سپریم کورٹ میں سرکاری لگژری گاڑیوں کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت

ہفتہ اپریل 19:55

سپریم کورٹ میں سرکاری لگژری گاڑیوں کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت
لاہور۔28 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) چیف جسٹس میاںثاقب نثار نے سرکاری افسروں،ججوں،ملازمین کی لگژری گاڑیوں کیخلاف ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے تو مجھے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہے۔اگر قانون اجازت نہیں دیتا تو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو لینڈکروز کیوں دی چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ انہیں لینڈکروز دی تو سب لیں گے ۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ مختلف اداروں کے پاس لگژری گاڑیاں موجود ہیں۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گاڑیاں دینے کا فیصلہ کون کرتا ہی ،چیف سیکرٹری پنجاب نے بتایا کہ گاڑیاں دینے کا متعلقہ بورڈ فیصلہ کرتا ہے،،چیف جسٹس نے کہا کہ متعلقہ بورڈ کو بلالیں،کمپنیوں میں کام کرنے والے بیوروکریٹس وصول کی گئی زیادہ رقم واپس کرنے کیلئے تیاررہیں۔

(جاری ہے)

رقم واپسی کیلئے زیادہ وقت نہیں دیا جائیگا۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کوبھی کوئی گاڑی دی جارہی ہی ،چیف سیکرٹری نے بتایاکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو2کروڑ 40 لاکھ روپے کی گاڑی دی جا رہی ہے۔جس کو بلٹ پروف بھی کروایاجارہاہے۔۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا قانون کے تحت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو مرسیڈیزگاڑی دی جا سکتی ہی چیف سیکرٹری نے بتایا کہ ہائیکورٹ کی2 سی3ججوں کوبلٹ پروف گاڑیاں دی گئی ہیں۔قانون کی مطابق ہائیکورٹ کے چیف جسٹس 1800 سی سی گاڑی لے سکتے ہیں ۔بلٹ پروف گاڑی نہیں لے سکتے۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پہلے تو مجھے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہے۔فاضل عدالت نے بورڈ سے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔