شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دبائو جاری رکھیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

ہفتہ اپریل 16:33

ْواشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان جمعے کو ہونے والے کامیاب مذاکرات کے باوجود شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دبا جاری رکھیں ،امید کرتے ہیں کہ ایک دن تمام کوریائی افراد جوہری ہتھیاروں سے پاک جزیرنما خطے میں مل کر رہیں گے، آئندہ ہفتوں میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کے دوران اگر ممکن ہوا تو وہ ان کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کی ذمہ داری نبھائیں گے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات زیر غور دو ممالک میں سے ایک میں ہو گی۔یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ دنوں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر چکے ہیں اور دونوں رہنما رواں سال مئی میں ملاقات کریں گے۔

(جاری ہے)

کم جونگ ان جمعے کی صبح سنہ 1953 کی کورین جنگ کے اختتام کے بعد سرحد پار کر کے جنوبی کوریا میں داخل ہوئے تھے اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان اپنے نو رکنی وفد کے ساتھ کم جونگ ان سے ملے تھے۔

صدر ٹرمپ نے امید کا اظہار کیا تھا کہ کم جونگ ان سے ملاقات کامیاب ثابت ہو گی لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ باعزت طریقے سے اجلاس سے اٹھ کر چلے جائیں گے۔شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کرنے اور پیانگ یانگ میں کم جونگ ان سے ملاقات کرنے والے نئے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پوم پیاو نے کہا تھا کہ انھیں ایسا تاثر ملا کہ کم جونگ ان کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

دوسری جانب شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے جمعے کو جنوبی کوریا کے رہنماں کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو جزیرا نما کوریا میں خوشحالی کے لیے ایک نیا سنگ میل قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ جمعے کو شمالی اور جنوبی کوریا کے رہنماں نے تاریخی ملاقات کے بعد جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے مل کر کام کر نے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ اعلان شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور جنوبی کوریا کے رہنما مون جے اِن کے درمیان سرحد پر واقع غیر فوجی علاقے میں ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا۔خطے کو جوہری ہتھیاروں کو کیسے پاک کیا جائے گا اس حوالے سے تفصیلات واضح نہیں تاہم یہ اعلان شمالی کوریا کی جانب سے کئی ماہ سے جاری جنگی بیانات کے بعد سامنے آیا ہے۔دونوں رہنماں کی جانب سے مشترکہ بیان میں جن دیگر امور پر اتفاق کیا گیا: دونوں ملکوں کے درمیان 'جارحانہ سرگرمیوں' کا خاتمہ۔ پروپیگینڈہ نشریات بند کرتے ہوئے دونوں ممالک کو تقسیم کرنے والے 'غیر فوجی علاقی' کی 'امن کے علاقی' میں تبدیلی۔