جنرز کی جانب سے فروخت میں اضافہ کے باعث روئی کے بھا ؤمیں مجموعی طورپر مندی کا رجحان رہا

اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کی کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 7400 روپے کے بھاؤ پر بند کیا

ہفتہ اپریل 16:47

جنرز کی جانب سے فروخت میں اضافہ کے باعث روئی کے بھا ؤمیں مجموعی طورپر ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی محتاط خریداری کے نسبت جنرز کی جانب سے فروخت میں اضافہ کے باعث روئی کے بھا ؤمیں مجموعی طورپر مندی کا عنصر رہا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کی کمی کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 7400 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔

فی الحال جنرز کے پاس روئی کی تقریبا تین لاکھ گانٹھوں کا قلیل اسٹاک موجود ہے جس میں بیشتر روئی ہلکی کوالٹی کی ہے صوبہ سندھ کے زریں علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پانی کی کمی کے باعث کپاس کی بوائی میں تاخیر ہورہی ہے بلکہ شدید گرمی کے باعث نومولود پودے جل جاتے ہیں۔ گوکہ اس سال گنے کے کاشتکاروں کو پریشانی ہونے کے سبب وہ کپاس کی کاشت کی جانب راغب ہورہے ہیں کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے کپاس کی فصل بڑھانے کے اقدام کئے جارہے ہیں خصوصی طور پر پنجاب سیڈ کارپوریشن کپاس کے کاشتکاروں کو رعایت پر بیج فروخت کررہی ہے گوکہ صوبہ سندھ میں کپاس کی پیداوار تخمینہ سے زیادہ ہوئی ہے اگر پانی وافر مقدار میں فراہم کیا گیا تو صوبہ سندھ میں کپاس کی پیداوار مزید بڑھ سکتی ہے نئے سیزن 19-2018 میں صوبہ سندھ میں تقریبا ایک ارب روپے کی لاگت سے 14 نئی جننگ فیکٹریاں لگائی جارہی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ کپاس کی فصل صوبہ پنجاب میں تسلی بخش نہیں صوبہ سندھ میں کپاس کی پیداوار تقریبا 32 تا 36 من فی ایکڑ ہوتی ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں اس سے نصف پیداوار ہوتی ہے حکومت کے محکمہ ذراعت کو صوبہ پنجاب میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کی حکمت عملی کرنی چاہئے ہر سال کی طرح اس سال بھی صوبہ پنجاب کے محکمہ ذراعت کی جانب سے صوبہ میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ گانٹھوں کی ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے لیکن پیداوار کیلئے ایکڑ کا تخمینہ لگایا جاتا ہے وہ عموما دیکھا گیا ہے صحیح نہیں ہوتا جو پیداوار کو متاثر کرتا ہے۔

(جاری ہے)

ذراعت کے محکمہ کو پیداوار کا صحیح تخمینہ لگانا چاہئے جس سے معلوم ہوسکے کے بیج میں نقص ہے۔ پانی کی کمی ہے یا کھاد اور دوائی کا مسئلہ ہے۔ اب وہاں بھی جزوی طورپر کاشت شروع ہوچکی ہے۔ اس لئے جنگی بنیادوں پر اقدام کرنے کی ضرورت ہے تاخیر پیداوار کو متاثر کرسکتی ہے۔ نسیم عثمان نے بتایا کہ اس سال ملک میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 16 لاکھ گانٹھوں کی ہوئی ہے جبکہ بیرون ممالک سے تقریبا 30 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کئے گئے ہیں جس میں سے بیشتر شیپمنٹ ہوچکی ہے۔

دریں اثنا اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی برآمداد بڑھانے کے دعوے کئے جارہے ہیں لیکن نئے سال کے بجٹ 19-2018 میں برآمداد بڑھانے کیلئے کوئی مفید اقدام نہیں کیا گیا خصوصی طور پر ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمد میں اضافہ نہ ہونے کی صورت میں کپاس کے بھا اور پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔