سعودی حکام کی ریسلنگ میں نامناسب مناظر نشر ہونے پر معذرت

ہفتہ اپریل 23:39

سعودی حکام کی ریسلنگ میں نامناسب مناظر نشر ہونے پر معذرت
ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل2018ء) سعودی عرب میں کھیلوں کے حکام نے ریسلنگ کے مقابلوں کے دوران نامناسب مناظر دکھائے جانے پر معذرت کی ہے۔ جمعہ کو سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں عالمی ریسلنگ انٹرٹینمنٹ یعنی ڈبلیو ڈبلیو ای کے اشراکت سے ریسلنگ کا ایونٹ گریٹیسٹ رائل رمبل منعقد ہوا تھا۔ سعودی عرب کی ثقافت کے پیش نظر ریسلنگ کے مقابلوں میں خواتین ریسلرز کو شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن مقابلے کے دوران مخصتر کپڑوں میں ملبوس خواتین کو بڑی بڑی سکرینوں پر نشر کی جانے والی تشہری ویڈیو میں دکھایا گیا۔

اس ویڈیو پر سعودی عرب میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر خوب تنقید کی گئی تھی کیونکہ سعودی خواتین اور بچے بھی ان مقابلوں کو دیکھنے والے 60 ہزار شائقین میں شامل تھیں جنھوں نے نیم برہنہ مرد ریسلرز کو ایک دوسرے کو رنگ میں ایک دوسرے کو چت کرتے دیکھا۔

(جاری ہے)

بی بی سی کے مطابق سعودی عرب میں ایک وقت تھا جب عوام کے لیے ریسلنگ کے مقابلے بالکل اجبنی تھے لیکن گذشتہ ایک یا دو برس سے کافی چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں اور اب بچوں اور خواتین سمیت 60 ہزار شائقین کی کثیر تعداد ریسلنگ کے مقابلے دیکھنے کے لیے جمع تھی۔

عالمی ریسلنگ انٹرٹینمنٹ ڈبلیو ڈبلیو ای پر اس ایونٹ سے پہلے ہی سعودی روایات کے سامنے جھکنے کے حوالے سے تنقید کی جا رہی تھی کیونکہ خواتین ریسلرز کو اس میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن جب ایونٹ شروع ہوا تو اس کو سعودی عرب کے متعدد ٹی وی چینلز پر نشر کیا جا رہا تھا اور اسی دوران مقامی احساسات کے برخلاف ایک تشہری فلم نشر کی گئی جس میں خواتین ریسلرز کو دکھایا گیا۔

سرکاری ٹی وی چینل نے اس موقع پر نشریات کو روک دیا لیکن پھر بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر قدامت پسند سعودیوں کی جانب سے خوب تنقید کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کے العربیہ ٹی وی کے مطابق سعودی عرب نے ڈبلیو ڈبلیو ای کے ساتھ دس سالہ معاہدہ کیا ہے جس کے تحت آئندہ دس برس تک سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ریسلنگ کے عالمی مقابلے منعقد ہوں گے جن میں مختلف کیٹیگریز کے عالمی شہرت یافتہ ریسلرز شریک ہوں گے۔

سعودی عرب میں گذشتہ دنوں 35 برس کے طویل وقفے کے بعد سنیما گھر کھلے تھے۔ اس کے علاوہ خواتین کو سٹیڈیمز میں جانے کی اجازت ملنے کے علاوہ رواں برس جون سے انھیں گاڑی چلانے کی اجازت بھی ہو گی۔ سعودی عرب میں آنے والی اس جیسی متعدد بڑی تبدیلیوں کا سہرا 32 سالہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو دیا جا رہا ہے جو روایتی طور پر ایک قدامت پسند ملک میں خود کو جدیدیت پسند کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔