اوپر سے آڈر لینے والے تبدیلی کی بات کرتے ہیں ،ْ

اوپر سے آڈر لینے ہیں تو پھر سیاست نہیں کرنی چاہیے ‘ نواز شریف

ہفتہ اپریل 14:58

اوپر سے آڈر لینے والے تبدیلی کی بات کرتے ہیں ،ْ
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ یہاں لوگ اوپر سے آڈر لیتے ہیں اور تبدیلی کی بات بھی کرتے ہیں ،اس منافقت اور دہرے معیار پر برملا بات ہو رہی ہے ، اگر اوپر سے آڈر لینے ہیں تو پھر سیاست نہیں کرنی چاہیے ،،عمران خان نے آصف زرداری کو بیماری کہا لیکن پھر سب نے دیکھا کہ سینیٹ انتخابات میں تیر کو ووٹ دیا گیا ،ماضی میں اسی طرح کی سیاست نے پاکستان کو تباہ کیا ، جب تک ہم اس طرح کی سیاست کو نہیں روکیںگے اکیسویں صدی میں داخل نہیں ہو سکیں گے اور ہمیں اس کوروکنا ہے ،اٴْدھروہ اپنا کام کر رہے ہیں اِدھرعوام آپ کے ساتھ ہیں اور میدان عمل میں نکلے ہوئے ہیں اگر کوئی اسے نہ سمجھے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں،سمجھ نہیں آتی پانچ ، دس سال بعد حکومت بلکہ ملک انتشار کا شکار کیو ں ہو جاتا ہے ، آج خطے میں بنگلہ دیش،، نیپال اور سری لنکا کی کرنسی بھی ہمارے مقابلے میں بہتر ہے ، عام انتخابات کی تیاریاں شروع کر یں عوام ہماری بات سن رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

وہ ہفتہ کو ماڈل ٹائون میں گوجرانوالہ اور فیصل آباد ڈویژن کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اور عہدیداروں سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ، وفاقی وزیر احسن اقبال،، خواجہ محمد آصف،، مریم نواز ، حمزہ شہباز ،،وزیر قانون رانا ثنااللہ خان ، وزیر محنت راجہ اشفاق سرور، سینیٹر آصف کرمانی ، سائرہ افضل تارڑ سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

اس موقع پر شرکاء نے قیادت کے حق میں نعر ے بھی لگائے ۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان جس بلندی کی طرف گامزن تھا آج وہ حالات نہیںاور یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے ۔ سمجھ نہیں آتی کہ پانچ ، دس سالوں بعد ایسا حالات کیوں پیدا ہو جاتے ہیں ۔حکومت چلتے چلتے انتشار کا شکار ہو جاتی ہے بلکہ ملک انتشار کا شکار ہو جاتا ہے ۔ آج چین اور بھارت کے تعلقات بڑھنا شروع ہو گئے ہیں ،،بھارتی وزیر اعظم چین کا دورہ کر رہے ہیں ۔

1990ء میں ہم ترقی میں آگے تھے لیکن یہی کچھ ہوتا رہا اور اسی طرح کے مسائل رہے تو پھر ہم کیسے موازنہ کریں گے ۔ جو گزشتہ ستر سالوں میں ہوا ہے اگر ہم نے آنے والے ستر سال بھی ایسے ہی گزار دئیے تو پھر خطے میں ہمارا کیا مقابلہ اور موازنہ ہوگا ۔ آج بنگلہ دیش ، سری لنکا اور نیپال جو چھوٹا سا ملک ہے اس کی کرنسی ہم سے زیادہ مضبوط ہے ۔ ہمیں پاکستان کا درد ہے تو ہمارے منہ سے یہ باتیں نکلتی ہیں ۔

ہمارے ساتھ تو جو گزر رہی ہے وہ گزرہی رہی ہے لیکن پاکستان کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے ، اس کے ساتھ اچھا ہونا چاہیے ۔ ہم نے ماضی میں برداشت کیا ہے اور آج بھی کر لیں گے لیکن پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ،،پاکستان یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتا ۔ 22کروڑ عوام کس کیفیت میں دن گزار رہے ہیں اور آئندہ کیسے گزاریں گے ۔ چار سالوں میں پاکستان کا ہر شعبے مستحکم تھا ، ہمارا روپیہ مستحکم تھا لیکن سب جانتے ہیں آج کیا صورتحال ہی ۔

سٹاک مارکیٹ 53ہزار پوائنٹس پر تھی لیکن جب میرا فیصلہ آیا تو چند ہی ہفتوں میں یہ 37ہزار پوائنٹس تک آ گئی ۔ اگر ہم 7فیصد گروتھ ریٹ حاصل نہیں کریں گے تو خسارے پر قابو نہیں پا سکیں گے ۔ جب ہمیں اقتدار ملا تو گروتھ ریٹ 3.5تھاجسے ہم الحمد اللہ 5.8فیصد پر لے کر گئے ۔ حالات کی وجہ سے عالمی اداروں نے پیشگوئی کی گئی ہے یہ 4.9پر آجا ئے گی ۔ ملک کی ترقی کیلئے 7فیصد گروتھ ریٹ حاصل کرنا نا گزیر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ 2013ء میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کاکیا عالم تھا ،عوام نے 20،20گھنٹے لوڈ شیڈنگ برداشت کی ہے ۔ لیکن جو اس کے ذمہ دار ہیں کیا ان سے کسی نے پوچھا ہے ، کسی نے پوچھاکہ آپ نے اس ملک کا کیا حشر کر دیا ہے ایسے میں ہم کیا خاک ترقی کریں گے، ان سب چیزوں کا آخر کوئی تو ذمہ دار ہوگا۔۔نواز شریف نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح لوگوں کی پذیرائی مل رہی ہے آپ لوگ تیاری کریں ۔

یہاں لوگوں نے بڑی کوشش کہ پارٹی کو توڑا جائے ، جو ہمارے تھے ہی نہیں ہمیں ان کے بارے میں پتہ تھا اور ہم انہیں ٹکٹ بھی نہیں دینا چاہتے تھے ۔ انہوںنے کہا کہ سینیٹ میں جو تماشہ ہواوہ سب نے دیکھا ، کیا سینیٹ جیسے ادارے میں ایسا ہوتا ہے ، کیا کسی اور ملک میں ایسا کیا جا سکتا ہے ۔ بلوچستان میں پیسے چلے ، خرید و فروخت کی گئی ، پہلے پیسوں سے ووٹ خریدے گئے پھر پی ٹی آئی نے تیر کے نشان کو ووٹ دیا ، یہ کس منہ اور زبان سے کہتے ہیں کہ ہم نیا پاکستان بنائیں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختوانخواہ کے منہ سے حقیقت نکل بھی گئی ہے ، جماعت اسلامی نے بھی بات کی ہے ۔ کیا اوپر سے بنی گالا سے حکم آیا ہے ۔ انہوںنے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب یہ جانتے ہیں کہ نہیں جانتے ۔ اگر اوپر سے آڈر لینے ہیں تو پھر سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔ اوپر سے آڈر لیتے ہیں اور تبدیلی کی بات بھی کرتے ہیں ، کیا یہ منافقت اور دوہرے معیار نہیں اور اس پر بر ملا بات ہو رہی ہے ۔

عمران خان نے آصف زرداری کو بیماری کہا تھا لیکن پھر تیر کو ووٹ بھی ڈالا ۔ ماضی میں اس طرح کی سیاست نے پاکستان کوتباہ کیا ہے ، آپ کردار ادا کر سکتے ہیں اس کو روک سکتے ہیں ، اسے روکیں گے تو پاکستان اکیسویں صدی میں داخل ہوگا کیونکہ ابھی تک پاکستان اکیسویں صدی میں داخل نہیں ہوا ، ہمیں اس سیاست کو روکنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام آپ کی بات سننے کیلئے تیار ہیں ، آپ کی بات بہت جلد پاکستان میں پھیلے گی ، اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا ۔

انہوںنے کہا کہ آپ لوگوںنے اپنے حلقوں کی بڑی خدمت کی ہے ، اس میں وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا بڑا کردار ہے اور انہوںنے بہت عمدہ کردار ادا کیا ہے اور مثالی خدمت کی ہے ۔ شہباز شریف نے سڑکیں بنائیں، ہسپتال بنائے ، سکول اور یونیورسٹیاں بنائیں اور یہی ان کے گلے پڑے ہوئے ہیں اور یہی ان کا قصور بنا دیا گیا ہے جس پر شرکاء نے بھرپور قہقہ لگایا اور تالیاں بجا کر شہباز شریف کو تحسین پیش کیا ۔

انہوںنے کہا احسن اقبال نے درست کہا ہے کہ آپ کی عزت ہے تو سیاستدان کی بھی عزت ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ خوف نہ کھائیں جو دن لکھا ہے اس وقت تک آپ کو کوئی جینے سے روک نہیں سکتا ۔ آپ کو عزت ، دلیری اور جراتمندی سے زندگی گزارنی ہے ، حق اور سچ پر چلیں اور سمجھوتہ نہ کریں ۔ نواز شریف نے کہا کہ عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور آپ کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہیں ، اس کو کیا سمجھیں ،یہ سب اللہ کا کرم اور فضل اور نعمت ہے ۔ اٴْدھر وہ کر رہے ہیں اِدھر پاکستان کی عوام آپ کے ساتھ ہیں وہ آپ کے لئے میدان عمل میں نکلے ہوئے ہیں اگر کوئی نہ سمجھے تو میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا وقت آ گیا ہے ، سب کو کھڑا ہو جانا چاہیے اگر قوم کھڑی ہو جائے تو کون کیا بیگاڑ سکتا ہے ۔