ترکی کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی روکنے کا بل امریکی سینیٹ میں پیش

ترک صدر کے طرز عمل پر تشویش، آوارگی کے انداز میں حکمرانی کررہے ہیں،بل پیش کرنیوالے دوسینیٹرز کی گفتگو

ہفتہ اپریل 13:55

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) امریکی سینٹ کے تین سرکردہ ارکان نے ایوان میں ایک بل پیش کیا ہے جس میں دفاعی اسلحہ ساز کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے تیار کردہ ایف 35 جوائنٹ اسٹرائک جنگی طیاروں کی ترکی کو فروخت روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایف 35جنگی طیاروں کی تیاری میں ترکی کے امریکی کمپنی کے ساتھ شیئرز ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی شمالی اوقیانوس کے فوجی اتحادنیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے امریکا کا اہم اتحادی بھی تصور کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بل ری پبلیکن پارٹی کے دو سینٹروں جیمز لانکفورڈ اور ٹوم ٹیلیس جب کہ ڈیموکریٹس کے گیان شاھین کی طرف سے تیار کیا گیا ،امریکی سینٹروں نے ایک بیان میں کہا کہ انہیں ترک صدر طیب ایردوآن کے طرز عمل پر تشویش ہے کیونکہ وہ آوارگی کے انداز میں حکمرانی کرنے کی راہ پر چل رہے ہیں اور قانون کی بالادستی کو بائی پاس کر رہے ہیں۔رکن کانگریس لانکفرڈ کا کہنا تھا کہ ترکی کے تزویراتی فیصلے امریکی مفادت سے دوری پر مبنی ہیں اور بعض اوقات انقرہ کے اقدمات امریکی مفادات کے برعکس ہوتیہیں۔ ایسے عوامل کے ہوتے ہوئے اردوآن رجیم کو ’ایف 35‘ جیسے جنگی جہازوں کی ٹیکنالوجی فراہم کرنا اپنے اندر کئی طرح کے خطرات لیے ہوئے ہے۔

متعلقہ عنوان :