حکومت نے بجٹ میں حسب سابق ایکسپورٹ سیکٹر کو یکسر نظر اندازکر دیاہے ،جاوید بلوانی

ہفتہ اپریل 19:08

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) ُٓپاکستان اپیریل فورم کے چیئرمین، ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائلز ایسوسی ایشن کے چیف کوآرڈینیٹر اور پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین محمد جاوید بلوانی نے حکومت پاکستان کے پیش کردہ وفاقی بجٹ 2018-19پر ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں جنرل ٹریڈ اور انڈسٹری پر توجہ مرکوز رکھی گئی جبکہ حسب سابق حکومت نے ایکسپورٹ سیکٹر کو یکسر نظر اندازکر دیا۔

پانچ زیرو ریٹیڈ سیکٹر کو بحال رکھنا اطمینان بخش ہے مگر انھیں ایس آر او سسٹم کے بجائے ایکٹ بنا کر ریگولیٹ کرنے کا ایکسپورٹرز کا دیرینہ مطالبہ تاحال توجہ طلب ہے۔۔بجٹ میں ایکسپورٹرز کے مطالبات اور بجٹ تجاویز کو اہمیت نہیں دی گئی۔

(جاری ہے)

ماضی کی طرح دوبارہ اعلانات کئے گئے، تسلیاں اور دلاسے دیئے گئے جبکہ کوئی محکم وعدہ نہیں کیا گیا۔ ایکسپورٹرز کے تاحال اربوں روپے کے ریفنڈز جن میں سیلز ٹیکس ریفنڈز، کسٹمز ریبیٹ، انکم ٹیکس ریفنڈز وغیرہ کی ادائیگیوں کے لئے کو ٹھوس اقدامات نظر نہیں آئے ۔

ملک کے معاشی نظام کے استحکام کیلئے ایکسپورٹس ناگزیر ہیں ۔اگر ایکسپورٹرز کے اربوں روپے کلیمزکی ادائیگی بجلد نہ کی گئی تو ان کے مالی مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے اور ایکسپورٹس میں کمی کے نتیجہ میں تجارتی خسارہ 23.7بلین ڈالر سے مزید تجاوز کر جائے گا۔ گزشتہ 19ہفتوں سے متواتر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے reservesمیں کمی کا رجحان ہے اورجو اس وقت10.90بلین ڈالرز کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

جاوید بلوانی نے ٹیکس کلیکٹرز اور ایف بی آر کے صوابدیدی اختیارات میں کمی اور مزکورہ اختیارات کو حسب سابق حکومت کو منتقل کئے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔انھوں نے بجٹ میں کراچی کیلئے 25بلین روپے کے پیکج کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا اور ٹیکسوں کی شرح میں کمی اور بی ایم آر، نئی سرمایہ کاری اور نئی صنعتوں کے قیام پر ٹیکس کریڈٹ کو جاری رکھنے کے اقدام کو سراہا۔

انفرادی اشخاص، اے او پی اور کمپنیوں کے ٹیکسوں کی شرح میں کمی اور مختلف اشیاء کی کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی تعریف کی۔انھوں نے زور دیا کہ ایکسپورٹ سیکٹر کی ریلیف کے لئے حکومت ضروری اقدامات لازمی عمل میں لائے جس میں سرفہرست ایکسپورٹرز کے کلیمز کی جلد از جلد ادائیگی ہے بصورت دیگر صورتحال تشویشناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔جاوید بلوانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے وزیر اعظم ایکسپورٹ پیکج کے تحت 180ارب روپے کا اعلان کیا جس میں سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی131.25بلین میں سے صرف21.5ارب روپے جوکل پیکج کا 16.38فیصد بنتے ہیں حکومت نے ادا کئے ہیں۔

کلیمز کی ادائیگیوں کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر بجٹ میں آئندہ 12ماہ کے دوران ریفنڈز کی ادائیگی کا دلاسہ دیا گیا۔ موجودہ حکومت کے وعدے آئندہ آنی والی حکومت کس طرح پورا کرے گی اس طرح کے وعدے اوراعلانات موجودہ حکومت نے اپنے سابقہ چار بجٹوں یعنی بجٹ 2017-18، بجٹ 2016-17، بجٹ 2015-16اور بجٹ 2014-15میں بھی کئے تھے مگر ان پر عملی اقدامات کا فقدان رہا۔

جہاں ایک طرف تو پیکج کے تحت ایکسپورٹرز کو مکمل ادائیگیاں نہیں ہوئی تو دوسری طرف حکومت نے بجٹ میں ایک مزید بڑے ایکسپورٹ پیکج کے جلد اجراء کا اعلان کیا ہے جو ایکسپورٹرز کیلئے باعث حیرت ہے۔بلوانی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایکسپورٹرز کی بجٹ تجاویز پر حکومت سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے ہوئے ان پر عملی اقدامات کرے۔ ایکسپورٹرز نے اپنی بجٹ تجاویز میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ایکسپورٹ ڈولپمنٹ سرچارج جو حکومت کے پاس غیر استعمال شدہ اربوں روپے کا فنڈ جمع رکھا ہوا ہے اس کے خرچ ہونے تک ایکسپورٹرز سے سرچارج وصول نہ کیا جائے،ایکسپورٹس پر 1فیصد ٹیکس میں کمی کرتے ہوئے اسی0.5فیصد کیا جائے، پانچ زیرو ریٹیڈ سیکٹر کو ایس آر او کے تحت ریگولیٹ کرنے کے بجائے ایکٹ بنایا جائے، ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کلیمز کی فوری ادائیگیاں کی جائیں، پانچ زیرو ریٹیڈ سکیٹرز کے لئے علیحدہ یوٹیلیٹز ٹیریفس متعارف کروائے جائیں جو خطے کے ممالک یوٹیلیٹز ٹیریفس سے کم ہوں، ڈی ٹی آر ای اسکیم اور قوانین کے تحت مینوفیکچررز کم ایکسپورٹرز اسٹیچنگ یونٹس کو یارن امپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔

جاوید بلوانی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زبانی جمع خرچ سے ایکسپورٹس میں اضافہ ممکن نہیں۔ حکومتیں سیاسی مقاصد کی تکمیل کی خاطر اعلانات اور وعدے کرتی رہی ہیں مگر عملی اقدامات کا فقدان رہا۔ ایکسپورٹس میں اضافہ ملکی معشیت کے عروج کے لئے ناگزیر ہے لہٰذا حکومت ایکسپورٹ سیکٹر پر ترجیحی بنیادوں پر توجہ دے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کرے اور وزیر اعظم پاکستان فوری ایکسپورٹرز کے ریلیف کئے لئے فوری عملی اقدامات کریں ۔

متعلقہ عنوان :