شہباز شریف ہیلی کاپٹر سے اُتر کر خیبرپختونخوا کا دورہ کریں، پرویز خٹک

موجودہ خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق کا ماضی سے موازنہ کریں تو اُنہیں بھی تبدیلی نظر آئے گی شہباز شریف ہمارے پانچ سالوں کا پنجاب میں اپنی حکومت کے 30 سالوں سے موازنہ کرتے ہیں اُس کے باوجود ہمارا پلڑا بھاری ہے اگر کسی کو تبدیلی نظر نہیں آرہی تو وہ اپنا علاج کرائے ہم نے ماضی کے ٹوٹے پھوٹے اور تباہ حال صوبے کواپنے پائوں پرکھڑا کیااورسیاست زدہ اداروں کی بحالی کیلئے اصلاحات کیں صوبے میں ترقی کا عمل شروع ہے اور ہر شعبے میں تبدیلی کی ٹھوس بنیادیں رکھ دی ہیں ، ظہرانے سے خطاب ،میڈیا سے گفتگو

ہفتہ اپریل 21:51

شہباز شریف ہیلی کاپٹر سے اُتر کر خیبرپختونخوا کا دورہ کریں، پرویز خٹک
%پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ شہباز شریف ہیلی کاپٹر سے اُتر کر خیبرپختونخوا کا دورہ کریں اور موجودہ خیبرپختونخوا کے زمینی حقائق کا ماضی سے موازنہ کریں تو اُنہیں بھی تبدیلی نظر آئے گی شہباز شریف ہمارے پانچ سالوں کا پنجاب میں اپنی حکومت کے 30 سالوں سے موازنہ کرتے ہیں اُس کے باوجود ہمارا پلڑا بھاری ہے اگر کسی کو تبدیلی نظر نہیں آرہی تو وہ اپنا علاج کرائے ۔

ہم نے ماضی کے ٹوٹے پھوٹے اور تباہ حال صوبے کواپنے پائوں پرکھڑا کیااورسیاست زدہ اداروں کی بحالی کیلئے اصلاحات کیں صوبے میں ترقی کا عمل شروع ہے اور ہر شعبے میں تبدیلی کی ٹھوس بنیادیں رکھ دی ہیں ۔ان خیالا ت کا اظہار اُنہوںنے لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اعظم خان کی رہائش گاہ پر ظہرانے اورذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

پی ٹی آئی کے رہنما علیم خان،، ، علی زیدی، وزیراعلیٰ کے ترجمان و ممبر صوبائی اسمبلی شوکت علی یوسفزئی، سینئر صحافی اور اینکر پرسنز بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ وزیراعلیٰ نے خیبر پختونخوا میں تبدیلی کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالی انہوںنے کہاکہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ صوبے میں تبدیلی نظر نہیں آرہی ۔

شہباز شریف اگر خیبرپختونخوا کا ہیلی کاپٹر سے نیچے اُتر کر دورہ کریں اور تعصب کی عینک اُتار کر دیکھیں تو اُنہیں بھی ضرور تبدیلی نظر آئے گی ۔۔پرویز خٹک نے کہاکہ اُن کی حکومت کو ٹوٹا پھوٹا صوبہ ملا تھا سسٹم تباہ حال تھا، دہشت گردی ، بدامنی اور بھتہ خوری عروج پر تھی ، عوام کا جینا محال تھا ، ترقی کا عمل رک چکا تھا سرمایہ کار صوبے سے بھاگ چکے تھے ہماری حکومت نے ان تمام تر چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور قابل عمل منصوبہ بندی کے تحت تبدیلی کے سفر کا آغاز کیا ۔

ہماری پانچ سالہ مربوط کاوشوں کی وجہ سے آج صوبے میں امن بحال ہو چکا ہے ۔ وہ سرمایہ کار جو صوبے سے بھا گ چکے تھے اُن کا اعتماد بحال کیا اور وہ واپس صوبے میں آنا شروع ہو چکے ہیں۔ہم نے ثابت کیا ہے کہ صوبے میں صنعتوں کی بحالی ممکن ہے اور ہم نے اس کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سرمایہ کاری کے بڑے منصوبوں میں بغیر سرمایہ لگائے منافع میں دس فیصد حصہ صوبے کیلئے لے رہے ہیں تاہم وزیراعلیٰ نے کہاکہ صنعتوں اور سرمایہ کاری کے فروغ کے سلسلے میں وفاق کی طرف سے رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں خصوصاً بیرونی سرمایہ کاروں کو این او سی دینے کے معاملے میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے صرف پانچ سال کے مختصر عرصے میں ہر ادارے اور ہر شعبے میں سیاسی مداخلت اور کرپشن کی حوصلہ شکنی کرکے شفافیت کا عنصر متعارف کرایا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے زیادہ تر توجہ تعلیم کے شعبے پر دی ۔ تعلیمی بجٹ کو 63 ارب سے بڑھا کر 130 ارب تک لے گئے ہیں۔ اسی طرح صحت اور پولیس کے شعبوں کو خدمات کی انجام دہی کے قابل بنایا ۔

وزیراعلیٰ نے بلین ٹری سونامی کے خلاف پروپیگنڈے کے حوالے سے کہا کہ صوبائی حکومت کے ماحول دوست منصوبے کے خلاف بے بنیاد باتیں کی جاتی ہیں ۔ اگر کوئی واقعی مخلص ہے اور حقیقت حال جاننا چاہتا ہے تو آئے اوراپنی مرضی سے سائٹ کا انتخاب کرے ہم اُسے وہاں لے جائیں گے اور دکھائیں گے ۔خیبرپختونخو امیں پن بجلی کی استعداد اور ملک میں بجلی کے بحران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ خیبر پختونخوا میں وافر پانی موجود ہے۔

پانی کے ذریعے 30 ہزار میگاواٹ تک بجلی بنا سکتے ہیں جو سستی اور ماحول دوست ہے ۔مگر اس کے باوجود وفاقی حکومت ایل این جی اور کوئلے سے مہنگی بجلی پید اکرنے پر مُصر ہے جو پن بجلی کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہے اور ماحول کیلئے بھی خطرناک ہے اور اُس میں بھی بے دریغ کرپشن کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ نا اہل حکمرانوں کے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے بھی جھوٹے ہیں آج بھی لوڈشیڈنگ اُسی طرح موجود ہے ۔

میٹرو سروس کی مخالفت اور پشاور بی آر ٹی کی تعمیر کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے پرویز خٹک نے کہاکہ اُنہوںنے پنجاب میٹرو سروس کی اسلئے مخالفت کی تھی کہ پنجاب میں بڑے بڑے پراجیکٹ کرپشن کرنے اور اپنا مال بنا نے کیلئے بنائے جاتے ہیںجبکہ ہم نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ ضرورت کے تحت شروع کیا ہے ۔ ہم پنجاب کے برعکس اپنے منصوبے میں شفافیت یقینی بنا رہے ہیںاور تمام تر اخراجات عوام کے سامنے رکھیں گے ۔

احتساب کمیشن کی فعالیت کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ کمیشن کا ایک طریقہ کار موجود تھا جس کے تحت کام کر رہا تھا ۔آپس میں اختلافات کی وجہ سے چیئرمین احتساب کمیشن نے خود استعفیٰ دیا ۔ہم نے شفافیت یقینی بنانے کیلئے ضروری ترمیم کی تاہم کمیشن کے کام میں کوئی خلل نہیں آیا ۔ کام ہو رہا ہے کمیشن پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے ۔

سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات میں 20 ایم پی ایز کو نکالنے کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ انہوںنے نکالا کسی کو نہیں بلکہ جن اراکین صوبائی اسمبلی کے خلاف شکایات موصول ہوئی تھیں اُنہیں شو کاز نوٹس دیئے گئے ہیں۔ متعلقہ اراکین کو چاہیئے کہ وہ پریس کانفرنس کرنے اور حلف اُٹھانے کی بجائے شو کاز نوٹس کا جواب دے دیں اور اس سلسلے میں بنائی گئی کمیٹی کو مطمئن کردیںجو طریقہ کار ہے اُس پر عمل کریں۔

اگر کوئی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث نہیں ہے تو اُسے صفائی پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے ۔۔جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے سوال پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کا جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد حکومت کی سطح تک تھا جو کامیاب رہا ہے ہم نے اُن سے سیاسی اتحاد نہیں کیا تھا وہ ایک الگ اور مستقل سیاسی جماعت ہے ۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی قیادت کی اپنی سوچ اور ترجیحات ہیں ۔ ہم نے اُن سے سیاسی یا انتخابی اتحاد کیا ہی نہیں تھا حکومت میں وہ ہمارے اتحادی تھے جو کامیاب رہا ہمارے درمیان کوئی ناراضگی نہیں ہے ۔