بجٹ میں عوام کو براہ راست ٹیکس کی مد میں دیا جانیوالا ریلیف خوش آئند ہے، سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو

ہفتہ اپریل 21:37

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) غیر سرکاری تنظیم سنٹر فا ر پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انشیٹیوز کے عہدیداروں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو براہ راست ٹیکس کی مد میں دیا جانیوالا ریلیف پاکستانی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے جو کہ ایک خوش آئندہ بات ہے ۔نیشنل پریس کلب میں منعقدہ بجٹ جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ٹیکس ریلیف سے ہونیوالے مالیاتی خسارہ کو کم کرنے کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیاکیونکہ قابل ٹیکس آمدنی 4لاکھ سے بڑھا کر 12لاکھ روپے سالانہ کرنے سے موجودہ ٹیکس دہندگان کی تعداد کم ہو سکتی ہے تاہم توقع ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے والے اقدامات سے بہتری آسکے گی۔

انھوں نے نان فائلرز کے لئے ادائیگی نہ کرنیوالے افراد پر40لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد خریدنے سے روکنے جیسے اقدامات سے معیشت پر آنے والے اثرات پر قابو پانے کے لئے بھی منصوبہ بندی پر زور دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ فائلرز بڑھنے سے ایک ممکنہ حد تک اس پر قابو پایا جا سکے گا جس کے لئے ایف بی آر کو زیادہ محتاط اور سائنسی انداز میں کام کرنا پڑے گا تاکہ نہ صرف مالی خسارہ کم کیا جاسکے بلکہ گذشتہ سال کی نسبت13فیصد اضافے کا ہدف بھی با آسانی حاصل کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن کی تشکیل وقت کا تقاضا تھا کیونکہیہکمیشن ایک اپیلیٹ فورم ہے جسے معلومات تک رسائی کے قانون2017کے تحت بنایا جانا ہے جس پر جلد عملدرآمد کی ضورت ہے۔غیر سرکاری تنظیم سنٹر فا ر پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انشیٹیوز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹرعامر اعجاز نے کہا کہ بجٹ میں غیر ملکی کریڈٹ کارڈ ٹیکس،گفٹ ٹیکس اور پٹرولیم مصنوعات پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگایا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے پرائمری تعلیم کیلئی2034ملین روپے رکھے ہیں جو کہ سابقہ سال کے نظر ثانی شدہ تخمینہ جات 1843ملین روپے سے 10فیصدزائد ہیں۔ جبکہ پرائمری ور سیکنڈری سکولز کے لیے مجموعی رقم مختص کی گئی ہے۔مطالعہ سے یہ سامنے آیا ہے کہ پرائمری اور سیکنڈری سکولز کے معاملات کو بہتر طورپر چلانے کیلئے نان سیلری بجٹ کی مد میں 30فیصد اضافہ ضروری ہے۔

اگر گذشتہ سال کے نظر ثانی شدہ تخمینہ جات کو دیکھا جائے تو آپریٹنگ اخراجا ت میں 2.7فیصد اضافہ ہوا ہے۔ثانوی تعلیم کیلئے سال 19۔2018 کیلئے 637ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جو اس سال کے نظرثانی شدہ تخمینہ جات سی15فیصد زائد ہیں۔سیکنڈری ایجوکیشن کیلئے 2135ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ18۔2017میں 1752ملین روپے تھے اس طرح بجٹ مں 22فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اور2017-18 میں مختص رقم1434ملین روپے کے مقابلہ میں 2018-19میں 1811 ملین روپے کا اضافہ کیا گیا۔

متعلقہ عنوان :