ٹیکس نوٹس بھیجنے پر سندھ حکومت کا ایف بی آر کے خلاف آپریشن

سندھ ایکسائز کا عملہ اور نفری ایف بی آر کے دفاتر کو سیل کرنے پہنچ گیا، داخلی دروازہ بند۔ ملازمین کو باہر جانے سے روک دیا گیا ایف بی آر نے 50 سال سے پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کیا اور وہ سندھ کا ایک ارب روپے کا نادہندہ ہے، جب کہ موٹر وہیکل ٹیکس کی مد میں بھی ایف بی آر پر کروڑوں روپے کے واجبات ہیں، محکمہ ایکسائزسندھ

ہفتہ اپریل 22:04

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) ٹیکس بلز بھیجنے پر سندھ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے۔۔ایف بی آر کی جانب سے سندھ کے مختلف محکموں کو ٹیکس کی مد میں 4 ارب 30 کروڑ روپے کے بلز بھیجنے پر حکومت سندھ اور ایف بی آر آمنے سامنے آگئے۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت ہفتہ کیصبح اجلاس ہوا جس میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سندھ کے مختلف محکموں کو ٹیکس کی مد میں 4 ارب 30 کروڑ روپے کے بلز بھیجے ہیں۔

ٹیکس بل بھیجنے پر وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ شدید برہم ہوگئے اور انہوں نے ایف بی آر پر اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اپنا ہدف پورا کرنے کے لئے واجبات سندھ حکومت پر ڈال رہا ہے، اگر اس نے سندھ حکومت کے اکائونٹس سے کوئی بھی کٹوتی کی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

(جاری ہے)

اجلاس کے بعد محکمہ ایکسائز نے ایف بی آر کے دفاتر کو سیل کرنے کا حکم دے دیا جب کہ واٹر بورڈ نے ایف بی آر دفاتر کے پانی و سیوریج کنکشن منقطع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

صوبائی وزیر ایکسائز مکیش چاولہ کی سربراہی میں ایف بی آر کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ سندھ ایکسائز کا عملہ اور نفری ایف بی آر کے دفاتر کو سیل کرنے پہنچ گیا۔ 12 پولیس موبائلز اور 50 سے زائد پولیس اہلکار آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ایف بی آر کا داخلی دروازہ بند کردیا گیا ہے اور ملازمین کو باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ایف بی آر حکام کے سندھ ایکسائز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

محکمہ ایکسائز سندھ کے مطابق ایف بی آر نے 50 سال سے پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کیا اور وہ سندھ کا ایک ارب روپے کا نادہندہ ہے، جب کہ موٹر وہیکل ٹیکس کی مد میں بھی ایف بی آر پر کروڑوں روپے کے واجبات ہیں۔ذرائع کے مطابق ایکسائز کے عملے کے پہنچنے پر ایف بی آر ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور حکام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کرکے سندھ حکومت کے رویہ پر احتجاج کیا۔

ایف بی آر حکام نے وفاق سے کہا کہ سندھ حکومت نے غیر مناسب رویہ اختیار کیا، جس طرح ہمارے دفاتر پر ریڈ کی گئی اس طرح تو کسی کے گھر میں بھی داخل نہیں ہوسکتے ایف بی آر یہ تو پھر قومی ادارہ ہے۔ادھر واٹربورڈ کے اعلی حکام نے بھی واجبات کی عدم ادائیگی پر ایف بی آر کے مختلف شعبوں کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کردیا ہے۔ واٹربورڈ حکام کے مطابق ایف بی آر کے اداروں پر واٹربورڈ کے تقریبا 10 کروڑ روپے واجب الادا ہیں، واجبات ادا نہ کرنے پرایف بی آر کے دفاتر کے پانی و سیوریج کے کنکشن منقطع کردیئے جائیں گے۔