ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ، پاکستان نے بھارتی سیزفائر خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھادیا

ایل او سی پر بھارتی فوج کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا،بھارتی فوج ایل اوسی پر دراندازی کے جھوٹے بہانے سے شہریوں کو نشانہ بناتی ہے ،اس کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک 219 شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں، بھارت کی غیرپیشہ ورانہ،غیراخلاقی کارروائیاں اشتعال انگیز اور امن کے لئے تباہ کن ہیںڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی گفتگو ،آئی ایس پی آر

ہفتہ اپریل 22:56

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز(ڈ جی ایم اوز) کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا جس میں پاکستان کی جانب سے بھارتی سیزفائر کا معاملہ اٹھایا گیا۔ ہفتہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ((آئی ایس پی آر)) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا جس میں پاک فوج کے ڈی جی ایم او نے بھارتی فوج کی جانب سے کی جانب سے سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا گیا۔

پاکستان کے ڈی جی ایم او نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج ایل اوسی پر دراندازی کے جھوٹے بہانے کی آڑ میں شہریوں کو نشانہ بناتی ہے اور بھارتی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں رواں سال اب تک 219 شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جن میں 112خواتین اور بچے شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ڈی جی ایم او کا کہناتھا کہ بھارت کی غیرپیشہ ورانہ،غیراخلاقی کارروائیاں اشتعال انگیز اور امن کے لئے تباہ کن ہیں۔

خیال رہے کہ 26 اپریل کو بھارتی فوج نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر سیز فائز معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کر کے 2 شہریوں کو شہید اور 2 کو زخمی کر دیا تھا۔۔بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر گاں براملہ میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا۔۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، لیکن اس کے باوجود بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔