مقبوضہ کشمیر : کٹھوعہ واقعے کے مقدمے کی سماعت پر حکم امتناعی افسوسناک ہے۔فریدہ بہن جی

عدلیہ کا کام مظلوم کوانصاف دلانا ہوتا ہے لیکن ایسا نظر آرہا ہے کہ بھارت کی عدلیہ بھی فرقہ پرستوں کے دبائو میں کام کر رہی ہے، بیان

ہفتہ اپریل 17:26

سرینگر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیر میں جموں کشمیر ماس مومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی نے بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں آٹھ سالہ کم عمر بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل کے مقدمے کی سماعت پر حکم امتناعی کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ فریدہ بہن جی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںکہاکہ عدلیہ کا کام مظلوم کوانصاف دلانا ہوتا ہے لیکن ایسا نظر آرہا ہے کہ بھارت کی عدلیہ بھی فرقہ پرستوں کے دبائو میں کام کر رہی ہے۔

انہوں نے بار کونسل آف انڈیا کی طرف سے کھٹوعہ بار ایسو سی ایشن کو کلین چٹ دینے پر بھی حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیاکونسل کو واقعے کے مجرموں کے خلاف عدالت میں چارچ شیٹ جمع کرانے کے موقع پرہندو فرقہ پرست وکلا کی طرف سے کی جانے والی ہلڑ بازی نظر نہیں آئی۔

(جاری ہے)

فریدہ بہن جی نے کٹھ واقعے کی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تاکہ مجرموں کو عبرتناک سزی دی جاسکے۔

انہوں نے واقعے کی تحقیقات بھارتی سی بی آئی سے کرانے کے ہندو انتہا پسندوں کے مطالبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مطالبہ کا واحد مقصد مجرموں کو بچانے کے سوا کچھ نہیں۔ دریں اثنا جموںوکشمیرمسلم لیگ نے بھارتی فورسز کی طرف سے کولگام کے علاقے کیلم میں رات کے وقت گھروں پر چھاپوں اور نوجوانوں کی گرفتار ی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے ۔

مسلم لیگ کے ترجمان سجاد ایوبی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کی بھارتی پویس نے گھروں پر چھاپوں کے دوران عورتوں اور بچوں سمیت مکینوں کو نہ صرف سخت ہراساں کیا بلکہ عارف احمد بدر، نواز احمد وانی، محمد امین پرے ، نواز احمد حجام، ارشاد حسین لون، ادریس احمد پڈر، منظور احمد حجام اور زبیر احمد بٹ نامی نوجوانوں کو گرفتار کر کے دیوسر تھانے میں نظر بند کر دیا جہاںانہیں سخت مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوںنے کہا کہ بھارتی پولیس نے کشمیری نوجوانوں کے تعیں جو ظالمانہ طرز عمل اپنا رکھا ہے اس کی وجہ سے وہ مسلح جد وجہد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ نوجوانوں کی بلا جواز گرفتاری کاسلسلہ بند نہ کیا گیا تو اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت اس وقت مقبوضہ کشمیر میں اپنی لڑائی مکمل طور پر ہار چکا ہے اور وہ صرف اور صرف فوجی طاقت کے بل پر مقبوضہ علاقے پر قابض ہے۔