دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ پر جلد کام شروع ہو گا،آئی جی بلوچستان

بلوچستان پولیس ایکٹ 2018 تشکیل دے دیا گیا منظوری کے لئے جلد اسمبلی بھیجوایا جائے گا دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کیلئے افسران اور جوانوں کی جدید خطوط پر تربیت کی جارہی ہے،میڈیا سے بات چیت

ہفتہ اپریل 17:26

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) آئی جی پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ بلوچستان دیگر صوبوں سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہے دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ پر جلد کام شروع ہو گا بلوچستان پولیس ایکٹ 2018 تشکیل دے دیا گیا منظوری کے لئے جلد اسمبلی بھیجوایا جائے گا دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کیلئے افسران اور جوانوں کی جدید خطوط پر تربیت کی جارہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ کوئٹہ اس وقت دہشت گردی کا شکار ہے پولیس اورقانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے فرنٹ لائن پر لڑرہے ہیں سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت کوئٹہ میں چودہ سو کیمروں کے ذریعے دو سو اکسٹھ مقامات کی مانیٹرنگ کی جائے گی جوانوں کی اپ گریڈیشن اور فلاح کیلئے مختلف سفارشات صوبائی حکومت کو بھجوا دی گئی ہیں شہدا کی تنخواہوں اور مراعات میں حاضر سروس اہلکاروں کی طرح اضافے کیاحکامات جلد جاری ہوجائیں گے پولیس اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون سے بحالی امن کے لئے کوشاں ہیں بلوچستان کے تمام ڈویژن میں ایس پی سی ٹی ڈی تعینات کئے جارہے ہیں بلوچستان میں گریڈ اٹھارہ سے گریڈ اکیس کے پچاس فیصد افسران کی کمی ہے چونتیس اضلاع میں سے بائیس اضلاع میں ایس پیز نہیں ہیں چھ ڈویژن میں سے چار ڈی آئی جیز کی کمی ہے بلوچستان پولیس ایکٹ 2018 تشکیل دے دیا گیا منظوری کے لئے جلد اسمبلی بھیجوایا جائے گا بلوچستان پولیس میں افسران کی کمی پوری کرنے کے لئے حکمت عملی تشکیل نہ دی گئی تو آئندہ دس سے بارہ سال میں صورتحال سنگین ہوجائے گی بلوچستان پولیس میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے براہ راست ڈی ایس پی اور انسپکٹرز بھرتی کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ۔