موجودہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی بڑھاکر مہنگائی کو دعوت دی گئی ہے ایک سو چودہ پرسنٹ اضافے سے اب پیٹرول مزید مہنگا ہوگا،سید نوید قمر

مسلم لیگ نون کی حکومت نے جس طرح کا بجٹ پیش کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ مجھے کیوں نکالا کا بدلہ عوام اورملک سے لینا چاہتی ہے، پریس کانفرنس سے خطاب

ہفتہ اپریل 22:04

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید نوید قمرنے کہاہے مسلم لیگ نون کویقین ہے کہ اگلی حکومت ان کی نہیں ہوگی اس لیے پیٹرول لیوی ٹیکس آٹھ روپے سے بڑھا کر تیس روپے کردیا گیا ہے جس سے پیٹرول کی قیمت میں بیس روپے فی لیٹر اضافے کا خدشہ ہے اورپیٹرول عوام کی پہنچ سے دور ہوجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے جس طرح کا بجٹ پیش کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہ مجھے کیوں نکالا کا بدلہ عوام اورملک سے لینا چاہتی ہے آنے والی حکومت کوملک چلانے کے لیے ہرصورت آئی ایم ایف کے سامنے سجدہ ریز ہونا پڑے گا، ٹیکسوں کا ریشو بڑھاکرحکومت عوام کی جیبوں سے ہی پیسہ نکالنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کا یہ کہنا معنی خیز ہے کہ جوبجٹ پیش کیا ہے وہ آنے والے یادرکھیں گے وزیراعظم کی بات درست ہے موجودہ حکومت بجٹ کے ذریعہ ایسا کھڈہ کھود کرجارہی ہے جس میں آنے والی حکومت ہرصورت گرے گی اورآئی ایم ایف کا ہاتھ پکڑے بغیرنہیں نکل سکے گی۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیپلزپارٹی میڈیا سیل سندھ میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سینٹرل انفارمیشن سیکریٹری نفیسہ شاہ پیپلزپارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات عاجزدھامرہ رکن سندھ اسمبلی خیرالنسا مغل بھی موجود تھیں۔

سید نوید قمرنے کہاکہ حکومت نیچرگیس کے ساتھ دشمنی پراترآئی ہے اورنیچرل گیس سے مالامال صوبے کوبھی ایل این جی کی خریداری کے لیے بضد ہے نوید قمرنے نئے مالی سال دوہزار18 اور19 کے وفاقی بجٹ کومسترد کرتے ہوئے کہاکہ پیٹرولیم لیوی بڑھاکر مہنگائی کو دعوت دی گئی ہے ایک سو چودہ پرسنٹ اضافے سے اب پیٹرول مزید مہنگا ہوگا۔ انہوں نے کہا حکومت چاہتی ہے کہ سب ایل این جی استعمال کریں قدرتی گیس پر ٹیکس لگاکر ایل این جی کو مثتثنی قراردیاگیا ہے جبکہ پاک ایران گیس پائپ لائن کے لیے انفرااسٹرکچر ٹیکس کو دگنا کیاگیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت صوبائیت کوفرغ دے رہی ہے سی سی آئی میں احتجاج کے باوجود تینوں صوبوں کو کچھ نہیں دیا گیا اورسب وسائل ایک صوبے کے لیے وقف کیے جارہے ہیں سید نوید قمرنے کہاکہ ملک کو قرضوں پرچلایا گیاہے،،زرمبادلہ کیذخائر میں کمی ملکی دفاع کے لئے بڑاچیلنج ہے انہوں نے کہاکہ ملکی پالیسیاں دنیا سے متصادم ہیں یہ امرحقیقت ہے کہ آنے والی حکومت سے آئی ایم ایف موجودہ حکومت کے بیشتربجٹ اقدامات واپس لینے اورکڑی شرائط پرامداد فراہم کرے گا ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت عوام اورملک سے مجھے کیوں نکالا کا بدلہ چکارہی ہے انہوں نے کاکہ براہ راست ٹیکس کم اور باالواسطہ ٹیکس کا دائرہ بڑھادیا گیا ہے مفتاح اسماعیل کی بجٹ تقریر عوامی دشمنی پرمبنی تھی تمام سیاسی جماعتیں بجٹ کی مخالفت کررہی ہیں انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے ملک کوصرف قرضوں پرچلایا ہے کرنٹ اکانٹ خسارہ ہرماہ بڑھ رہا ہے اورآمدنی میں کمی ہورہی ہے ملک اس وقت جس قسم کے مالی حالات سے دوچارہے آنے والی حکومت کوآئی ایم ایف کے سامنے سجدہ ریز ہونا پڑے گا کیونکہ موجودہ حکومت نے قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرکے آنے والی حکومت کے لیے گڑھا کھودا ہے انہوں نے کہاکہ بجٹ سینیٹ میں نہیں آئے گا تاہم قومی اسمبلی میں حکومت کوآسانی سے بجٹ پاس نہیں کرانے دیں گے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت آئین کی وقعت ختم کرنے پرتل گئی ہے ایک غیرمنتخب شخص سے بجٹ پیش کرایا گیا حکومت کی کسی غیر قانونی عمل کا حصہ نہیں بنیں گیحکومت قانون کو بہی اپنے مرضی سے چلا رہی ہے ایک اورسوال کے جواب میں نوید قمرنے کہاکہ پیپلزپارٹی ہر سطح پروفاقی بجٹ کی مخالفت کرے گی ،موجودہ بجٹ کو قانونی نہیں سمجہتاہوں اس کی منظوری میں حکومت کوٹف ٹائم دیں گے۔