اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے غزہ میں 6فلسطینی شہید،950 زخمی ہوگئے

غاصب فورسز کا مظاہرین کوڈارنے کیلئے زور دار آواز والے بموں کا استعمال،سرحد پاردھماکوں کی شدید آوازیں

ہفتہ اپریل 20:01

مقبوضہ بیت المقدس(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے لیے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 6فلسطینی شہید او950زخمی ہوگئے۔زخمیوں میں سے 300 کو ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا جن میں سے کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ گزشتہ روز مشرقی غزہ میں فلسطینیوں نے حق واپسی کیلئے ریلیاں نکالیں۔

اس موقع پر اسرائیلی فوج نے مظاہرین پر سیدھی گولیوں سے فائرنگ کی، آنسوگیس کا بے دریغ استعمال کیا اور دھاتی گولیوں سے بھی مظاہرین کو نشانہ بنایا۔اشرف القدرہ نے کہاکہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سی6 فلسطینی مظاہرین شہید اور 950زخمی ہوگئے ۔

(جاری ہے)

زخمیوں میں سے 300 کو ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جن میں سے کئی افراد کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہرین کو خوف زدہ کرنے کے لیے زور دار آواز پیدا کرنے والے بم بھی استعمال کیے۔ سرحد پر زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی گئیں۔خیال رہے فلسطینی 30 مارچ سے چھ ہفتوں پر مشتمل حق واپسی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس تحریک کے دوران اب تک تین درجن فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔ فلسطینی ہرجمعہ کو مشرقی سرحد کی طرف مارچ کرتے ہیں۔ اس تحریک کا یہ پانچواں جمعہ تھا۔ اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں پانچ ہزار فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔