ایران کافیوچر بینک دہشت گردی کی فنڈنگ کا مرکز ہے، بحرینی وزیرداخلہ

کئی ماہ کی تحقیقات کے دوران جن غیر قانونی مالی رقوم کا انکشاف ہوا ان کا مجموعی حجم نو ارب ڈالر کے قریب ہے،خطاب

ہفتہ اپریل 13:33

منامہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) بحرین کے وزیر داخلہ شیخ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے باور کرایا ہے کہ ایران کا فیوچر بینک جو بحرین میں کام کر رہا تھا وہ دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی فراہمی کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔عرب ٹی وی کے مطابق شیخ راشد نے یہ بات پیرس میں دہشت گردی کی فنڈنگ کے انسداد کے حوالے سے منعقد دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بحرینی وزیرنے کہاکہ بینکاری کی خلاف ورزیوں کے سبب بحرین کے مرکزی بینک نے 2015ء میں ایرانی فیوچر بینک کو (جو بحرین میں کام کر رہا تھا) اپنے زیر انتظام کر لیا تھا۔ بعد ازاں یہ ثابت ہو گیا کہ یہ بینک دہشت گردی کی فنڈنگ کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ سال 2016ء میں فیوچر بینک کے دو ایرانی حصّے داروں یعنی صادرات بینک اور ملّی بینک نے ہیگ میں عالمی عدالتِ انصاف میں فیصلے کے لیے مقدمہ دائر کر دیا۔

(جاری ہے)

بحرینی وزیر داخلہ نے بتایا کہ قانونی دفاع کی تیاری کے دوران ہی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ فیوچر بینک کی انتظامیہ مختلف خلاف ورزیوں کی مرتکب رہی ہے۔شیخ راشد نے واضح کیا کہ کئی ماہ کی تحقیقات کے دوران جن غیر قانونی مالی رقوم کا انکشاف ہوا ان کا مجموعی حجم 9 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی رقوم کا دہشت گرد کارروائیاں انجام دینے والوں اور ان میں شریک عناصر کے ہاتھوں میں پہنچنا انتہائی خطرناک امر ہے۔بحرین کے وزیر داخلہ نے باور کرایا کہ ان کا ملک شدت پسندی اور دہشت گردی کے انسداد اور اس کی فنڈنگ کے سٴْوتے خشک کرنے کے سلسلے میں بین الاقوامی کوششوں میں شریک رہے گا۔

متعلقہ عنوان :