کوئٹہ، وفاقی بجٹ میں عوام کونہ تو ریلیف ملا اور نہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اقدامات اٹھائے گئے،عبدالولی کاکڑ

بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کے لئے رکھے گئے فنڈ زکواة کے مترادف ، عوام کسی بھی صورت زکواة کو تسلیم نہیں کرینگے،سینئر نائب صدر بی این پی

ہفتہ اپریل 20:45

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدرملک عبدالولی کاکڑ نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں بلوچستان کو کوئی حیثیت نہیں دی گئی جو فنڈز صوبے کی ترقی وخوشحالی کے لئے رکھے گئے ایسا لگ رہا ہے کہ فنڈ نہیں بلکہ زکواة دیا جا رہا ہے صوبے کے عوام کسی بھی صورت زکواة کو تسلیم نہیں کرینگے وفاقی بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا اور نہ ہی بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اقدامات اٹھائے ہیںان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر قبائلی عمائدین سے خطاب کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ صرف کاغذوں کا ہیر پیر ہیں اس میں عوام کے امنگوں کو مد نظر رکتھے ہوئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا ملک کے بجٹ کا 72فیصد بجٹ دفاعی میں چلا جاتا ہیں باقی28فیصد میں نان ڈویلپمنٹ اور ڈویلپمنٹ کے لئے بچ جاتا ہیں وہ بھی کرپشن کی نظر ہوجاتی ہیں انہوں نے کہا کہ بجٹ کو جس طرح پیش کیا جاتا ہے اس پر حقیقت میں عمل نہیں ہوتا کوئی بھی بجٹ آج تک عوام کے مفاد میں نہیں بنایا گیا یہ بجٹ بھی صرف کاغذوں کی ہیر پیر کے سواء کچھ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ملک کے 72فیصد بجٹ کا دفاع کے لئے جبکہ باقی 28فیصد کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے اس سے عوام کو کبھی بھی فائدہ نہیں پہنچا آج تک کسی بھی بجٹ کو اسی حساب سے خرچ نہیں کیا گیا وفاقی بجٹ تو پھر بھی پیش کیا گیا ہے لیکن جو ہماری صوبائی بجٹ ہے اس کو پیش کرنیوالے کون ہے اور کس طرح آئے وہ سب کو پتہ ہیں انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ صرف کاغذوں کا ہیر پیر ہیں اس میں عوام کے امنگوں کو مد نظر رکتھے ہوئے کچھ بھی نہیں رکھا گیا انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا اور نہ ہی بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیشہ ملک اور خاص کر بلوچستان کی عوام کے ساتھ بجٹ میں زیادتی کی ہے جب تک عوام کو ریلیف نہیں ملتا اس وقت تک بجٹ کو عوام دوست بجٹ نہیں کہہ سکتے ۔

متعلقہ عنوان :