وفاقی بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا ہم سمجھتے ہیں انتخابات سے قبل عوام کو ریلیف دینا چا ہئے تھا، مولانا عبدالواسع

بجٹ کو عوامی بجٹ نہیں کہہ سکتے بلوچستان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا 5 ہزار800 ارب روپے میں سے صرف200 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ صوبے کے عوام کیساتھ نا انصافی ہے، پارلیمانی لیڈر جمعیت علمائے اسلام

ہفتہ اپریل 20:14

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) جمعیت علماء اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات سے قبل عوام کو ریلیف دینا چا ہئے تھا مگر وفاقی حکومت نے ایساکچھ نہیں کیا ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک عوام کو ریلیف نہیں ملتی اس وقت تک وفاقی بجٹ کو عوامی بجٹ نہیں کہہ سکتے بلوچستان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا 5 ہزار800 ارب روپے میں سے صرف200 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ صوبے کے عوام کیساتھ نا انصافی ہے ان خیالات کا اظہا رانہوں نے’’ آن لائن‘‘ سے خصوصی بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ جمعیت علماء اسلام ایک سیاسی ونظریاتی جماعت ہے اور ہمیشہ عوام کی حقوق کے لئے جدوجہد کی ہے مگر جس طرح وفاقی بجٹ میں بلوچستان کی پسماندگی کو مد نظرنہیں رکھا ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کیساتھ نا انصافی ہے مسلم لیگ کی حکومت نے ہمیشہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے عوام پر بوجھ ڈالا گیا ایک طرف بجٹ پیش کیا گیا تو دوسری طرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ماہ رمضان میں بھی عوام کو ریلیف نہیں دی گئی وفاقی بجٹ صرف کاغذوں کا ہیر پیر ہیں اس میں عوام کے امنگوں کو مد نظر رکتھے ہوئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا ملک کے بجٹ کا 72فیصد بجٹ دفاعی میں چلا جاتا ہیں باقی28فیصد میں نان ڈویلپمنٹ اور ڈویلپمنٹ کے لئے بچ جاتا ہیں وہ بھی کرپشن کی نظر ہوجاتی ہیںانہوں نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات سے قبل عوام کو ریلیف دینا چا ہئے تھا مگر وفاقی حکومت نے ایساکچھ نہیں کیا ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک عوام کو ریلیف نہیں ملتی اس وقت تک وفاقی بجٹ کو عوامی بجٹ نہیں کہہ سکتے بلوچستان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔