شجرہ نسب کی ویب سائٹ نے 40 سال بعد ایک سلسلہ وار قاتل کو پکڑوا دیا

Ameen Akbar امین اکبر ہفتہ اپریل 13:03

شجرہ نسب  کی ویب سائٹ نے 40 سال بعد ایک سلسلہ وار قاتل کو پکڑوا دیا

چار دہائیوں سے بھی پہلے جوزف  جیمز ڈی اینگلو امریکی بحریہ میں تھا اور پھر کیلیفورنیا کے شہر اکسٹر میں پولیس آفیسر کے طور پر خدمات سر انجام دینے لگا۔ حال ہی میں جوزف کی زندگی کے سب سے بڑے راز سے پردہ اٹھا ہے اور یہ پردہ شجرہ نسب بتانے والی ویب سائٹ کی مدد سے اٹھا ہے۔ اب معلوم ہوا ہے کہ جوز ف ہی وہ درندہ ہے جس نے درجنوں خواتین کو زیادتی کے بعد قتل کیا ہے۔

جن دنوں یہ وارداتیں ہوئیں، تب نہ انٹرنیٹ تھا اور نہ ہی موبائل فون۔ قاتل کو تلاش کرنےکے چند ہی  ذرائع تھے  لیکن اب ماضی کی شہادتوں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جوزف بھی قانون کے شکنجے میں جکڑا گیا ہے۔72 سالہ جوزف ، جسے گولڈن سٹیٹ کلر بھی کہتے ہیں،  کو پچھلے ہفتے گزشتہ 40 سالوں میں  45 جنسی زیادتی اور 12 قتل کے جرائم میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا گیا۔

(جاری ہے)


اس کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہوں نے جائے وقوع سے حاصل ہونے والے ڈی این اے کے نمونے اُن ویب سائٹس کے ڈیٹا بیسز سے ملائے جو لوگوں کو ڈی این اے کی مدد سے اپنا شجرہ نسب معلوم کرنے کی سہولیات دیتی ہیں۔ ایسی ویب سائٹس ڈی این اے کی بنیاد پر کسی بھی شخص کی 1000 سالہ خاندانی تاریخ کا کھوج بھی لگا سکتی ہیں جبکہ اس کے لیے صارفین کو صرف 100 ڈالر خرچ کرنا پڑے ہیں۔

100 ڈالر میں ویب سائٹ صارفین کو ڈی این اے کٹ بھیجتی ہیں اور یہ کٹ نمونے کے ساتھ واپس ویب سائٹ کو بھیجنی پڑتی ہے۔
تفتیشی افسران نے جب جوزف کا ڈی این اے ایسی ہی ایک ویب سائٹ کے ڈیٹا بیس سے ملایا تو ویب سائٹ سے جوزف کے ایک رشتے دار کے بارے میں معلوم ہوگیا۔ اس کے بعد تفتیشی افسران کا کام آسان ہوگیا۔ انہوں نے عمر اور رہائش کی بنیاد پر جوزف کا کھوج نکال لیا۔ عوامی مقامات سے جوزف کے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے تو وہ قاتل کے ڈی این اے سے میچ ہو گئے۔ پولیس نے جوزف کو گرفتار کرنے کے بعد شہر کی سپیرئیر کورٹ میں پیش کر دیا ہے۔