ریاست نے منصوبہ بندی کے تحت ملک میں علم،سوچ، فکر اور شعر و شاعری کو ختم کیا ہے،

آج ہم ایسے معاشرے میں گھوم پھر رہے ہیں جہاں فرقہ واریت ، عدم برداشت اور دہشتگردی ہے، میری یہ خواہش ہے کہ مجھے 60 ء کی دہائی کا پاکستان واپس دے دیا جائے سابق چیئرمین سینیٹ پروین شاکر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ''یادیں '' کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب

ہفتہ اپریل 23:01

ریاست نے منصوبہ بندی کے تحت ملک میں  علم،سوچ، فکر اور شعر و شاعری کو ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر ریاست نے منصوبہ بندی کے تحت علم،سوچ، فکر اور شعر و شاعری کو ختم کیا ہے، آج ہم ایسے معاشرے میں گھوم پھر رہے ہیں جہاں فرقہ واریت ، عدم برداشت اور دہشتگردی ہے، میری یہ خواہش ہے کہ مجھے 60 ء کی دہائی کا پاکستان واپس دے دیا جائے۔

ہفتہ کو یہاں پروین شاکر ٹرسٹ کے زیر اہتمام ''یادیں '' کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں رضا ربانی نے کہا کہ میں اپنی والدہ کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے بچپن سے ہی مجھے مطالعے کی عادت ڈالی۔ میرے والد کو بھی یہ اعزاز حاصل ہے کو انہوں نے قائد اعظم کی زندکی پر 5کتابیں لکھیں جب کا اثر مجھ پر بھی پڑا۔ آج جو کام پروین شاکر ٹرسٹ کر رہا ہے یہ کام ریاست کے کرنے کا ہے۔

(جاری ہے)

بدقسمتی سے پاکستان کے اندر ریاست اور حکومتوں نے اس بات کا فیصلہ کر لیا ہے کہ پاکستان کے اندر علم،سوچ، فکر اور شعر و شاعری کو سرے سے ختم کیا جائے ۔ماضی میں کافی شاپس ہوا کرتے تھے جہاں بیٹھ کر لوگ بحث و مباحصہ کرتے تھے۔ ان کافی ہائوسز کو پلان کے تحت ختم کیا گیا اور بعد میں آنے والی حکومتوںنے بھی اس پالیسی کو جاری رکھا۔ آج ہم ایسے معاشرے میں گھوم پھر رہے ہیں جہاں فرقہ واریت ، عدم برداشت اور دہشتگردی ہے۔

ہم نے اپنے معاشرے کے اندر سے ایک منصوبے کے تحت سوچنے سمجھنے کی عادت کو ختم کیا ہے تاکہ ایسے لوگ پیدا ہوں جو سوجھ بوجھ سے عاری ہوں اور اشاروں کے انتظار میں زندگی کزار دیں۔ میری یہ خواہش ہے کہ مجھے 60 ء کی دہائی کا پاکستان واپسدے دیا جائے۔ 60ء کے پاکستان میں میری والدہ اپنے ماں کے ساتھ سینیما دیکھنے جاتی تھیں ، فیض احمد فیض اور جون ایلیا کا کلام لوگ بلا خوف و خطر سنا کرتے تھے، اور ہماری جامعات میں کلاشنکوف نہیں بلکہ بحث و مباحثے ہوا کرتے تھے۔ مجھے 60ء کا پاکستان واپس کردو۔