اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے غزہ میں چار فلسطینی شہید، 600 زخمی

غاصب فورسز کے مظاہرین کوڈارنے کے لیے زور دار آواز والے بموں کا استعمال،سرحد پاردھماکوں کی شدید آوازیں

ہفتہ اپریل 11:52

مقبوضہ بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے لیے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چھ فلسطینی شہید اور650 زخمی ہوگئے۔زخمیوں میں سے 300 کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جن میں سے پانچ کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ مشرقی غزہ میں فلسطینیوں نے حق واپسی کے لیے ریلیاں نکالیں۔

اس موقع پر اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر سیدھی گولیوں سے فائرنگ کی، آنسوگیس کا بے دریغ استعمال کیا اور دھاتی گولیوں سے بھی مظاہرین کو نشانہ بنایا۔اشرف القدرہ نے کہاکہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے چھ فلسطینی مظاہرین شہید اور 650زخمی ہوگئے ۔

(جاری ہے)

زخمیوں میں سے 300 کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جن میں سے پانچ کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔

عینی شاہدین کا کہناتھا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہرین کو خوف زدہ کرنے کے لیے زور دار آواز پیدا کرنے والے بم بھی استعمال کیے۔ سرحد پر زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی گئیں۔خیال رہے کہ فلسطینی 30 مارچ سے حچھ ہفتوں پر مشتمل حق واپسی کی تحریک جاری رکھے ہوئیہیں۔ اس تحریک کے دوران اب تک تین درجن فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔ فلسطینی ہرجمعہ کو مشرقی سرحد کی طرف مارچ کرتے ہیں۔ اس تحریک کا کل پانچواں جمعہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں پانچ ہزار فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔