بجٹ میں کچھ چیزیں حقیقت پسندانہ،کچھ نمبر گیم اور سب سے بڑھ کر یہ انتخابی مہم کا حصہ محسوس ہوتا ہے ،

بجٹ خسارے کو کم کرنے کیلئے ایف بی آر نے اہم کردار ادا کیا،تھنک ٹینک آئی پی آر کا بجٹ 2018-19پر تجزیہ

ہفتہ اپریل 20:09

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے بجٹ 2018-19پر تجزیہ پیش کیا ہے جس کے مطابق بجٹ میں کچھ چیزیں حقیقت پسندانہ اور کچھ نمبر گیم اور سب سے بڑھ کریہ انتخابی مہم کا حصہ نظر آتا ہے۔ بجٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملکی اقتصادی ترقی میں ایک واضح پیش رفت ہوئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بجٹ میںمثبت اقدامات اور حکمت عملی کی واضح کمی نظر آتی ہے حکومت جی ڈی پی گروتھ کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جی ڈی پی گروتھ میں بہت سے ترقیاتی منصوبوں مثلا ً سی پیک وغیرہ کا بڑا حصہ ہے اس کے علاوہ ملک کے اندر 2008کی نسبت انفراسٹریکچر میں سرمایہ کاری ،،امن و امان میں بہتری وغیرہ بھی جی ڈی پی گروتھ کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئی ہیں۔

(جاری ہے)

لیکن ان تمام چیزوں کے با وجود ملک کے اندر معیشت ابھی تک پائیدار راستے پر گامزن نہیں ہوپائی ۔آئی پی آر کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ملک کے اندر معیشت کمزور اساس پر کھڑی ہے خاص طور پر بیرونی سیکٹر اور کرنٹ اکائو نٹ خسارہ نیز حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی بھی نہیں ہے کہ بیرونی اکائونٹ کو کیسے سنبھال پائے گی ۔ایک تخمینے کے مطابق ملک کے اندر درآمدات میں4.8 فیصد کے حساب سے اضافہ ہو گا جو کہ ایک غیر حقیقی چیز ہو گی۔

مالی سال2019کیلئے حکومت نے جی ڈی پی گروتھ کے لیے 6.2فیصد کی پشین گوئی کی ہے لیکن اس کے لیے ایک پائیدار معاشی پالیسی درکار ہو گی جبکہ حالت یہ ہے کہ بیرونی سیکٹر اور آئی ایم ایف اپنی وصولیات کیلئے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔آئی پی آرکے تجزیے میں مزید کہا کہ بجٹ خسارے کو کم کرنے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایک بے مثال کار کردگی دکھائی ہے اس کار کردگی کو دیکھتے ہوئے 2019کیلئے وصولیات کے ہد ف میں 12.7فیصد اضافہ کیا گیا ہے اس کے علاوہ ملک کے اندر خسارے پر کچھ اورعناصر بھی منفی طور پراثر انداز ہو نگے ۔

اصل میں بہت سے جاری خرچہ جات اپنے مقرر کردہ بجٹ کی حدو سے باہر نکل جائینگے جس سے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ وغیرہ بھی شامل ہے اس سلسلے میں پاکستان سٹیل مل کے بند ہونے سے جو اخراجات اٹھیں گے نیز پی آئی اے کے جاری نقصانات سے بھی نہیں بچا جا سکے گا ۔پاور سیکٹر میں دی جانے والے سبسڈی اب بھی بہت زیادہ ہے پچھلے پانچ سال میں لائن لاسز پر قابو پایا گیا اور نہ ہی بجلی کے بلوں کے وصولیات میں اضافہ ہو ا ہے ۔

موجوہ حالات میں بجلی کے ہر پیدا ہونے والے یونٹ پر سبسڈی کی ضرورت ہے ۔مالی خسارے پر قابو پانے کیلئے حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں ہنگامی طور پر کمی کی ہے ترقیاتی اخراجات آٹھ سوارب روپے تک کم کیے ہیں جبکہ دفاع میں گیارہ سوارب روپے کا اضافہ ہوا ہے ۔اس کے علاوہ ملک کے اندر کچھ ایسے اشارے بھی ملے ہیں کہ پرائیویٹ سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے یا اس میں کمی واقع ہو رہی ہے ملک کے اندرمشینر ی کی درآمدات میں کمی ہوئی ہے ان تمام چیزوں کے باوجود حکومت امید لگائے بیٹھی ہے کہ آئندہ سال جی ڈی پی گروتھ 6.2فیصد تک ہو جائے گی۔

آئی پی آر کے تجزیے کے مطابق حال ہی میں دو پیش رفت ہوئی ہیں اگرچہ ان کی کامیابی کی کوئی گارنٹی نہیں ہے نیشنل واٹر پالیسی کے اور انفارسٹاریکچر کی بہتری اس کے علاوہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم معیشت کو ایک ضابطے اور تحریر میں لانے کیلئے معاون ثابت ہونگی۔تجزیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے ساتھ کئی تحفظات بھی ہیں جو کہ اب جی ڈی پی کا 2.4فیصد بنتے ہیں ۔

آئی پی آر کے تجزیے کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت نے پچھلے کئی سالوں سے نچلی سطح سے درمیانے درجے تک ترقی کی ہے جبکہ ملک کے اندر عوام ملازمتوں اور معاشی سرگرمیوں کی امید لگا ئے بیٹھے ہیں جبکہ انفارسٹریکچر کے اندر خلاء اور سماجی خسارہ ،ملک کے اندر کاروبار کی ترقی اور معیار زندگی پر قد غن لگائے بیٹھے ہیں لہذا ملک کے تجارتی سرگرمیاں شروع کرنا ہو نگی اور مقابلے کی فضا پیدا کرنے کیلئے ضروری فیصلہ سازی بھی ضروری ہے ۔