مقبوضہ وادی میں بین القوامی سطح پر ممنوعہ کیمیکل ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں‘مشتاق محمود

بین الاقوامی سطح پر کشمیر کی تاریخ سے واقف اور جدجہد آزادی سے منسلک کشمیریوں کو بھر پور موقع ملنا چاہئے تاکہ بھارتی منفی پروپگنڈے کا توڑ کیا جا ئے

اتوار اپریل 15:00

ظفر آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) کل جماعتی حریت کانفرنس کے مندوب ،جموں و کشمیر پیپلز لیگ عالمی امور کے امیرانجینئر مشتاق محمودنے کہا ہے کہ مقبوضہ وادی میں بین القوامی سطح پر ممنوعہ کیمیکل ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں، ایک طے شدہ منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔بین الاقوامی سطح پر کشمیر کی تاریخ سے واقف اور جدجہد آزادی سے منسلک کشمیریوں کو بھر پور موقع ملنا چاہئے تاکہ بھارتی منفی پروپگنڈے کا توڑ کیا جا ئے۔

بین القوامی سطح پر تسلیم شدہ کشمیریوں کے بنیادی حق آزادی کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت سے پاکستان کشمیریوں کے جذبات کا ترجمان بن چکا ہے۔ حریت کانفرنس کے مندوب انجینئر مشتاق محمود نے یہاں مظفر آباد میں اخبار نویسوں سے بات چیت کر تے ہو ئے کہا کہ بھارت کشمیریوں کے بنیادی حق کو پامال کر نے کیلئے 1948سے ظلم و جبر کی پالیسی آزما رہا ہے،تسلسل سے اس جابرانہ پالیسی سے بھارت کو رسوائی کے سوا کچھ نہ ملا، اسکا ثبوت یہ ہے کہ کشمیری بھارتی بر بریت کے باوجود اپنے بنیادی حق کیلئے جد جہد میں مصروف عمل ہیں۔

(جاری ہے)

بھارت کی طرف سے بین الاقوامی ضمانت کے اندرجد جہد آزادی کو دبانے کیلئے تمام ظلم و بر بر یت پر دنیا کی مجرمانہ خاموشی پر ہر امن و آزادی پسند کو تشویش ہے۔۔مقبوضہ کشمیر کشمیریوں کے تسلیم شدہ بنیادی حق آزادی کی جدجہد جاری ہے، جس کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے، اور بھارت اس عظیم و حق پر مبنی جدجہد کو اسلام اور کفر کی جنگ قرار دیکر دنیا اور اپنے عوام کو دھوکہ دے رہا ہے۔

کشمیر کی تاریخ سے واقف اور جدجہد آزادی سے منسلک کشمیریوں کو بھر پور موقع ملنا چاہئے تاکہ عالمی سطح پر بھارتی منفی پروپگنڈے کا توڑ کیا جا ئے۔انجینئر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم اور دیگر قائدین کا دورہ بر طانیہ خوش آئندہ ہے ،آزادی کشمیر کے نمائندے حریت قائدین کو بھی موقعہ ملنا چا ہئے تھا، تاکہ مسئلہ کشمیر کی بھرپور موثر طریقے سے ترجمانی ہو تی۔

انجینئر کے کہا کہ مقبو ضہ کشمیر لہو لہان ہے، پر امن احتجاج کر نے والوں کوبھی گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وادی کے اندر بین القوامی سطح پر ممنوعہ کیمیکل ہتھیار استعمال کئے جا رہے ہیں، ایک طے شدہ منصوبے کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی بھارتی حکمران بھارت میں اپنے سیاسی مقاصداور اپنے جرائم چھپانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں،،بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے ہی قوانین کو بھی رسوا کر رہا ہے ۔

جسے 1956سے پر امن جدجہد میں مصروف عمل سینئر حریت لیڈر علیل غلام محمد خان سوپوری ہائی کورٹ سے رہائی کے باوجود گرفتار ہیں۔ اقوام عالم کو بھارتی اس بر بریت و ناانصافی کا نوٹس لینا چا ہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انجینئر نے کہا کہ شملہ یا کچھ اور ایسے آپسی معاہدے مسلہ کشمیر کی بین الاقوامی ضمانت پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔۔مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کو ئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے بلکہ کشمیریوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

یہ مسئلہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس کا حل بھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہی ہو نا چاہئے۔انجینئر مشتاق محمود نے کہا کہ تحریک آزادکشمیر کا بیس کیمپ ، چندخود غرض نادانوں کی وجہ سے ریس کیمپ بن چکا ہے،جہاں اپنے سیاسی اور ذاتی مفادات پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے، جنہیں چا ہئے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی بنیادی سہولیات اور آزادی کشمیر کو ترجیح دیں۔

اکثر سیاسی جماعتیںمسئلہ کشمیر کو نفل کی طرح لیتے ہیں جبکہ یہ ان کا فرض ہے۔انجینئر نے کہا کہ لبریشن سیل کو سیاسی مفادات کیلئے نہیں بلکہ صرف اور صرف تحریک آزادی کو اجاگر کر نے کیلئے استعمال کیا جا ئے۔ بھارت کے خلاف کشمیری من حیث القوم پر امن جد جہد میں مصروف عمل ہیں۔سید صلاح الدین سمیت کئی موجودہ عسکری کمانڈر بھی پہلے بھارت کے خلاف جمہوری پر امن جدجہد میں مصروف عمل تھے، لیکن تسلسل سے بھارتی ناانصافی پر مبنی پالیسی کی بنیاد پر پر امن تحریک آزادی کو ظلم و بر بریت سے دبا نے کی پاداش میں کشمیری ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

انہوں نے لاکھوں کشمیریوں کے قاتل بھارت کے برعکس بین الاقوامی ضمانت اور قانون کے تحت اپنے حق کیلئے لڑنے والے سید صلا ح الدین کوامریکہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دینے پر تشویش کا اظہار کیااور کہا کہ بھارتی پروپگنڈے کے توڑکیلئے ہمیں اپنا کردار ادا کر نا چا ہئے۔عالمی سطح پر بھارتی بر بریت کو عیاں کر نا چا ہئے ۔۔پاکستان کی وزارت خارجہ کو اپنے تمام سفارت خانوں کو کشمیر کے حوالے سے متحرک کر نا چا ہئے اور تمام سیاسی جماعتوں کو عالمی سطح پربیرونی ممالک میں موجود اپنے ممبران کی وساطت سے ایک دوسرے کو کم تر ثابت کر نے کے بر عکس مسلہ کشمیر اجاگر کر نے کو ترجیح دینی چا ہئے۔

کسی بھی انٹرنیشنل کانفرنس میں پاکستانی مندوب کی غیر حاضری سے بھارتی جھوٹے پروپگنڈے کو تقویت مل رہی ہے۔انجینئر نے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا کہ اہل پاکستان کی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ دلی لگائو اور ہمدردیوں کے باوجود تمام بڑی سیاسی تنظیموں کے قائدین اپنے سیاسی مقاصد کیلئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں ،،مسئلہ کشمیر پر تمام سیاسی جماعتوں کو جلسوں کا اہتمام کر نے پر زور دیا،انجینئر نے اقوام عالم کی مجرمانہ خاموشی کو توڈنے کیلئے میاں نوازشریف،، زرداری اور عمران خان کا اہل خانہ سمیت کشمیر میں بر بریت، انسانیت سوز المیے کے شکار کنن پوش پورہ، شوپیان کی آصفہ، نیلوفر، کٹھوہ کی آصفہ کے حق میں اپنے فیملی کے ساتھ مشترکہ احتجاج پر زور دیا۔

انجینئر نے کہا کہ آزاد کشمیر کی تمام سیاسی تنظیمیں اپنے اختلاف بھلا کربھارتی جابرانہ قبضے کے اندر لہو لہاں کشمیرکو مدنظر رکھ کر حریت کانفرنس ،تمام باقی تاجر، سول سوسائٹی،، سماجی ، صحافی و وکلاء یک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر لوکل اور عالی سطح پر مسلہ کشمیر کو اجاگر کر نے کو ترجیح دیں۔آدھی دنیا مسلہ کشمیر کو سمجھ چکی ہے ، انشا ء اللہ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے بھارت ظلم و جبر کے ہر حر بے آزماکر جد جہد آزادی اور کشمیریوں کے جذبے کو پامال نہیں کر سکا، لہذ جدو جہد کو جاری رکھ کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت مل کر رہے گا، شمالی وجنوبی کوریا کے آپسی میل سے ہند پاک کو اپنے اختلافات بھلا کر اپنے عوام کی بھلائی پر توجہ دینا ضروری ہے، مسلہ کشمیرکے حل سے اس خطے میں امن کے ساتھ خوشحالی آئے گی لہذا کشمیریوں کے حق پر مبنی جدوجہد ہند پاک کے غریب عوام کی جدوجہدقرار دیا، اس جدجہد کو دونوں ممالک اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں، بلکہ ہند پاک میں رہنے والی کثریت اپنے حکمرانوں پر مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلئے زور لگائیں۔