چٹانوں پر کندہ کاری،

سعودی عرب میں ہزاروں سال پرانے انسانی تہذیب کے ان منٹ نقوش

ہفتہ اپریل 12:59

ریاض۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) سعودی عرب کی سرزمین تاریخی اعتبار سے ہزاروں سال پرانی انسانی تہذیبوں کی امین ہے۔ مملکت کے 70 فی صد سے زائد رقبے پر انسانی تہذیبوں کے ان مٹ نقوش اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہزاروں برس قبل بھی یہ سرزمین انسانی تہذیب وتمدن کا مرکز تھی۔العربیہ ٹی وی نے ایک رپورٹ میں سعودی عرب کی قبل از تاریخ تاریخی یادگاروں پر روشنی ڈالی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مختلف مقامات پر موجود چٹانوں پر کی گئی کندہ کاری سے اندازہ ہوتا ہے کہ گئے زمانوں میں تیار کردہ یہ فن پارے اس دور میں بنائے گئے جب ابھی انسان کتابت سے بھی آشنا نہیں تھا۔۔سعودی عرب میں پائے جانے ایسے تاریخی مقامات میں مدینہ منورہ میں ’الحناکیہ‘، الشویمس اور اور حائل کے علاقے میں ’وجبہ‘ جیسے مقامات میں چٹانوں پر ہزاروں سال پرانی کندہ کاری موجود ہے۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ نے ان مقامات کی تاریخمی اہمیت کے پیش نظر انہیں عالمی انسانی تاریخی ورثہ قرار دیا ہے۔ جزیرہ العرب میں پہلی معلوم انسانی ھجرت کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 17 ہزار سال پہلے ہوئی۔ خشک سالی کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد اطراف سے ہجرت کرکے جزیرہ نما عرب میں آباد ہوئی۔اس کے بعد کئی دوسری تہذیبوں نے اسے اپنا مسکن بنایا اور پتھروں پر اپنی یادگاروں کی شکل میں رہتی دنیا تک اپنی نشانیاں چھوڑیں۔

آج ہزاروں سال کے سفر کے بعد بھی ہم ان یادگاروں کو دیکھ اور محسوس کرسکتے ہیں۔ ان تاریخی یادگاروں میں چٹانوں پر کندہ کاری، سکے، برتن، مقبرے، بند، دیواریں اور کئی دوسری چیزیں شامل ہیں۔۔سعودی عرب کی خاتون محقق سارہ بنت فالح الدوسری نے شاہ سعود یونیورسٹی میں ایک تجزیاتی تحقیقی مقالہ لکھا جسے پی ایچ ڈی کے مقالے کے طور پر منظور کیا گیا۔اس میں اس نے جزیر? العرب کے قدیم ادوار حتیٰ کہ 36 ہزار سال قبل کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے۔