عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنے کیلئے نظام عدل میں موثر اصلاحات لانے کی ضرورت ہے،

انصاف کی فراہمی کے عمل کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنا ترجیح ہے سینئر وکلا لا ریفارمز کیلئے تجاویز دیں چیف جسٹس کا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے خطاب

ہفتہ اپریل 20:01

عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنے کیلئے نظام عدل میں موثر ..
لاہور۔28 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے نظام عدل میں موثر اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ وہ لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے خطاب کر رہے تھے،ہفتہ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مفاد عامہ کے مقدمات کی سماعت میں وقفے کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ بار کا دورہ کیا۔

اس موقع پر وکلا ء سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے عمل کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنا ان کی ترجیح ہے۔ سینئر وکلا لا ریفارمز کے لیے تجاویز دیں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں میں سہولیات کی فراہمی کا معیار انتہائی مایوس کن ہے۔

(جاری ہے)

اگر اس حوالے سے حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرے گی تو عدالت کو مجبورا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔

قبل ازیںسپریم کورٹ بار کے وکلاء رہنمائوںنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری چیف جسٹس کے تمام اقدامات اور فیصلوں کی تائید کرتی ہے اور ہر قدم پر ان کے ساتھ تعاون جاری رکھا جائے گا۔ اس سے پہلے بار روم میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی تصویر کی رونمائی بھی کی گئی۔ اس موقع پر وکلا ء کی جانب سے چیف جسٹس کی حمایت میں نعرے لگائے گئے۔