چین کیخلاف محاذ آزائی کی حکمت عملی اپنائے رکھنا بھارت کیلئے گھاٹے کا سودا ہے ،گلوبل ٹائمز

بھارت چین کو محدود کرنے کیلئے جاپان اور امریکہ کے ساتھ مل کر نیٹو طرز کا ایشیائی ممکنہ اتحاد قائم کر رہا ہے بھارت نے نہ صرف بیلٹ وروڈ منصوبے کی پرزور مخالفت کی بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک کو اسے مسترد کرنے کی دھمکی دی چین بھارت تنازعات مجتمع ہونے سے دونوں ممالک کے تعلقات کی کمزوری بے نقاب ہو گئی ہے ،بھارتی وزیراعظم کے دورہ سے قبل جامع رپورٹ

ہفتہ اپریل 22:45

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) چین تنازعہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا،،بھارتی وزیراعظم مودی کے دورہ چین خاص طور پر چین کے صدر شی جن پھنگ کے ساتھ غیر رسمی ملاقات سے قبل چین کے کثیر الاشاعت جریدہ’’ گلوبل ٹائمز ‘‘ میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین بھارت کو باور کرائے گا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری(((سی پیک))اقتصادی تعاون ہے اور یہ منصوبہ چین کی غیر جانبداری پر اثرانداز نہیں ہوتا ہے،رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سرحدی تنازعات حل کرنا دونوں ممالک کا کوئی فوری نوعیت کا کام نہیں ہے بیجنگ اور نئی دہلی دونوں کو چاہے کہ سرحدی علاقے میں امن و استحکام مشترکہ طور پر برقراررکھنا چاہے،اسی طرح بھارت کو چاہے کہ وہ تبت کو سودا بازی کے حربے کے طور پر ہرگز استعمال نہ کرے،،بھارت کو چاہے کہ وہ چین پر اعتبار کرے کہ وہ چین کی مخالفت والی بھارت۔۔

(جاری ہے)

بحرالکاہل حکمت عملی یا نیٹو طرز کے کسی ایشیائی اتحاد میں کسی صورت حصہ نہیں لے گا،رپورٹ کے مطابق 1987میں چین بھارت سرحدی جھڑپ چھڑ گئی1988میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی نے سابق چینی رہنما ڈینگ شیائوپنگ سے ملاقات کی جس سے چین بھارت تعلقات معمول پر آ گئے اس کے بعد دونوں ممالک نی30سال تک مستحکم ترقی کو برقرار رکھا،2017کے ڈوکلام تنازعے کے بعد 2018میں شی اور مودی کے درمیان ملاقات سے بلاشبہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور برابری کے جذبات کو فروغ ملے گا،اور یہ ملاقات چین اور بھارت کے درمیان مستحکم طویل المیعاد تعلقات کا سنگ بنیاد ہوگی،،مودی کا دورہ چین خاص طور پر شی کے ساتھ غیر رسمی ملاقات کا بظاہر مقصد صرف جون میں شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او)کے لیے تیاری کرنا نہیں ہے جیسا کہ چین کے نائب وزیرخارجہ کونگ شیوانگ یو نے کہا ہے جب دورہنما ملتے ہیں تو وہ ایک صدی میں دنیا میں رونما ہونے والی انتہائی گہری اور زبردست تبدیلیوں پر تزویراتی اور چین بھارت تعلقات کے مجموعی ،طویل المعیاد اہم امور کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہیں ،گذشتہ سال جون سے اگست تک ڈوکلام میں چین اور بھارت کے فوجوں کے درمیان 72روزہ فوجی بحران پیدا ہوگیا اور یہ جنگ کے قریب تھا اس نے چین اور بھارت کے تعلقات کو 1962کی چین بھارت سرحدی جنگ کے بعد سے ان کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا ،ڈوکلام کا معاملہ اچانک رونما نہیں ہوا بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی میں اضافہ کا نتیجہ تھا۔

بھارت چین کے بارے میں فکر مند اور غیر مطمئن تھا جب بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کیلئے درخواست دی تو چین کا رویہ اس کے بارے میں 5مستقل ارکان کے مقابلے میں انہتائی عدم مزاحمت والا تھا۔۔بھارت کی جوہری سپلائی گروپ کی رکنیت کی کوشش کی بھی چین نے اس بنا پر مخالفت کی کہ بھارت نے جوہری تجربات پر پابندی کے جامع معاہدے یا جوہری عدم تخفیف معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں،اگرچہ بھارتی درخواست کی مخالفت کرنے والے دوسرے ممالک بھی ہیں اس نے اپنی ناکامی کو چینی رکاوٹ سے تعبیر کیا۔

ان تنازعات کے بعد بھارتی حکومت اور میڈیا نے چین کو حریف ملک سمجھنا شروع کر دیا،،چین کو بھارت کے بارے میں اور بھی کئی شبہات ہیں اگرچہ بھارتی حکومت نے تبت کی علیحدگی پسندی کی حمایت نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے اس نے کافی عرصے سے علیحدگی پسندوں کو پنا دے رکھی ہے اور ایسے طریقے سے سرگرمیوں میں ان کے ملوث ہونے کی مہارت سے منظوری دی ہے جو بھارت میں چین کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہو ،حالیہ برسوں میں بھارت امریکہ اور جاپان کے انتہائی قریب آگیا ہے ،ایشیاء بحر الکاہل حکمت عملی میں واشنگٹن کے دورباہ توازن قائم کرنے پر امریکہ سے تعاون کر رہا ہے اور چین کو محدود کرنے کے لیے امریکہ اور جاپان کے ساتھ مل کر نیٹو طرز کا ایشیائی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت نہ صرف بیلٹ و روڈ منصوبے کا پرزور مخالف ہے بلکہ سری لنکا جیسے جنوبی ایشیائی ممالک کو خبر دار کیا ہے کہ وہ اسے مسترد کر دے،،چین اور بھارت کے درمیان تنازعات مجتمع ہوتے جا رہے ہیں جس نے چین بھارت تعلقات کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا اور دونوں ممالک کو اس بات کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا کہ بھارت اور چین کے درمیان محاذ آرائی ان کے مفادات میں نہیں ہے تنازعات کو کنٹرول کیا جانا چاہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے چین کے خلاف محاذآرائی کی حکمت عملی اپنائے رکھنے سے بھارت چینی سرمایہ کاری سے محروم ہو جائے گا اور اپنی فوج پر زیادہ سے زیادہ محدود وسائل کی سرمایہ کاری کرنے پڑے گی جس سے اس کی اقتصادی شرح نمو میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔