اسلام اعتدال پسندی اور امن کا مذہب ہے،جو دوسرے مذاہب کا وجود تسلیم اوران سے مذاکرے پر یقین رکھتا ہے،جمعیت علماء اسلام

اتوار اپریل 01:50

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندرخان ایڈوکیٹ،مولانامحمدسلیم،حاجی قاسم خان خلجی،مفتی امان اللہ ودیگرنے مدرسہ تجویدالقران توحیدیہ میں جلسہ دستاربندی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام اعتدال پسندی اور امن کا مذہب ہے۔ جو دوسرے مذاہب کا وجود تسلیم کرتا اوران سے مذاکرے پر یقین رکھتا ہے، تمام مذاہب اور مسالک کو بقائے باہمی کے لئے امن و سکون اور صبر وتحمل کے مظاہرے کے ساتھ رہنا ہوگا۔

دوسرے کے عقائد و نظریات کا احترام کرتے ہوئے اپنے نظریے پر برقرار رکھا جاسکتا ہے،انہوںنے کہا کہ کسی دوسرے کے بارے میں منفی سوچ کا پرچار معاشرے میں خرابی کا باعث بنتا ہے۔ اور اس کا تجربہ پاکستان سمیت متعدد ممالک میں ہوچکا ہے کہ مذہب اور مسلک کے نام پر اختلافات کو ہوا دی گئی تو انتہاپسندی اور دہشت گردی نے جنم لیا۔

(جاری ہے)

جس سے امت مسلمہ کی قوت کا شیرازہ بکھر گیا۔

تمام گروہوں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنے عقیدے کو چھوڑو نہیں، کسی کے عقیدے کو چھیڑو نہیں کی بنیاد پر اپنی بات کرنی چاہیے ،جنگ اور دنگا فساد برپا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں صلح حدیبیہ سے ایسے طرز عمل کی مثال سنت نبوی سے ملتی ہے کہ جہاں خاتم الانبیا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کی تمام باتیں مان لیں اور امن کو ترجیح دی۔

جس سے اسلام کو پھیلنے کا زیادہ موقع ملا۔ انہوںنے کہاکہ اعتدال مذاہب اور مسالک کی ضرورت ہے۔ تاکہ معاشرہ صحیح معنوں میں امن و امان ترقی کرسکے انہوںنے کہاکہ سانحہ مستونگ کے شہداء کی یادمیں 12مئی کومتحدہ مجلس عمل کے زیراہتمام تاریخ شہداء اسلام کانفرنس ہوگی جس سے ایم ایم اے کے تمام قائدین خطاب کریں گے کانفرنس میں ہزاروں افرادشرکت کریں گے لہذاتمام مدارس اوردیندارعوام سے اس اسلامی اجتماع میںبھرپورشرکت کی دعوت دی جاتی ہے ۔