لاڑکانہ،سیڈ کے وسپ پراجیکٹ 2018؁ میں ختم ہونے کے امکانات،ملازمین کا مستقبل خطرے میں،

افسران کی اصل اداروں کی طرف واپسی، ملازمین کی پینشن ، ترقیاں ، رٹائیرمنٹ خوان انڈوومنٹ فنڈ کا قیام نہ ہوسکا

ہفتہ اپریل 21:06

لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) سیڈ کے وسپ پراجیکٹ 2018؁ میں ختم ہونے کے امکانات،ملازمین کا مستقبل خطرے میں، افسران کی اصل اداروں کی طرف واپسی، کوئی مستقل بجٹ حکومت سندھ نے سیڈا کو جاری نہ کی، ملازمین کی پینشن ، ترقیاں ، رٹائیرمنٹ خوان انڈوومنٹ فنڈ کا قیام نہ ہوسکا، سینارٹی اور دیگر سہولیات سے محروم، سیڈا کے تحت 03کینالز 2002کے ایکٹ اور 11کینالز1879 ایکٹ کے نظام کے تحت جاری، حکومت سندھ کو کنسالیڈیشن پی سی نہیں بھیجی گئی۔

آن لائن سروے رپورٹ کے تحت 1996ئ؁ سے قائم کیے گئے ادارے سیڈا کو گذشتہ22سال سے پراجیکٹس پر چلایا جا رہا ہے، اس وقت سیڈا میں ورلڈ بینک کے تعاون سے وسپ پراجیکٹ جاری ہے، جو دسمبر2018ئ؁ کو ختم ہو رہا ہے، سروے کے مطابق حکومت سندھ کی طرف سے سیڈا کو مستقل بجٹ جاری نہیں کی گئی ہے، ادارے کو سیپیل گرانٹ اکائونٹ سے چلایا جا رہا ہے، جو کسی وقت بھی بند ہوسکتی ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ گذشتہ 22سال سے سیڈا میں کام کرنے والے سیکڑوںملازمین کیلئے پینشن، رٹائیرمنٹخواہ انڈوومنٹ فنڈز قائم نہیں کیے گئے ہیں نہہی ملازمین کو ترقیاں ، سینارٹی اور دیگر سہولیات دی گئی ہیں۔ جس پر ہائی کورٹ سندھ 2016ئ؁ میں ملازمین کو ریگیولر کرکے مکمل حکومتی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات صادر فرمائے تھے، لیکن آج تک اس پر عمل نہیں ہوا ہے۔

اس لیے تمام سیڈا ملازمین حکومت سندھ کی جانب سے ایڈہاک گرانٹ 98ملین پر چل رہے ہیں۔ اور وسپ پراجیکٹ ختم ہونے کے بعد ملازمین کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دسمبر2018ئ؁ کے بعد پیدا ہونے والی مالیاتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئیسیڈا کے اہم افسران نے اپنے اپنے اصلی اداروں کی طرف جانا شروع کر دیا ہے، جس میں جنرل منیجر فنانس نعیم میمن جولائی2018ئ؁ سے طویل چھٹی پر جا رہے ہیں، منیجر ایچ آر خلیل احمد قریشی ایک سال کی چھٹی پر چلے گئے ہیں، اور جنرل منیجر آپریشن خواہ جنرل منیجر ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ بھی اپنے اپنے محکموں میں واپس جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں، جس پر ملازمین نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر اختیاریوں سے مطالبا کیا ہے کہ ان کا مستقبل بچاکر انہیں تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حخومت سندھ نے ستمبر2017ئ؁ میں سیڈا ملازمین کا گریڈ وائیز پراجیکٹ الائونس وزیر اعلیٰ سندھ،، چیئرمین سیڈا اور ایم ڈی سیڈا نے منظوری دے دی تھی، لیکن 08ماہ گذر جانے کے بعد بھی ملازمین اس الائونس سے محروم ہیں، سیڈا اختیاریاں ہر سال ادارے کا کام چلانے کیلئے حکومت سندھ کو کنسالیڈیشن پی سی تیار کرکے منظوری کیلئے بھیجتی ہے، لیکن رواں سال وہ پی سی نہ تو تیار کی گئی اور نہ ہی منظوری کیلئے بھیجی گئی ہے، جس کے باعث بھی ملازمین میں بے چینی اور بے قراری پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سندھ میں اس وقت تک آبپاشی نظام کے 02قانون چل رہے ہیں، جس 14میں سے 03کینالز پر سیڈا واٹر منجمنٹ 2002ئ؁ لاگو ہے جبکہ 11کینالز پر سندھ ایریگیشن ایکٹ 1879ئ؁ کا نظام ہی لاگو ہے۔