دینی مدارس کی حریت و آزادی اور بقا کی جدوجہد میں ماضی کی طرح وفاق المدارس کے شانہ بشانہ کردار ادا کرینگے،مولانا فضل الرحمن

شمالی وزیر ستان میں مدرسہ نظامیہ کی بحالی ، دینی تعلیم کا نئے سرے سے اجرا ء بڑی پیش رفت ہے، تشدد کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ،پاکستان کو سیکولر یا لبرل بنانے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے،امتحانات کے کامیاب،پرامن اور شفاف انعقاد پر وفاق المدارس کے ذمہ داران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،وفد سے گفتگو

ہفتہ اپریل 23:10

دینی مدارس کی حریت و آزادی اور بقا کی جدوجہد میں ماضی کی طرح وفاق المدارس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد جبر کے ماحول میں کوئی دینی مدارس اور مذہبی طبقات بارے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل نہیں کر سکا اب تو حالات یکسر بدل چکے ہیں،دینی مدارس کی حریت و آزادی اور بقا کی جدوجہد میں ماضی کی طرح وفاق المدارس کے شانہ بشانہ کردار ادا کریں گے،شمالی وزیر ستان میں مدرسہ نظامیہ کی بحالی اور وہاں دینی تعلیم کا نئے سرے سے اجرا ء بڑی پیش رفت ہے، کسی بھی قسم کے حالات میں اور کسی خطے میں دینی تعلیم کا سلسلہ رکنے نہیں دیں گے،ہم نے تشدد کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ،اب پاکستان کو سیکولر یا لبرل بنانے کی بھی ہر گز اجازت نہیں دیں گے،امتحانات کے کامیاب،پرامن اور شفاف انعقاد پر وفاق المدارس کے ذمہ داران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے اعلی سطح کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مولانا محمد حنیف جالندھری جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت میں وفد میں وفاق المدارس سندھ کے ناظم مولانا امداد اللہ، ناظم بلوچستان مولانا مفتی صلاح الدین،مولانا مفتی محمد ابرار اور مولانا عبدالقدوس محمدی بھی موجود تھے۔

ملاقا ت کے دوران جمعیت علمائے اسلام اور وفاق المدارس کے قائدین کے درمیان کئی قومی، ملی اور دینی مدارس کے حوالے سے اہم امور پر مشاورت ہوئی۔۔مولانا فضل الرحمن نے وفاق المدارس کے قائدین کو ملک بھر میں پرامن اور شفاف طریقے سے لاکھوں طلبہ و طالبات کیلئے امتحانات کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے وفاق کے جملہ ذمہ داران کی کارکردگی کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا--مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نائن الیون کے بعدجبر اور دبا ئوکا ماحول تھا لیکن اللہ رب العزت کی توفیق سے ہم نے دینی مدارس،مذہبی اداروں اور جماعتوں کے تحفظ اور وکالت کا فریضہ کامیابی سے سرانجام دیا اور کسی کے دینی مدارس اور مذہبی طبقات کے بارے میں مذموم مقاصد کی تکمیل نہیں ہو سکی اب تو الحمدللہ حالات یکسر بدل چکے ہیں اس لیے اب ہم پہلے سے زیادہ بہتر انداز سے اپنی محنت جاری رکھے ہوئے ہیں-انہوں نے اپنے اس دیرینہ عزم کا اعادہ کیا کہ ماضی کی طرح آئندہ بھی وہ دینی مدارس کی حریت و بقا کی جنگ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین کے شانہ بشانہ ہوں گی--مولانا فضل الرحمن نے پاکستان میں سیکولر اور لادین قوتوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم کسی طور پر نظریہ پاکستان اور مقاصد پاکستان سے انحراف کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور ہر میدان میں پاکستان کے مذہبی تشخص کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کریں گی--مولانا فضل الرحمن نے شمالی وزیرستان میں مدرسہ نظامیہ کی بحالی اور وہاں تعلیمی سلسلے کے دوبارہ اجرا کو بڑی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ ہم نے جس طرح کل مذہب کے نام پر اپنے نوجوان کو تشدد کا راستہ اپنانے سے روکا اسی طرح آج بھی اپنے نوجوانوں کو قوم پرستوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہیے اور ملک وقوم کے مفاد میں کردار ادا کرنا چاہیی-اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ دینی مدارس نے نامساعد حالات میں بھی اپنا مشن جاری رکھا اور مدارس کے نظام و نصاب اور حریت و آزادی پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا اور آئندہ بھی دینی مدارس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی چھتری تلے دینی اور تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

دریں اثنا وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف جالندھری نے مولانا فضل الرحمن کو خیر المدارس ملتان میں جاری وفاق المدارس کے سالانہ امتحانات کی مارکنگ کے عمل کا مشاہدہ کرنے کیلئے ملتان کے دورے کی بھی دعوت دی۔