نفرت کی جنگ ختم کرنے کا اعلان ، شمالی و جنوبی کوریا مابین اب جنگ نہیں ہو گی،

دونوں رہنمائوں کا پیغام ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور عسکری مذاکرات پر اتفاق،جے ان روان سال شمالی کوریا کا دورہ کریں گے، مشترکہ اعلامیہ

ہفتہ اپریل 22:38

سیئول/پیانگ یانگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) کوریائی رہنمائوں نے نفرت کی جنگ ختم کرنے کا اعلان کر دیا، شمالی و جنوبی کوریا مابین اب کبھی جنگ نہیں ہو گی، ملاقات میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور عسکری مذاکرات پر اتفاق کرلیا گیا،جنوبی کوریائی صدر روان سال شمالی کوریا کا دورہ کریں گے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے وزیراعظم کم جونگ ان اور جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے درمیان ملاقات کے دوسرے مرحلے میں ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے اور اعلیٰ سطح کے عسکری مذاکرات پر اتفاق کرلیا گیا ہے جبکہ جنوبی کوریا کے صدر رواں سال شمالی کوریا کا دورہ بھی کریں گے۔

دونوں رہنماو?ں کے درمیان مذاکرات میں شمالی اورجنوبی کوریا کی جنگ کیباعث علیحدہ ہونیوالیخاندانوں کوملانے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور بھی دیا ہے۔

(جاری ہے)

اس سے قبل شمالی کوریا کے وزیراعظم کم جونگ ان مختصر دورے پر جنوبی کوریا کے سرحدی شہر پنمن جم پہنچے تھے جہاں دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان 65 سال بعد پہلی بار ملاقات ہوئی۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے شمالی کوریا کے وزیراعظم کا پٴْر تپاک استقبال کیا۔

ایک دوسرے کے خلاف جنگ مسلط کرنے کے دعوی کرنے والے دونوں رہنماو?ں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ کم جونگ ان کو شاندار روایتی انداز میں سلامی دی گئی جب کہ دونوں ممالک کے ترانے بھی بجائے گئے اس سے قبل کم جونگ ان نے ’پیس ہاو?س‘ میں کتاب پر تاثرات درج کرتے ہوئے تحریر کیا کہ نئی تاریخ کا آغاز ہو گیا اور امن کا دور آ گیا ہے۔واضح رہے کہ کم جونگ ان 1953 کی کورین جنگ کے اختتام کے بعد جنوبی کوریا کی سرحد پار کرنے والے شمالی کوریا کے پہلے سربراہ بن گئے ہیں۔ اسی طرح شمالی کوریا کے سربراہ امریکی صدر سے ملاقات کے لیے رواں سال جون میں امریکہ بھی جائیں گے۔ امریکہ سمیت کئی ممالک نے دونوں کورین ممالک کے درمیان مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔