سپریم کورٹ کا ریلوے کے خسارے کا آڈٹ کروا کے چھ ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم

ہم چاہتے ہیں ایسا نظام وضع کر کے جائیں تاکہ بعد میں آنے والا کوئی من مانی نہ کر سکے‘چیف جسٹس میاں ثاقب نثار آپ ہمارے قابل احترام چیف جسٹس ، ریلوے کو پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے بڑی محنت کی ،آپ دوجملے تعریف کے بول دیں‘ سعد رفیق اپنے جملے میں سے قابل احترام کا لفظ نکال دیں، عدالت میں قابل احترام کہنے سے آپ کی بات میں تضاد محسوس ہوتا ہے، قابل احترام عدالت کے اندر کہا جائے تو باہر بھی سمجھا جائے‘چیف جسٹس ثاقب نثارکے ریمارکس

ہفتہ اپریل 15:20

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے کے خسارے کا آڈٹ کروا کے چھ ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نظام وضع کر کے جائیں تاکہ بعد میں آنے والا کوئی من مانی نہ کر سکے،،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی جانب سے قابل احترام کہنے پر کہا کہ اپنے جملے میں سے قابل احترام کا لفظ نکال دیں،عدالت میں قابل احترام کہنے سے آپ کی بات میں تضاد محسوس ہوتا ہے،قابل احترام عدالت کے اندر کہا جائے تو باہر بھی سمجھا جائے۔

گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں محکمہ ریلوے میں اربوں روپے خسارے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی ۔

(جاری ہے)

سیکریٹری ریلوے عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر سیکریٹری ریلوے کی جانب سے عدالت کو پریزینٹیشن دی گئی ۔جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے وزیر کہاں ہیں ۔

جس پر سیکریٹری ریلوے نے کہا کہ آج انہیں عدالت نے طلب نہیں کیا اس لیے نہیں آئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں کس نے استثنیٰ دیا، بلائیں وزیر ریلوے کو، ان کے سامنے ہی بات ہوگی۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کے طلب کرنے پر وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق سپریم کورٹ رجسٹری پیش ہو گئے۔عدالت عظمیٰ نے ریلوے کے خسارے کا آڈٹ کروا کے چھ ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تو وزیر ریلوے سعد رفیق نے استدعا کی کہ عدالت دس سال کا آڈٹ کروائے تاکہ پچھلی اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کا فرق واضح ہو جائے۔

آپ ہمارے قابل احترام چیف جسٹس ہیں، آپ کے اقدامات کی وجہ سے صرف عوام کو نہیں بلکہ حکومت کو بھی ریلیف ملا ہے، ہم نے ریلوے کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لیے بڑی محنت کی ہے، ہم سب مایوسی کا شکار ہیں اس لیے آپ دوجملے تعریف کے بول دیں۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اپنے جملے میں سے قابل احترام کا لفظ نکال دیں، عدالت میں قابل احترام کہنے سے آپ کی بات میں تضاد محسوس ہوتا ہے، قابل احترام عدالت کے اندر کہا جائے تو باہر بھی سمجھا جائے، آڈٹ ہمیشہ برسر اقتدار لوگوں کا ہوتا ہے۔ آڈٹ رپورٹ ٹھیک آنے کے بعد تعریف بھی کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نظام وضع کر کے جائیں تاکہ بعد میں آنے والا کوئی من مانی نہ کر سکے۔