آئندہ مالی سال کا بجٹ متوازن، حقیقت پسندانہ اور مراعات و سہولیات کا حامل ہے، مسلم لیگ

ہفتہ اپریل 17:08

آئندہ مالی سال کا بجٹ متوازن، حقیقت پسندانہ اور مراعات و سہولیات کا ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو متوازن، حقیقت پسندانہ اور مراعات و سہولیات کا حامل بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پانچ سال میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کو دگنا اور افراط زر کی شرح کو نصف کر دیا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے،،بجٹ میں شرح نمو کو برقرار رکھنے کیلئے موثر اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، تمام اخراجات بجٹ میں شامل کر دیئے گئے ہیں اس لئے ان اخراجات میں اضافہ کا امکان نہیں، زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس دائرہ میں لانے کے لئے کوششیں بروئے کار لائی جا رہی ہیں، بیل آئوٹ پیکج کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیرمملکت/ وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کے ہمراہ ہفتہ کو بعد از بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سیکرٹری خزانہ عارف خان، چیئرمین ایف بی آر طارق محمود پاشا اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں بجٹ کی تیاری میں محنت کی گئی اور اس ضمن میں وزارت خزانہ اور ایف بی آر سمیت اقتصادی ٹیم کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برآمدی پیکج کے حوالے سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے برآمدات کے اضافہ کا ہدف دیا ہے جس کے لئے آئندہ دو ہفتوں میں خصوصی کمیٹی قائم کی جائے گی جو برآمدی پیکج کے حوالے سے اقدامات کرے گی، برآمدات کے حامل شعبوں کو ٹیکس کی مد میں ریلیف دیا گیا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے جبکہ جن شعبوں پر ٹیکس بڑھایا گیا ہے وہ درآمدات سے متعلق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمت کے حوالے سے موجود مسائل کو بروقت ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی حد کو بڑھایا ہے جو کافی عرصے سے ایک ہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات جتنی سستی ہیں، دیگر درآمدی ممالک میں ان کی قیمتیں اتنی کم نہیں ہیں، حکومت کی کوشش ہے کہ اسے مناسب سطح پر رکھے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ بیل آئوٹ پیکج کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ہماری کوشش ہے کہ آئی ایم ایف کے پیکج سے گریز کیا جائے۔ بجلی کے گردشی قرضوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے توانائی کے شعبہ میں گزشتہ پانچ سال کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، 12 ہزار میگاواٹ کے پاور پلانٹ لگائے جبکہ گزشتہ 63 برسوں میں محض 20 ہزار میگاواٹ کے پلانٹ لگے تھے۔

انہوں نے کہا کہ جوں جوں بجلی کی پیداوار بڑھ رہی ہے گردشی قرضہ بھی بڑھ رہا ہے تاہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، 350 ارب روپے کا واجب الادا قرضہ رہ جائے گا جو مناسب سطح پر ہے اور امید ہے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وہ این اے 252 کراچی سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے تاہم نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے وزیراعظم نے مشورہ دیا ہے کہ میں حلقہ این اے 243، 244 سے الیکشن لڑوں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کراچی کے لئے شاندار پیکج کا اعلان کیا ہے، کراچی میں پانی کا سنجیدہ مسئلہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کریں اور اس ضمن میں بجٹ میں منصوبہ کا اعلان بھی کیا گیا ہے، ہم گرین لائن منصوبے کے لئے بسوں کی فراہمی کی بھی پیشکش کر چکے ہیں، پانی کی فراہمی اگرچہ سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن ہم اس مسئلے کے حل کے لئے بھی کوشاں ہیں۔

آمدنی پر ٹیکس کی حد کو 12 لاکھ روپے تک بڑھانے اور 4 سے 8 لاکھ کے لئے ایک ہزار اور 8 سے 12 لاکھ آمدنی والے کے لئے سرکاری ملازمین کے لئے دو ہزار ٹیکس سے متعلق سوال کا جواب پر انہوں نے کہا کہ ایک ہزار اور دو ہزار روپے کا ٹیکس ٹوکن کے طور پر لگایا گیا ہے اور یہ اقدام ٹیکس فائلر کا درجہ برقرار رکھنے کے لئے کیا گیا ہے اور یہ ان کے لئے فائدے کے لئے ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا کام بجٹ منظور کرنا نہیں، یہ اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ ایک اور سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ ہم مالیاتی خسارہ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔ نان فائلر کے لئے چالیس لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے کے حق پر پابندی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس شہری کو چالیس لاکھ سے زائد مالیت کی جائیداد بنانے کا حق ہے اس کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرے۔

قرضوں کی ادائیگی سے متعلق سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں قرضہ جی ڈی پی کی شرح کے لحاظ سے 6.1 فیصد بڑھا جبکہ ہمارے دور میں اس کی شرح 4.7 فیصد رہی ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے محصولات ہارون اختر خان نے کہا کہ بجٹ کی تیاری کے لئے بہت محنت کی گئی ہے اور ایف بی آر کی ٹیم کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ کی تیاری کے لئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،، وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل سمیت تمام شراکت داروں سے تفصیلی مشاورت کے بعد قومی ترقی کے لئے اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ بجٹ دستاویز تیار کی ہے، محصولات کے حوالے سے ترقی پسند اور بصیرت انگیز دستاویز پیش کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں سالانہ 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور پانچ سال کے بعد ایف بی آر کے محاصل دگنا ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ پانچ سال میں جی ڈی پی گروتھ کو دگنا اور افراط زر کی شرح کو آدھا کر دیا ہے جو بہت بڑی کامیابی ہے، امید ہے کہ اس شرح کو آئندہ برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کا خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے، ان کو سہولیات دی گئی ہیں جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لئے بھی آمدن ٹیکس کی ادائیگی کا آسان طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اور صرف ایک صفحے کا فارم متعارف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء میں صوبوں کو 13 سو ارب روپے دیئے جاتے تھے جبکہ اب صوبوں کو 23 سو ارب روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کے ٹیکس آڈٹ کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کئے گئے ہیں اور اب تین سال میں صرف ایک مرتبہ ہی آڈٹ کیا جا سکے گا۔ ہارون اختر نے کہا کہ کمشنر کے اختیارات بھی ہیڈ کوارٹرز کو منتقل کر دیئے گئے ہیں تاکہ ٹیکس دہندگان کی سہولیات میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ مزید کئی اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کے درمیان تنازعات کے خاتمہ کے لئے کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپر ٹیکس کی شرح میں سالانہ ایک فیصد کی کمی کی ہے اور اس سے کارپوریشنوں پر عائد سپر ٹیکس تین سال جبکہ بینکوں پر عائد ٹیکس چار سال میں ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئندہ بجٹ میں ملک میں کام کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی اقدامات کئے ہیں اس حوالے سے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کو پانچ سال کے دوران پانچ فیصد تک کم کیا ہے جس کو مزید کم کر کے 25 فیصد تک لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے منقسم منافع کے حوالے سے کمپنیوں کو مراعات دی ہیں تاکہ عام شیئر ہولڈرز کو منافع میں شامل کیا جا سکے۔ اس پر عائد ٹیکسز کی شرح کو کم کیا گیا ہے لیکن منقسم منافع کی عدم ادائیگی پر ٹیکس دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی صنعت کے تحفظ کے لئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں اور اس حوالے سے خام مال، مشینری اور فاضل پرزہ جات کی درآمد پر ٹیکسز کی شرح کو کم یا ختم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی صنعت کے تحفظ اور صنعتی پیداوار میں اضافہ سے درآمد کو کم کرنے میں مدد ملے گی جس سے قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تیار ہوٹلوں، کمروں کی درآمد، ڈیری، زراعت، فلم انڈسٹری، ایل ای ڈی اور کوئلے کی درآمد پر عائد ٹیکسز کم کئے ہیں اسی طرح ایمبولینسز کو ٹیکس سے مکمل طور پر استثنیٰ دیا گیا ہے، ایل این جی، کمپیوٹرز کے پرزہ جات اور سٹیشنری سمیت دیگر کئی اشیاء پر زیرو ٹیکس کی شرح بحال رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پر تنقید کی جاتی ہے کہ ہم نے سرکاری محاصل میں اضافے کے لئے اقدامات نہیں کئے لیکن واضح رہے کہ حکومت نے انکم ٹیکس کی وصولیوں کو بڑھانے کے لئے بھی خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں۔ یہ کہنا کہ یہ ریونیو کی پیداوار کا حامل بجٹ نہیں ہے یکسر غلط ہے، یہ بجٹ بہت سوجھ بوجھ اور سوچ بچار کے بعد بنایا گیا ہے جو ملک کے لئے بہتر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس کے دائرہ کار اور ٹیکس وصولیوں میں اضافے کے لئے حکومت نے گاڑیوں اور غیر منقولہ جائیداد کی خریداری کے لئے گوشوارے جمع کرانا شرط لازم قرار دی ہے جبکہ گوشوارے جمع نہ کرانے والے گاڑی اور غیر منقولہ جائیداد کی خرید پر زائد ٹیکس ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گفٹ سکیم کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے بھی اقدام کیا گیا ہے اب صرف رشتہ دار ہی اس سکیم سے مستفید ہو سکیں گے۔

سگریٹوں پر ٹیکس کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں اقدام سے سگریٹوں کی غیر قانونی فروخت کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے غیر ملکی اثاثوں کے حوالے سے بھی ٹیکس کی شرح متعارف کرائی ہے جبکہ اس کے علاوہ مالیاتی اداروں، نادرا اور بینکوں سے مل کر بھی کئی اقدامات کئے ہیں تاکہ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ روپے سے زائد ترسیلات زر پر آمدنی کا ذریعہ بتانا ہو گا اور ٹیکس بھی ادا کرنا ہو گا۔ مہنگائی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ہارون اختر خان نے کہا کہ دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح کو معلوم کرنے کا مسلمہ طریقہ کار اور اشاریے موجود ہیں اور اشیاء کو انہی اقدامات سے دیکھا جاتا ہے، گزشتہ پانچ سال میں افراط زر کی شرح تاریخ میں سب سے کم رہی ہے۔