بچوں کا ماہر ین امراض چشم سے معائنہ کرایا جائے تاکہ اندھے پن سے بچا یا جائے‘ڈاکٹر سعدیہ سیٹھی

ہفتہ اپریل 13:40

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) نوزائیدہ اور وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کی آنکھوں کا اگر بروقت معائنہ نہ کیا جائے تو ایسے بچوں میں سے دس فیصد کی بینائی کمزور یا بعض صورتوں میں بینائی مکمل طور ختم ہوجانے کا خطرہ رہتا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہسپتالوں میں بچوں کی نگہداشت سے متعلق ڈاکٹروں ، نرسز اور دیگر سٹاف کی اس حوالے سے خاص تربیت کی جائے اور ایسے بچوں کا ماہر ین امراض چشم سے معائنہ کرایا جائے تاکہ ان کا بروقت علاج کرکے اندھے پن سے بچا یا جائے۔

ان خیالات کا اظہارخیبر ٹیچنگ ہسپتال کی پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ سیٹھی ، ایم ایم سی کے پر وفیسرڈاکٹر ضیا ء محمد ،،ڈاکٹر محمد طارق اورڈاکٹر محمد قاسم ، الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی کی پروفیسر ڈاکٹر صورت نورانی اور ڈاکٹر عمر میاں نے ایم ایم سی اور باچا خان میڈیکل کالج کے شعبہ امراض چشم کے زیر اہتمام ریٹانوپیتھی کے سکریننگ پروگرام کے حوالے سے ایک روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہاکہ نوزائیدہ اور باالخصوص 35 ہفتوں سے کم مدت میں پیدا ہونے والے بچوں کی سکریننگ انتہائی ضروری ہے کیونکہ ان کی آنکھوں کے پرودوں کی بناوٹ مکمل نہیں ہوتی اور ایسے بچے عمومی طور پر کم وزن ہوتے ہیں اور ان کو انکوبیٹرز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لئے اگر پیدائش کے فوری بعد ان کی سکریننگ کرکے ان کا علاج کیا جائے تو ان کو اندھے پن سے بچا یا جاسکتا ہے۔ورکشاپ سے اپنے خطا ب میں ڈاکٹر ضیاء محمد نے کہا کہ مردان میڈیکل کمپلیکس میں ایسے بچوں کے معائنے کی سہولت موجود ہے۔اٴْنہوں نے قبل از وقت اور کم وزن بچوں کے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو اندھے پن سے بچانے کے لئے پیدائش کے فوری بعد ایم ایم سی کے شعبہ امراض چشم سے ان کا معائنہ کرائیں۔