں ہیں لیکن جہاں پر عوامی بجٹ پیش ہوا وہاں پر بھی تماشا کر کے اپنی دھرنوں کی سیاست، جھوٹے، الزامات کی سیاست کو برقرار رکھا ہے۔۔وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان جس طرح سینٹ الیکشن اجلاس میں ایوان میں نہیں آئے اور اپنا ووٹ بیچا اسی طرح آج بھی عوامی بجٹ اجلاس میں بھی نہیں آئے جس طرح عمران خان قانونی تقاضے پورے کررہے ہیں اسے پوری قوم دیکھ رہی ہے۔