امریکی ماہرین تعلیم کا کنفیوشیس انسٹی ٹیوٹس کا دفاع

ہفتہ اپریل 19:30

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) اگرچے امریکہ کی ایک ریاست کی ایک یونیورسٹی نے کنفیوشیس انسٹی ٹیوٹ بند کردیا ہے تاہم ایک اور ریاست کا اانسٹی ٹیوٹ ایک لاثانی پروگرام کے بارے میں امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے ۔ تضاد کا یہ معاملہ ان مسائل میں شامل ہے۔ جس کا گزشتہ چالیس برسوں میں چین اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ تعلیمی تبادلوں کی اہمیت کے بارے میں واشنگٹن میں ایک مذاکرے میں ماہرین تعلیم نے تبادلہ خیال کیا۔

کنفیوشیس انسٹی ٹیوٹ کے غیر منفعت تعلیمی ادارہ ہے جو چینی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے دنیا بھر کی جامعات کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ اور بین الاقوامی طور پر چینی زبان سیکھنے والے مقامی افراد کی حمایت کرتا ہے اور ثقافتی تبادلوں میں سہولت پیدا کرتا ہے امریکہ میں اس قسم کا پہلا انسٹی ٹیوٹ 2005میں میری لینڈ یونیورسٹی میں قائم کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

اس پیشرفت اور اعتراف کے باوجود جو کنفیوشیس انسٹی ٹیوٹس نے گزشتہ برسوں میں حاصل کی ہے۔ ان پر بعض افراد کی طرف سے امریکی قومی سلامتی کے کیلئے زبردست خطرے کا باعث ہونے اور امریکی طلباء اور فیکلوٹیز پر چینی اثرورسوخ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔23مارچ کو دو امریکی ارکان کانگریس مائیکل نیٹ کائول اور ہینڈری کیولر نے کنفیوشیس انسٹی ٹیوس کی میزبانی کرنے والی ٹیکساس کی یونیورسٹیوں کو ایک خط لکھا جس میں ان پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی پارٹنر شپ ختم کرنے پر غور کرے۔

انہوں نے ان اداروں کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ نو اپریل کو ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی سسٹم نے اپنے کالج اسٹیشن اور پرارائی ویو کمیپسز میں کنفیوشیس انسٹی ٹیوٹ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثناء ریاست ریژونا میں کنفیوشیس انسٹی ٹیوٹ ریژونا سٹیٹ یونیورسٹی ٹمپی میں امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ اشتراک عمل کررہا ہے۔