شام میں امریکی فوجی اڈے پر فرانسیسی ایلیٹ فورس کی آمد ورفت کا دعویٰ

یہاںفورسز لانے کا مقصد امریکی فوج کی عدم موجودگی میں فرانسیسی فوج کو حرکت میں لانا ہے،فرانسیسی فوج

اتوار اپریل 15:20

انقرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اپریل2018ء) ترک خبر رساں ادارے نے مقامی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ فرانسیسی ایلیٹ فورس کی یونٹوں کے اہلکار شام کی الحسکہ گورنری میں رمیلان کے مقام پرقائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچ گئے ۔ خیال رہے کہ یہ علاقہ کرد جنگجوؤں کے زیرانتظام ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق فرانسیسی فوج کے ایک ذریعے نے ان خبروں کی تردید کی کہ امریکی فوج کی عدم موجودگی میں فرانسیسی فوج حرکت میں آئے گی۔

ذریعے کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی اڈے کو شام اور عراق میں آمد ورفت کے موقع پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ رمیلان کے فوجی اڈے پر آمد کا مقصد وہاں پر قیام کرنا نہیں۔تاہم بعض ذرائع کا کہنا تھا کہ فرانسیسی ایلیٹ فورس کے اہلکار اپنی بکتر بند گاڑیوں پر امریکی فوجیوں اور کرد جنگجوؤں کے ہمراہ منبج، الرقہ اور دیر الزور میں مشترکہ گشت بھی کریں گے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق کرد جنگجوؤں نے منج شہر میں فرانسیسی فوج کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔خیال رہے کہ شمالی شام کے پانچ مقامات پر فرانسیسی فوج کے 70 اہلکار موجود ہیں۔ یہ فوجی داعش کے خلاف سرگرم عالمی عسکری اتحاد کے مشن کا حصہ ہیں۔ انہیں تلہ المشتی النور، عین العرب،[کوبانی]، صرین، عین عیسیٰ اور خراب العاشق کے مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 29 مارچ کو شام میں ڈیموکریٹک فورس پر مشتمل کرد جنگجوؤں کے ایک وفد نے فرانسیسی صدر عمانویل میکروں سے ملاقات کی تھی۔فرانسیسی ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ صدر میکروں کرد فورسز اور ترکی کے درمیان عالمی برادری کے تعاون سے مذاکرات کے خواہاں ہیں۔