فیڈرل بجٹ2018-19کے منفی اور مثبت دونو ں پہلو ہیں،ایف پی سی سی آئی

ہم امُید کرتے ہیں کہ آنے والی حکومت ان بجٹ کے اقدامات کو جاری رکھے گی،غضنفر بلور ،سید مظہر علی ناصر

ہفتہ اپریل 19:02

فیڈرل بجٹ2018-19کے منفی اور مثبت دونو ں پہلو ہیں،ایف پی سی سی آئی
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامر س اینڈ انڈسٹر ی کے صدر غضنفر بلو ر اور سنیئر نائب صدر سید مظہر علی نا صر نے کہاکہ فیڈرل بجٹ2018-19کے منفی اور مثبت دونو ں پہلو ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایف پی سی سی آئی ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کوفیڈرل منسٹر بننے پر مبارک باد پیش کرتی ہے اور ہم مفتاح اسماعیل کو فیڈریشن ہاؤس میںبجٹ کی خامیاں ڈسکس کرنے کیلئے بلائیں گے ۔

ہم امُید کرتے ہیں کہ آنے والی حکومت ان بجٹ کے اقدامات کو جاری رکھے گی۔انہوں نے کہاکہ بڑے کاروبار کی حوصلہ افزائی کیلئے حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس کو کم کرنے کیلئے پانچ سال کی منصوبہ بندی کی ہے۔ جس کے مطابق 2023 تک کارپوریٹ ٹیکس 25 فیصد تک کم کیا جائے گا اور یہ کمی ہر سال ایک ایک فیصد کم کی جائے گی۔

(جاری ہے)

ایف پی سی سی آئی اس کو سراہتی ہے۔اسی طرح سپر ٹیکس بھی2021تکPhase Outکر دیا جائے گا اور اسے تین فیصد بینکنگ سیکٹر اور دو فیصد لوگو ں پر کم کیاجائے گا۔

بجٹ زراعت ،یوریا،سیمنٹ اور انرجی سیکٹر پر مثبت اثر کرے گا جبکہ صحت ،،تعلیم اور سوشل سیکیورٹی،یوتھ افیئر کوPriorityدینے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ ہم کر ا چی پیکیج جس میں Desalinationپلانٹ اور گرین بسوں کے پروجیکٹ شامل ہیں انہیں سراہتے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی نان فائلر پر جو WHTمیں0.6فیصد سے 0.4فیصد تک کمی کی گئی ہے کو بھی سراہتا ہے۔Re Fundsکی ادائیگی کو حکومت نے ایک سال کیلئے موخر کردیا ہے جوکہ ہمیں منظو ر نہیں ہے جب تکRe Funds کی واپسی نہیں ہو گی تو برآمدکنندگان نئی سرمایہ کاری کیسے کریںگے اورBMRکیسے ہوگئی ہماری حکومت سے درخواست ہے کہRe Funds کی ادائیگی جلد از جلد کرے۔

غیر ملکی سرما یہ کاری اگرچہ2.4ارب ڈالر تک بڑھ چکی ہے جو کہ زیادہ ترCPECسے ملحقہ منصو بوں میں چین کی سرمایہ کاری ہے ہمیں چین کے علاوہ دوسرے ملکوں سے سرمایہ کا ری کی بھی ضرورت ہے۔پیٹرولیم پروڈکس پر ٹیکس کو بڑھا یا گیا ہے جس سے ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھے گی جو کہCost of Doing Businessکو بڑھا گی۔ایف پی سی سی آئی نے مطا لبہ کیاتھا کہ Unregisteredافراد پر ٹیکس کی شرح کو دو فیصد سے ایک فیصد تک کم کیا جائے لیکن حکومت نے اسے تین فیصد تک بڑھا دیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی مفتاح اسماعیل کیاقدام کو سراہتی ہے کہ اب ملک میں مزیدDevaluationپاکستان کے روپے کی نہیں ہو گی۔ہم حکومت کے اس اقدام کو بھی سراہتے ہیں کہ اس نے Compositeآڈٹ کا سسٹم متعارف کروایا ہے جوکہ تین سالوں میں ایک دفعہ ہوگا اس سے بزنس کمیونٹی میں اعتماد بڑے گا ۔