مظفرآباد‘55روز سے مشہور سیاسی و سماجی رہنما محمود مسافر نے احتجاج کو ختم کردیا

اتوار اپریل 13:10

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) 55روز سے مشہور سیاسی و سماجی رہنما محمود مسافر نے احتجاج کو ختم کردیا جبکہ گدھے اور اونٹ نہ ملنے پر حکومت آزادکشمیر اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میرے جانور واپس کریں ، میں ریاست سے جانا چاہتا ہوں جس ریاست میں شہریوں کو تحفظ نہ ملے وہاں رہنے سے بہتر ہے کسی دوسرے ملک میں چلا جانا چاہیے ، بیرون ملک سے نہ تو مجھے کسی نے امداد کی ہے نہ ہی قوم پرست تنظیموں سے میرا رابطہ ہے ، میں خدا پرست ہوں ! عوامی فلاح بہبود کی جنگ لڑرہا ہے ، کسی خدا ترس محمود نامی شخص نے لندن سی250پائونڈ بھیجیں تھے جبکہ مارچ کے دوران مختلف اضلاع سے گزرتے ہوئے عوام نے ساڑھے 16ہزار روپے کا چندہ دیا ہے ،الزام لگانے والوں کو میر اپیغام ہے کہ وہ تحقیقات کریں !۔

(جاری ہے)

اِن خیالات کا اظہار گزشتہ روزمحمود مسافر نے مظفرآبا دمیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اُنہوں نے کہا کہ میرا مقصد کسی کی دل ازاری نہیں ہے نہ عوامی مسائل اور فلاح بہبودکی جنگ کیلئے پرامن مارچ کیا گیا تھا جو کہ بھمبر سے شروع کرنے کے بعد ہمیشہ مظفرآباد داخل ہونے سے قبل کوہالہ پر ہی روک دیا جاتا ہے جو کہ انسانی حقوق کی پامالی ہے ! دونوں مرتبہ ڈپٹی کمشنر مسعود الرحمن ہی تھے جبکہ میرے منشور میں ہر بار لکھی گئی ہے بعض لوگوں نے من گھڑت الزامات لگا کر ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے ! جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے ! ، حکومت آزادکشمیر نے میری ایک اونٹنی اور دو گدھے پولیس کو ٹریننگ دینے کیلئے اپنی کسٹڈی میں رکھے ہوئے ہیں ، وہ مجھے واپس دے دیں ، میں ریاست سے جانا چاہتا ہوں کیونکہ جس ریاست میں اپنے شہری کیلئے نہ تو کوئی تحفظ اور عزت ہے وہاں رہنا اپنے آپ کو تذلیل کرنے کے برابر ہے ۔

اُنہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مجھے بیرون ملک سے فنڈنگ مل رہی ہے اور میرا تعلق قوم پرست تنظیموں سے ہے ، میں اُن کو باور کروانا چاہتا ہوں ، میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ہاں ایک انسانیت کے ناطے اُن سے تعلق ضرور ہے جبکہ مجھے 250پائونڈ کسی میرے ہمنام محمود نامی شخص نے بھیجے تھے اُس کے علاوہ امن مارچ کے سلسلے میں لوگو ں نے مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے ، 500,1000،2ہزار چندہ کے طور پر دیے گئے تھے جو کہ ساڑھے 16بنتے تھے اُس کے علاوہ نہ تو میر اکوئی خفیہ اکائونٹ نہ ہی رقم چھپائی گئی ہے ، اگر کسی کو یقین نہیں تو ادارے موجود ہیں ، تحقیقات کریں من گھڑت الزام لگا کر اپنا قد کاٹ نہ بڑھائیں ۔

آخر میں اُنہوں نے کہا کہ ’’میں اب آزادکشمیر کو الوداع کہنا چاہتا ہوں ، میرے 2بے زبان گدھے او رایک اونٹنی واپس کریں میں تتری نوٹ پار ہوجائونگا ، اب اِس ریاست میں رہنے کیلئے 1منٹ بھی مشکل ہوگیا ‘‘۔

متعلقہ عنوان :