تخت جاتی امراء والے کبھی انتخابات جیتے نہیں یہ الیکشن بناتے ہیں۔آصف علی زرداری

3ء میں دھرنوں کے دوران یہ پیک کر کے جانے کی تیاری میں تھے، جمہوریت کے لئے ساتھ دیا مگر نواز شریف سبق سیکھنے کی بجائے مغل بادشاہ بن گئے، مولانا فضل الرحمن سیاسی مخالف مگر زبان سے نہیں پھرتا اس پر اعتماد ہے مگر نواز شریف پر نہیں،نواز شریف نے پارلیمان، جمہوریت اور اداروں سے زیادتی کی ،سابق صدر و شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کی نجی ٹی وی سے گفتگو

اتوار اپریل 01:50

,اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) سابق صدر و شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جاتی امراء والے کبھی انتخابات جیتے نہیں یہ الیکشن بناتے ہیں۔2013ء میں دھرنوں کے دوران یہ پیک کر کے جانے کی تیاری میں تھے۔ جمہوریت کے لئے ساتھ دیا مگر نواز شریف سبق سیکھنے کی بجائے مغل بادشاہ بن گئے۔ مولانا فضل الرحمن سیاسی مخالف ہے مگر زبان سے نہیں پھرتا اس پر اعتماد ہے مگر نواز شریف پر نہیں۔

نواز شریف نے پارلیمان، جمہوریت اور اداروں سے زیادتی کی ۔سیاست میں آنے جانے پر کوئی ٹیکس نہیں لگتا۔ جانے والوں پر کچھ نہیں کہوں گا۔ انتخابات کے بعد ایم ایم اے سمیت کسی سے بھی اتحاد ہو سکتا ہے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اصل جمہوریت کے لئے بہت برداشت کیا۔

(جاری ہے)

ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کیا گیا ہزاروں کارکنوں کو قید کیا گیا ۔

بے نظیر اقتدار میں آئی تو کئی لوگ ایسے تھے جنہوں نے صرف جئے بھٹو کا نعرہ لگانے پر10، 10سال جیل کی سزا کاٹی انہوں نے کہا کہ میں نے خود12سال جیل کاٹی ۔ ہمارا قصور صرف یہ تھا کہ ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے صدر بن کر طوطے کی وہ جان نکال دی جو صدارت کے طوطے میں تھی اور پارلیمنٹ کے مانگے بغیر تمام اختیارات اسے دے دیئے۔

صوبوں کو حقوق دیئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کبھی انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کرتی یہ الیکشن بناتے ہیں۔2013ء میں یہ الیکشن بنا کر اقتدار میں آئے میں نے سوچا کہ یہ وزیراعظم بن کر حکومت چلائے گا اور ہم نے جمہوریت کے لئے تعاون کرنا شروع کیا۔ مگر نواز شریف جمہوریت کو چھوڑ کر شہزادہ سلیم بن گیا اور مغل بادشاہی کرنے لگا۔ انہوں نے کہاکہ 2013ء میں سیاسی طاقتوں نے نواز شریف پر حملہ کیا توہم نے اسے بچایا ورنہ یہ دھرنوں کے دوران جانے کے لئے پیک کر کے بیٹھے تھے۔

مگر اس کے باوجود یہ نہیں سدھرے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عاصم جس نے کبھی انکم ٹیکس کی چوری نہیں کی اس پر کرپشن کے مقدمات بنا دیئے گئے۔ ہمارے کارکنوں سے انتقام لیا گیا۔ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے انہوں نے کہ اکہ نواز شریف سے سیاسی اتحاد تھا دوستی نہیں تھی۔ مولانا فضل الرحمن میرا سیاسی مخالف ہے مگر وہ جو زبان دے کر اس سے نہیں پھرتا اس پر اعتماد ہے مگر نواز شریف پر اعتماد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کے دور میں جمہوریت ، پارلیمنٹ اور اداروں سے زیادتی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کی خاطر قربانی نہ دیتے تو 2013ء کے دھاندلی زدہ انتخابات کو تسلیم نہ کرتے اور مستعفی ہو کر کہتے کہ دوبارہ انتخابات کراؤ۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر ملک کی وزیراعظم تھیں یہ صرف جاتی امراء اور لاہور کے وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے 2018ء کے انتخابات صاف اور شفاف ہوں گے مگر جب تک انتخابات نہیں ہو جاتے یقین نہیں ہو سکتا۔

اگر انتخابات شفاف ہوئے تو پیپلز پارٹی اکثریت حاصل کرے گی یہ ضرور ہے کہ کوئی بھی جماعت اکیلے حکومت نہیں بنا سکے گی۔ عام انتخابات وقت پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست ایسا کھیل ہے جس میں کسی کی پہچان نہیں ہو سکتی ۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کو آج لوگ یاد کر رہے ہیں سیاست میں کسی کی زندگی میں لوگ اسے یاد نہیں رکھتے ۔ انہوں نے کہا کہ جانے والے کو ہمیشہ اجازت ہے ۔

سیاست میں نہ آنے والے پر کوئی ٹیکس لگتا ہے اور نہ ہی جانے والے پر لگتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جانے والوں پر کچھ نہیں کہوں گا پیپلز پارٹی پہلے 14نشستوں کے ساتھ بھی پارلیمنٹ میں رہی یہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ۔ انتخابات کے بعد دیکھیں گے کہ کس سیاسی دھڑے کو ساتھ ملانا ہے۔ ایم ایم اے سمیت کسی سے بھی اتحاد ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ میں ہماری اکثریت تھی جسے تسلیم کر کے نواز شریف نے رضا ربانی کا نام لیا تھا مگر میں ان کے قریب نہیں جانا چاہتا تھا اور پھر اگر دکھوں کے مارے بلوچستان کو موقع مل رہا تھا تو کیوں رکاوٹ بنتا ۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو سیاسی جماعت نہیں مانتا ۔ عام انتخابات میں آزاد امیدوار زیادہ کھڑے ہوں گے ان سے اتحاد ہو سکتا ہے۔ صادق سنجرانی سے امیدیں ہیں وہ میرے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ رضا ربانی سے کوئی ناراضگی نہیں ہے۔ صادق سنجرانی کو چیئر مین بنانا ہمارا اپنا فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم پیپلز پارٹی کا کارنامہ ہے۔ رضا ربانی صرف مصنف ہیں ۔

ایک سوال پر کہا کہ بے نظیر کی شہادت کے علاوہ کوئی بھی دل نہیں توڑ سکتا ۔ بے نظیر کی اپنی ایک شخصیت تھی وہ جہاں جاتی تھیں جلسہ ہو جاتا تھا وہ فون اٹھا کر کسی بھی بڑے ملک کے سربراہ سے بات کر لیتی تھیں مجھ میں ابھی وہ صلاحیت نہیں ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس اچھائی کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ان کے پاس وقت نہیں ہے ہم نے کبھی کسی جج کے خلاف وہ زبان استعمال نہیں کی جو نواز شریف استعمال کر رہے ہیں۔

ہمارے ساتھ بھی عدلیہ کا نامناسب رویہ رہا ہم نے تنقید بھی کی مگر ہماری تنقید ہمیشہ تعمیری ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پنجاب سے سینٹ کی نشست نکالنے پر خوشی ہے مگر ان کے پاس ارکان کی تعداد کم تھی پھر سیٹ کیسے نکالی۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر کے قتل میں پرویز مشرف اور بیت اللہ محسود کا براہ راست رابطہ نہیں تھا۔ مشرف کے ساتھ اندرونی اور بیرونی طاقتیں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا افتخار چوہدری سیاسی ہیں اور وہ اپنی سیاسی جماعت بنائیں گے۔ افتخار چوہدری کا اپنا ایجنڈا تھا جو اب سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر اور فاٹا والوں سے کہوں گا تھوڑا انتظار کریں ۔ ابھی اٹھارویں ترمیم پر پورا عمل نہیں ہو رہا جب عمل ہو گا تو انہیں گیس ، بجلی اور دیگر چیزوں پر حصہ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر کی دعاؤں سے صدر بنا تو چین کی آبادی اور خطے کے تناظر میں چین سے بہتر تعلقات بنائے اور پاک چین اقتصادی راہداری پر بات شروع کی۔

میں نے چین سے کبھی قرضہ نہیں لیا ہمارے دور میں افتخار چوہدری نے کچھ منصوبوں پر سٹے دیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری میں توانائی صرف ایک باب تھا دیگر منصوبے بھی اس کا حصہ تھے اور توانائی کے منصوبوں میں بھی تھر اور سندھ کا کوئلہ تھا ۔ جب میں صدر بنا تھا تو پہلا قدم ہی اقتصادی راہداری کا اٹھایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی موجودہ حکومت تخت لاہور نہیں بلکہ تخت جاتی امراء ہے یہ تو وہاں تک ہی محدود ہیں ۔

جنوبی پنجاب میں محرومیاں ہیں جنوبی پنجاب کو صوبہ بننا چاہیئے بہاولپور پر بھی بات کی جا سکتی ہے۔ کراچی میں اردو بولنے والوں کی محرومیاں نہیں محرومیاں صرف نائن زیرو کی ہیں۔ انہوں نے کہا خدا نے موقع دیا تو سب سے پہلے انسانی جانوں کو بچانے کے لئے اقدامات کریں گے۔ درخت نہ ہونے کی وجہ سے آکسیجن نہیں ہے اور لوگ ہارٹ اٹیک سے مر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم ہونا چاہیئے۔ انتخابات سے پہلے بھی یہ ہو سکتا ہے بعد میں بھی اس کا وقت ہے۔۔