چا ر ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو معیشت بے یقینی کی لپیٹ میں آجاتی، احسن اقبال

ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کار پورے سال کے تخمینوں پر منصوبہ بندی کرتے ہیں، بجٹ تقریر کے دوران ایوان میں اپوزیشن کا احتجاج اور ہلڑ بازی منفی تھی،بیا ن

ہفتہ اپریل 20:28

چا ر ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو معیشت بے یقینی کی لپیٹ میں آجاتی، احسن اقبال
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) وفاقی وزیر وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ نہ پیش کرنا چوائس نہیں تھی، اگر 4 ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو معیشت بے یقینی کی لپیٹ میں آ جاتی۔ اپنے ایک بیا ن میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایوان میں اپوزیشن کا احتجاج اور ہلڑ بازی منفی تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اقتصادی پالیسیوں کا تسلسل چاہیے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت انتخابات جیت کر اہداف پورے کرے گی۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کار پورے سال کے تخمینوں پر منصوبہ بندی کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ حکومت کی ترجیحات کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کے لیے بھی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے مالی سال 19-2018 کے لیے 5 ہزار 932 ارب 50کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کا اعلان کیا تھا۔

اپوزیشن کا موقف تھا کہ بجٹ تقریر سے چند گھنٹے قبل مفتاح اسماعیل کو وزیر بناکر وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل کا حق مارا گیا، جبکہ مفتاح اسماعیل قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن بھی نہیں ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر کا درجہ دینے پر تنقید کی، جس پر اپوزیشن اراکین نے 'شیم شیم' کے نعرے بھی لگائے۔ خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت یہ بجٹ پیش کرکے اگلی اسمبلی کا حق چھین رہی ہے، حکومت کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایک سال کا بجٹ پیش کرے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی کا بھی کہنا تھا کہ ایک ماہ کی مہمان حکومت کے پاس پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا جواز نہیں ہے۔