اردوسائنس بورڈ اورعلامہ اقبال یونیورسٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت(ایم اویو)پر دستخط

ہفتہ اپریل 21:17

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) اردوسائنس بورڈ اورعلامہ اقبال یونیورسٹی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب بورڈ کے صدردفتر میں منعقد ہوئی۔ وائس چانسلر علامہ اقبال یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی اورڈائریکٹر جنرل اردوسائنس بورڈ ناصرعباس نیرنے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔دونوں اداروں کے مابین یہ مفاہمتی یادداشت پانچ سال کے لیے ہوگی۔

معاہدے کے تحت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اوراردوسائنس بورڈ طلباکے لیے سائنسی، تکنیکی اورسماجی موضوعات پر کتب کی اشاعت کے علاوہ اساتذہ کی تربیت کے لیے موادمل کر تیارکریں گے۔دونوں ادارے باہمی اشتراک سے کانفرنسیں، ورکشاپ، لیکچراوردیگرتعلیمی تقریبات منعقدکریں گے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی طلبا ورعام افراد میں کتب بینی کے فروغ، کتاب دوستی اورعلم وادب کے فروغ کے لیے بورڈ کے زیراہتمام مختلف پروگراموں کوسپانسرکرے گی۔

(جاری ہے)

مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈاکٹرناصرمحمود، ریجنل ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی رسول بخش بہرام، ڈاکٹرشاہ زیب خان اوربورڈکے افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈاکٹر شاہد صدیقی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال یونیورسٹی نے چوبیس نئے تعلیمی پروگرام متعارف کروائے ہیں۔

یونیورسٹی نے معاشرے کے محروم طبقات خصوصاًبصارت سے محروم بچوں، خصوصی افراد،معذوروں، جیلوں میں قیدیوں، خواجہ سراوں کے علاوہ فاٹااور بلوچستان کے میٹرکے کے طلبا کے لیے مفت تعلیمی پروگرام شروع کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں شعبہ علوم ترجمہ بھی قائم کیاگیاہے اوریونیورسٹی میں تحقیق پر خصوصی توجہ دے کراس کے معیارکوبہتربنایاہے۔

ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہاکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اوراردوسائنس بورڈ کے باہمی اشتراک سے دونوں اداروں اورقومی تعلیمی ترقی کے لیے سودمندثابت ہوگا۔ ڈائریکٹر جنرل اردوسائنس بورڈنے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران مختلف موضوعات پرلیکچرزکاانعقادکیا۔ کئی نئِ کتابیں شائع کیں۔ اردوسائنس ایوارڈ کااجراکیااورموبائل بک شاپ کاآغازکیا۔انھوں نے بتایاکہ اس سے پہلے یونیورسٹی آف گجرات کے ساتھ اسی طرح کے ایم اویوکے تحت مختلف کتابوں کے تراجم کیے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر ناصرعباس نے کہا کہ دونوں علمی اداروں کے مابین یہ رسمی ایم اویونہیں ہوگابلکہ اس سے روابط بڑھیں گے اورمل کرکام کریں گے۔