اپریل کے آخر تک آم کے باغات میں کیڑے و بیماریاں نقصان دہ حد سے نیچے آجاتی ہیں ،باغبان جائزہ اور سپرے جاری رکھیں،ماہرین زراعت

اتوار اپریل 15:00

فیصل آباد۔29 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) ماہرین زراعت نے کہاہے کہ اپریل کے آخر تک آم کے باغات میں زیادہ تر کیڑے و بیماریاں نقصان دہ حد سے نیچے آجاتی ہیں مگر باغبان ضرورت پڑنے پر جائزہ اور سپرے جاری رکھیں اور جڑی بوٹی مار زہروں سے جڑی بوٹیوں کا تدارک بھی کیاجائے تاکہ آم کے پھل کو نقصان سے بچایاجاسکے۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ باغبان بٹور کی کٹائی جاری رکھیں اور نائٹروجنی کھاد یوریا کی دوسری خوراک کے طور پر ایک کلو گرام فی پودا کھاد ڈالنے کے علاوہ پتوں پر چھوٹے غذائی اجزاء کا سپرے بھی کریں ۔

انہوںنے کہاکہ آم کے باغات میں وسط اپریل کے بعد آبپاشی کا وقفہ 20دن رکھنا ضروری ہے ۔انہوںنے کہاکہ منہ سڑی کے خلاف ضرورت کے مطابق سپرے کرنے ، تنوں پر بورڈ و پیسٹ لگانے سے بھی اچھے نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ چونکہ پھل کی مکھی آم کی فصل کو نقصان پہنچاتی ہے اسلئے اس کے خلاف پھندوں کا بھی مناسب انتظام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ باغبان مزید رہنمائی و مشاورت کیلئے ماہرین زراعت یامحکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :